Home / حالات حاضرہ / خبریں / ای چلان،4ماہ میں ٹریفک خلاف ورزیوں میں 66فیصد کمی ہوئی

ای چلان،4ماہ میں ٹریفک خلاف ورزیوں میں 66فیصد کمی ہوئی

 

 

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا ای چالان سسٹم لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت پر نافذ کیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ کی ہدایات پر جاری ہونے والا الیکٹرانک چالان نظام خطے میں اپنی افادیت کے لحاظ سے پہلا اور منفرد نظام ہے۔ترجمان پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا ای چالان سسٹم کے حوالے سے کہناتھا کہ چار ماہ کے دوران ای چلاننگ نظام کی بدولت ناصرف ٹریفک خلاف ورزیوں میں 66فیصد کمی واقع ہوئی بلکہ تحقیق کے مطابق منظم ٹریفک سے مسافت کے دورانیہ میں 25فیصدکمی ہوئی۔ پراجیکٹ کی بدولت حادثات کی روک تھام اور ایندھن کی بچت میں بھی مدد مل رہی ہے۔ ای چالان سسٹم کو پنجاب پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ سیف سٹی ٹیم ای چلاننگ کے قواعد و ضوابط کے مطابق بلا امتیاز کارروائی کرتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری و نجی استعمال کی تمام گاڑیوں پر ای چالان نظام کا مساوی اطلاق ہو رہا ہے۔

۔ترجمان پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ قانون کا اطلاق آئین کے مطابق معاشرے کے تمام طبقات پر یکساں ہوتاہے۔صرف ایمبولینسز اور منظور شدہ سیکیورٹی آپریشنز کے دوران استعمال شدہ گاڑیاں قانون کے مطابق ای چالان سے مبرا ہوتی ہیں۔ بعض قومی و بین الاقوامی میڈیا ہاؤسز ای چالان کے خلاف افواہ سازی اور غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کررہے ہیں۔ بدقسمتی سے بعض اداروں نے ای چالان کو اپنے خلاف کارروائی سمجھا جبکہ ایسا نہیں ہے۔ سیف سٹی ٹیم کسی خاص گروپ یا میڈیا ہاؤس کو ٹارگٹ نہیں کررہی۔ ادارہ ایسے تمام پراپیگنڈا کا جواب دینے کی بجائے عوامی تحفظ کے مشن پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ سیف سٹی کا تمام نظام مکمل محفوظ اور مربوط ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پراپیگنڈا کی بجائے ای چالاننگ سسٹم کی زد میں آنے والے تمام افراد اور ادارے اپنے عملے کو ٹریفک قوانین کا پابند بنائیں۔

Check Also

فیس بک اور واٹس ایپ کی اندرونی لڑائی پہلی بار منظر عام پر آگئی

فیس بک نے 2012ءمیں انسٹاگرام اور 2014ءمیں واٹس ایپ بالترتیب 1ارب ڈالر اور 19ارب ڈالر ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: