Home / ادب / ہمارے بزرگ ہماری رونق

ہمارے بزرگ ہماری رونق

شازیہ عندلیب
نائمہ کو اچانک موسم گرماء میں الرجی نے آن گھیرا۔اس وجہ سے اس کیلیے روزمرہ کے کاموں میں بہت ذیادہ مسلہء رہنے لگا تھا۔کبھی معدے میں گڑ بڑ کبھی جسم میں درد اور کبھی چھینکیں ناک میں دم کر دیتیں۔ اس دوران وہ لوگ نئے گھر میں شفٹ ہو گئے۔جو پہلے گھر سے ذیادہ آرام دہ تو تھا کھلا بھی تھا مگر اسے سنبھالنا بھی ایک مسلہء تھا۔نائمہ اپنی بیماری کا ہر علاج اور پر ہیز آزما چکی تھی مگر مکمل صحتیاب نہیں ہو پا رہی تھی۔
نئے گھر میں اسکی ساس کے لیے بھی علیحدہ کمرہ تھا۔اب وہ بھی اپنی بیٹی کے گھر سے یہاں شفٹ ہو گئی تھیں۔نائمہ سے تو گھر کے کام کاج مشکل سے ہو پاتے تھے کجا یہ کہ وہ گھر اور بچوں کے ساتھ ساتھ ساس کو بھی سنبھالتی۔ بہت مشکل تھا۔نائمہ کے شوہر تو کام سے تھکے ہارے آتے تھے۔بچے اپنے اسکولں کے کاموں سے ہی تھک جاتے تھے۔پھر یورپین ممالک میں پیسہ تو بہت ہوتا ہے مگر ملازم پاکستان کی طرح نہیں ملتے۔اگر ملازم رکھنا ہے تو پھر تنخواہ بہت ذیادہ دینی پڑتی ہے جو کہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔اسکی ساس تھیں تو بہت خوش مزاج مگر پھر بھی بڑہتی عمر کے ساتھ اب پہلے والی چستی نہیں رہی تھی۔ذیادہ سے ذیادہ سبزی ہی بنا کر دے سکتی تھیں۔نائمہ کا شوہر انکا لاڈلا بیٹا تھا جو انہیں بہت منتوں مرادوں کے بعد ملا تھا۔وہ اس سے دور نہیں رہنا چاہتی تھیں۔
نائمہ بھی بہت محبت کرنے والی بہو تھی۔اسے اسکی نانی اماں نے پالا تھا۔جب وہ ضعیف ہو گئیں تو ا س نے انکی خوب خدمت کی ۔بس وہی تجربہ اب ساس کو سنبھالنے کے لیے کام آیا۔اسے کئی سہیلیوں نے دبی آواز میں ساس کو اولڈ ہاؤس چھوڑنے یا انکی سروس حاصل کرنے کا اشارہ بھی دیا۔لیکن اسے یہ بات ہر گز گوارہ نہیں تھی کیونکہ وہ بزرگوں کو اپنے گھرانے کے لیے رحمت سمجھتی تھی۔پھر یہ خوبصورت وسیع بنگلہ بھی تو اسے ساس کی دعاؤں سے ہی ملا تھا۔وہ انہیں غیروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔اسکی نند بھی اسکی مدد کردیتی تھی اور اپنی ماں جی کو اپنے گھر لے جا کر رکھتی تھی۔اس طرح نائمہ کے لیے بھی آسانی ہو جاتی اور اسکی نند اپنے حصے کا پیار سمیٹ لیتی۔چند ماہ اسی طرح گزر گئے شروع میں ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اسکی ا لرجی ٹھیک نہیں ہو گی ۔لیکن چند ماہ بعد ہی اسے افاقہ محسوس ہونا شروع ہوا۔وہ بیماری جو ایک سا ل سے اسے تنگ کر رہی تھی۔اب ساس کے آنے کے بعد آہستہ آہستہ جانے لگی۔وہ دن رات اٹھتے بیٹھتے اسے دعائیں دیتی رہتی تھیں۔کچھ ہی عرصہ گزرا کہ اکی الرجی یوں غائب ہو گئی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔اسکی سہیلیاں بھی یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں۔
گھر میں ساس کے آ جانے سے کافی رونق ہو گئی تھی۔اب انکی یاد داشت گو کہ اتنی اچھی نہیں تھی لیکن پھر بھی انہیں پرانے قصے خوب یاد تھے۔جب نائمہ کی سہیلیاں آتیں وہ انہیں دوسری جنگ عظیم کے قصے ہٹلر،ر گسٹاپو اور روسی فوجوں کے واقعات سناتیں جو ان کے بچپن میں پیش آئے۔ہندوستان کی تقسیم کے وقت ہندؤں سکھوں اور مسلمانوں کی ہجرتوں کے دلوں کو گرما دینے والے واقعات سب انہیں خوب یاد تھے۔نائمہ کی سہیلیاں اپنے بچوں کے ساتھ ان سے یہ ماضی کے قصے سن کر بہت خوش ہوتیں ۔پھر انہیں صحت کے مسائل کے بہت سے نسخے بھی یاد تھے جو وہ سن کر اس سے فائدہ اٹھاتیں۔اب نائمہ کی خدمت نے نہ صرف اسے صحت مند کر دیا بلکہ اسکا شوہر جو پہلے کبھی کبھاتر چڑ چڑاسا ہو جاتا تھا اب اسکا رویہ بھی بہت بہتر ہو گیا۔اسکا گھر انہ گویا چھوٹی سی جنت بن چکا تھا۔نائمہ نے اپنی ساس کی خدمت کر کے نہ صرف خوشگوار زنگی کا راز پا لیا تھا بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک قابل تقلید مثال قائم کر دی تھی کہ بزرگ گھر بھر کے لیے کسی رحمت سے کم نہیں ہوتے۔یاد رکھنے کی بات ہے کہ بزرگوں کو غصہ کچھ ذیادہ آتا ہے ،یاد داشت کمزور ہو جاتی ہے اووہ ایک ہی بات بار بار دہراتے ہیں۔ اس وقت اگر انسان یہ سوچ لے کہ جب ہم چھوٹے تھے تب ہمارے بزرگ بھی اسی طرح ہمیں سنبھالتے اور برداشت کرتے تھے دوسرے ایک لڑکی جب اپنی ماں کے غصے اور ناراضگی کو برداشت کرتی ہے تو اپنی اس ساس کے غصے کو کیوں نہ برداشت کرے جس نے اپنا بیٹا اس کے حوالے کر دیا۔جس ماں نے اپنے بیٹے کو پال پوس کر دیکھ بھال کر کے اس کے ساتھ جیون بتانے کے لیے دے دیا کیا اس ماں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا تو پھر وہ بیٹا بھی ایسی عورت کو کب تک برداشت کرے گا جو اکسی ماں کو برداشت نہیں کر سکتی۔
ہاں کچھ تنگ نظر ساسیں بہوؤں کو تنگ کرتی ہیں رعب دھونس شکووں سے توا سکے لیے بہوؤں کو شوہر کے علاوہ خاندان کے کسی فرد کے ساتھ مل کر اچھا ماحول بناناچاہیے۔یہ اس لیے ضروری ہے کہ خاندان معاشرے کی اکائی ہے اگر خاندانوں میں سکون نہیں ہو گا تو معاشرے کو ہم اچھے افراد نہیں دے سکیں گے۔
بہو چاہے ساس کے ساتھ رہے یا نہ رہے مگر اپنی خوشگوار زندگی کے لیے اس سے خوش گوار تعلقات ضرور بنائے۔اب تو یہ بات ایک مغربی ریسرچ سے بھی ثابت ہو چکی ہے۔
اب رہ گیا سوال سسر کاتو انکی اہمیت بھی اپنی جگہ ہے۔یہ موضوع اگلی مرتبہ۔۔۔

Check Also

آگے بڑھنے کیلئے ، منفی خیالات سے چھٹکارا !

آگے بڑھنے کیلئے ، منفی خیالات سے چھٹکارا ! (شیخ خالد زاہد) ہم اپنے آپ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: