Breaking News
Home / ادب / شعرو ادب / شاعری / "ہم بڑے ہو گۓ”

"ہم بڑے ہو گۓ”

انتخاب فوزیہ وحید
مسکراہٹ تبسم ہنسی قہقہے
سب کے سب کھو گئے
ہم بڑے ہو گۓ
ذمہ داری مسلسل نبھاتے رہے
بوجھ اوروں کا بھی ہم اٹھاتے رھے
اپنا دکھ سوچ کر روئیں تنہائی میں۔
محفلوں میں مگر مسکراتے رھے
کتنے لوگوں سے اب مختلف ہو گۓ
ہم بڑے ہو گۓ
اور کتنی مسافت ھے باقی ابھی
زندگی کی حرارت ھے باقی ابھی
وہ جو ہم سے بڑے ھیں سلامت رہیں۔
ان سبھی کی ضرورت ہے باقی ابھی۔
جو تھپک کر سلاتے تھے خود سو گئے۔
ہم بڑے ہو گۓ
ختم ہونے کو اب زندگانی ہوئی
جانے کب آئ اور کیا جوانی ہوئی
دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہو گیا
جو حقیقت تھی اب وہ کہانی ہوئی۔
منزلیں مل گئیں
ہم سفر کھو گئے
ہم بڑے ہو گۓ

Check Also

کارٹون بھی بڑھتی عمر کے اثرات سے متاثر

پبلک حیران۔۔۔۔۔۔کارٹون پریشان مرتبہ فوزیہ وحید اوسلو   Related

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: