Breaking News
Home / کالم / مدینے کی گلیاں مدینے کی رونق

مدینے کی گلیاں مدینے کی رونق

MLS
باعث افتخار
انجینئر افتخار چودھری
۔ نعتیں تو سب ہی اچھی ہیں آج جب یہ سنتا ہوں آقا میریاں اکھیاں مدینے وچ رہ گئیاں تو آنکھوں سے آنسو ٹپکتے ہیں۔کہاں مدینہ اور کہاں سگ مدینہ۔سبز گند کے سائے تلے فرش پر نیم دراز ہو کر گنبد کو دیکھنے والی آنکھیں مدھم ہو رہی ہیں۔باب السلام سے دخول ،پیارے نبیﷺ کے روضہ ء مبارک سے گزرنا خاموشی ایسی کہ ہوا کی آواز بھی تھم تھم کے گزرے۔باب جبریل سے نکل کر پھر اسی گنبد کو دیکھنا۔کہاں ہیں وہ اکھیاں۔بس ایک کام کرتا ہوں میری ایک بیٹی بنی ہوئی ہے اللہ والی ہے کہتی ہے انکل درود پڑھ کر آپریشن والی آنکھ پر لگا لیا کریں۔انشاء اللہ زیارت ہو جائے گی۔دعا کیجئے وہ شہر پھر دیکھوں اس کی گلیاں اس کے بازار پھر ہوں اور ہم ہوں۔کچھ دیر پہلے مدینہ منورہ سے چھوٹے ب دلدار کا فون تھا۔کتنے نصیبوں والے ہیں جن کے روز و شب وہاں گزرتے ہیں۔س نے بتایا ابو جی ہم علی صبح پہنچے ہیں اور روضہ ء رسولﷺ پر حاضری بھی دی جمعے کی نماز حرم میں پڑھی ہے یہاں کی فضاء میں گئے عشرے کی تلخیاں موجود ہیں لیکن میرا اللہ اس ماہ منور کے صدقے سب ٹھیک کر دے گا۔ذکر مدینے کا مدینے والے سے جڑا ہوا ہے۔میرا جی چاہتا ہے میں بیتے دنوں کی باتیں اپنے قارئین کو بتاؤں
یہ مدینہ منورہ میں گزارے میری زندگی کے خوبصورت ترین دنوں کی یادیں ہیں۔یاد داشتیں عموما وہ لوگ لکھتے ہیں جنہوں نے زندگی کے اعلی پائیدان پر پاؤں رکھ دیا ہو۔میں وہ تو نہ کر سکا مگر ان تریسٹھ سالوں میں میرے اللہ نے مجھ پر بڑے کرم کئے ۔میں تین بار وہاں ملازمت کے لئے گیا۔چلئیے میرے ساتھ لیکن ایک کام ضرور کر لیجئے پیارے نبیﷺ پر درود و سلام پڑھ لیجئے۔۔میرے اللہ کی یہ زمین بہت خوبصورت ہے مگر میں تو اس خوبصورت ترین جگہ میں رہ آیا ہوں جس کی خاک کو آنکھوں کا سرمہ بنانے کی تمنا مجھے بھی تھی ہے اور آپ کو بھی ہے۔
میں ۱۹۷۷ کی اس رات کا بھی ذکروں گا جس رات ہم ہینو ڈمپر ٹرک کی باڈی میں بیٹھ کر حج کرنے کے بعد مدینہ پہنچے۔گوہر رحمن میرا ننھیالی رشتے دار تھا ۔لورہ چوک میں رہتا تھا بنیادی طور پر چوک میں رہنے والوں کی بڑی تعداد پہاڑوں سے اتر کر وہاں کی بسنیک ہوئی ہے۔والدہ صاحبہ کے ایک کزن چودھری بہادر تھے جن کے نام پر بستی بہادر آباد بھی موجود ہے۔یہ موضع لسن کے چیچچی گجر ہیں۔ان کا بیٹا گوہر رحمان ستر کی دہائی میں ریاض سعودی عرب چلا گیا۔گوہر رحمان نے ہمارے ساتھ حج کیا۔ہم لوگ چھپ چھپا کے شہر مدینہ پہنچے اکثر کے پاس اقامتی ویزے نہ تھے ۔ان دنوں عمرے ویزے پر بہت سے لوگ سعودی عرب گئے تھے ۔ ڈرے سہمے ہم آدھی رات کے وقت مدینہ شریف پہنچے۔فجر کی نماز کے وقت شہر مصطفیﷺ میں داخلے کا اذن ملا۔دن وہیں گزارا تو شام کو واپسی ہوئی ۔جب مدینہ منورہ کی پرانی چوکی
سے باہر آئے تو گوہر رحمن نے ٹرک رکوایا اور سڑک سے دور چلا گیا واپسی پر اس نے بتایا کہ میں نے مدینے میں مناسب نہیں سمجھا کہ اس شہر میں حوائج ضروریہ سے عہدہ براء ہوں۔یہ جذبہ اور سوچ تھی اس بھولے گوہر کی۔آج وہ اس دنیا میں نہیں ہے۔
میرا خالہ زاد بھائی درایمان فالکن فیٹ کمپنی میں کام کرتا تھایہ اقبال سہگل کی کمپنی تھی ۔اسی کمپنی میں ایک جوان العمر شخص سے ملاقات ہوئی جس کا نام منشاء تھا جو بعد میں میاں منشاء کے نام سے مشہور ہوئے۔کسی نے بتایا سہگلوں کے داماد ہیں۔ ان کا نام سن رکھا تھا رشید نامی ایجینٹ سے جب کزن کے ویزے کا معاملہ خراب ہوا تو اس کا کہنا تھا کہ میاں منشاء نامی شخص ان معاملات کے پیچھے ہے۔
میری پہلی نوکری موئسسۃ الحسینی میں ہوئی یہ ۱۹۸۴ کی بات ہے۔اس کمپنی کے مالک خاقان عباسی تھے جن کی پارٹنر شپ عبدالعزیز حسینی کے ساتھ تھی۔شارع سلطانہ پر مفروشات العامر کے ساتھ جنرل موٹرز کی ایجینسی میں کام کیا میرے جنرل مینجر بریگیڈئر تاج تھے۔خاقان عباسی جنرل مشرف دور میں وزیر تھے اوجھڑی کیمپ کے دھماکوں میں اللہ کو پیارے ہوئے یہ شاہد خاقان عباسی کے والد تھے۔یہ جگہ اس کنویں کے قریب تھی جو حضرت عثمان رض نے ایک یہودی سے خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کیا تھا۔الحسینی جنرل موٹرز اور بی ایم ڈبلیو کی مدینہ میں ایجینسی تھی اس کے سروس ڈیپارٹمنٹ کے مینجر کی حیثیت سے میں ے وہاں سال بھر کام کیا۔دوسری بار ۱۹۹۲ میں ایئر پورٹ روڈ پر جنرل موٹرز کی ایجینسی میں میری نوکری ہوئی۔میں نے اپنے بچے وہیں جدہ میں چھوڑے ۔جدہ کا گھر اسکول کے پاس تھا۔ادھر مدینہ میں پاکستانی اسکول نہیں تھا جس کی وجہ سے انہیں ساتھ لانا مناسب نہ سمجھا۔اپنے دیرینہ دوست جہانگیر خالد مغل کے ہاں ٹھکانہ کیا۔ہم دوست اس جگہ کو آستانہ ء جہانگیریہ کہا کرتے تھے۔مسجد ابی ذر غفاری کے پاس اندر گلی میں ایک پرانی سی بلڈنگ میں دو کمروں کا گھر تھا۔ایک کو ہم بیٹھک کے طور پر استعمال کرتے اور دوسرے کمرے میں سو جاتے۔حج اور رمضان کے دنوں یہاں بڑی رونق لگی رہتی۔جہانگیر بھائی کمال کے انسان ہیں بردبار ٹرک اوپر سے گزر جائے اف نہ کرتے ۔بڑے واقعات بڑی یادیں وابستہ ہیں اس گھر سے۔اب تو حرم کی توسیع میں مسمار ہو گیا ہے۔شہر کی ایک بڑی سڑک پر افغانی تنور اور اسلام آباد ہوٹل کے ساتھ آگے گی میں یہ گھر واقع تھا۔گھر میں پاکستان کی نامور شخصیات آیا کرتی تھیں۔جب کبھ زیادہ مہمان ہوتے تو ہم لحم مندی دجاج مندی کے تھال لے آیا کرتے۔یہیں احمد فراز بھی آئے قمر زمان کائرہ کے تایا حاجی اصغر کائرہ میاں طفیل محمد، خلیل حامدی، چودھری اختر وریو عطاء الحق قاسمی، احمد ندیم قاسمی غرض ایک رونق سی لگی رہتی۔کشمیری مجاہد عبدالمجید ڈار شہید،جناب حافظ ادریس۔اللہ نے ہمیں بڑا موقع دیا اس کے نبیﷺ کے مہمانوں کی پذیرائی کی۔آ ج پتہ نہیں مدینے کی یہ گلی کیوں یاد آ گئی۔رمضان میں ہم پاکستانی حرم میں اپنا دستر خوان لگایا کرتے۔دہی کے ڈبے کعک گول سی روٹی۔عصر کے بعد میں اور نعیم مغل جہانگیر صاحب کا چھوٹا بھائی جو چند سال پہلے اس دنیا سے چلا گیا۔اسد کیانی بھی ہمارے ساتھ ہوتا میں دہی کے چالیس پچاس ڈبے کمر پر رکھ کر گلی میں نعرے لگاتا رنگ بڑنگے دہی کہتا اپنے آقاﷺ کے روضے کی طرف نکل جاتا۔ہم پاس سے گزرنے والے کو دعوت دیتے کہ ہمارے سفرے پر آ جاؤ۔مدینے کی گلیاں اور مدینے کی رونق اللہ اکبر اللہ اکبر۔افطاری شروع میں تو سادہ ہی ہوا کرتی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دستر خوان پر بادام،کاجو بھی شامل ہو گئے۔مدنی مسافروں کو علم ہے افطار کے وقت لوگ بازو کھینچتے ہیں کہ آئیں ہمارے دستر خوان کو زینت بخشیں۔عربی دکا ایک مصالحہ بڑے غضب کا ذائقہ رکھتا ہے اسے دہی میں ملا کر کعک(گول سی روٹی) کے ساتھ کھانے کا جو مزہ آتا ہے وہ میں نے آج تک کسی اور کھانے میں نہیں دیکھا۔جی چاہتا ہے مدینے میں گزری ان گھڑیوں ان مہ و سال کے تذکرے کروں ان دوستوں ساتھیوں کی یادیں لکھوں جو دراصل تھے تو مہمان اللہ کے نبیﷺ کے مگر ان کی خدمت کرنے کا موقع ہمیں بھی ملا۔کئی اور نام یاد آ گئے جسٹس نسیم حسن شاہ،جاوید میاں داد،شکیل احمد،غلام سرور خان،چودھری عبدالستار وریو،خوش اختر سبحانی فہرست بہت لمبی ہو جائے گی۔
ایک بار ایک کشمیری مجاہد ہمارے مہمان بنے۔جہانگیر خالد جماعت اسلامی کے قریب تھے دروس قرآن کی مجالس میں میں بھی شریک ہوتا تھا میرا اپنا بنیادی تعلق جمعیت سے تھا تو اس حوالے سے میرے اور جہانگیر بھائی کے مہمان بعض اوقات مشترکہ ہوا کرتے تھے۔میں نے ایک باربی سی سی آئی کے آغا صاحب کا بھی تذکرہ بھی کیا تھا۔۱۹۸۵ کے دور میں میری دوستی ملک جلیل سے بھی ہوئی یہ میرے ساتھ مزدا میں کام کر چکے تھے انہوں نے سیدنا حمزہ روڈ پر ایک خوبصورت ہوٹل طباق کے نام سے بنایا جس میں حنیف عباسی لاثانیہ والے ان کے پارٹنر تھے۔ان کے ہوٹل میں اپنے مہمانوں کی خاطر داری کیا کرتا تھا۔جلیل بعد میں پنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر بھی بنے۔ادھر باب مجیدی کے سامنے تنگ و تاریک گلیوں میں ایک چھوٹا سا ریسٹورینٹ بھی تھا جہاں میں جمعرات کو جایا کرتا تھے اس ہوٹل کے مالکان کہوٹہ کے قیوم قریشی اور ندیم قریشی دو بھائی تھے۔بڑے جی دار مخلص اور پیارے دوست۔یہ ایک ڈھابہ سا تھا لیکن حرم کے قریب ہونے کی وجہ سے بڑا چلا کرتا تھا یہ آج سے تیس سال پہلے کی بات ہے۔انہی دنوں ضیاء دور میں پاکستان کی فوج بڑی تعداد مین تبوک خمیس مشیط میں موجود تھی مدینے میں جمعرات اور جمعے کو رونق لگ جاتی۔ اس ریسٹورینٹ کو نظر لگ گئی کشمیری النسل ایک قاری صاحب سے قیوم کی ان بن ہو گئی اور وہ اسلام آباد ہوٹل بھائیوں کے ہاتھوں نکل گیا۔سعودی عرب میں پاکستان اور انڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے انہی پائی ہوئی ہے ان لوگوں کو نیشنیلٹیاں ملی ہوئی ہیں ان میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو حضرت موسی کے نابینے کی مانند ہیں جس کے بارے میں انہوں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ میرے رب سب بچے کھیل رہے ہیں اس بیچارے کو کیوں اندھا بنا دیا ہے اللہ نے اسے آنکھیں دیں اور اس نے بچوں کو ڈھبکیاں دینا شروع کر دیں۔بس سمجھ لیجئے یہی وہ انہے ہیں جنہوں پاکستانیوں کی مجبوریوں کا علم ہے اور ان کا جب جی چاہتا ہے ان کے کھیسے سے رقوم نکال لیتے ہیں۔ان مین ایک نئی کھیپ انویسٹرز کی
بھی شامل ہو گئی ہے جو وہیں مزدوری کرتے رہے اور وہیں انویسٹمنٹ کمپنیاں کھول کر بیٹھ گئے گویا پاکستانی رہتے ہوئے بھی کفیل بن گئے۔اس پر تفصیل پھر لکھوں گا۔لیکن یہاں اس ہوٹل کا نوحہ لکھ رہا ہوں جہاں بھٹو دور میں دھتکارے گئے یو بی ایل کے چیف آغا حسن عابدی دو رنگی چپل پہنے مجھے ملے۔اس واقعے کو پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔ایک جمعرات کی شام کو میں اسلام آباد ہوٹل میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جانی پہچانی سی شخصیت وہاں آئی اور کہنے لگے بھائی مکس چائے مل سکتی ہے۔میں سمجھ گیا حضرت کو شوق ہے اور وہ تھیلی والی چائے کے ستائے ہوئے ہیں۔ میں نے انہیں زبردست چائے پلائی۔باتوں باتوں میں پتہ چلا یہ بی سی سی آئی کے سربراہ ہیں۔کہتے ہیں یہودی ساہو کاروں نے اگر اس بینک کا خاتمہ نہ کیا ہوتا تو ہو سکتا ہے وہ دنیا کے بینکوں کو کھا جاتا۔آغا حسن عابدی دو چار دن وہیں آتے رہے۔چوراسی میں میاں طفیل احمد امیر جماعت اسلامی،جناب مولانا خلیل حامدی،مدینہ آئے۔میرے پاس نئے ماڈل کی کاپرس گاڑی تھی۔جو میں نے یحیحی بن لادن کی کمپنی سے خریدی تھی۔گاڑی ٹھیک ہونے آئے تھے اور بری طرح نقصان زدہ تھی۔میں نے سید احمد المحضار جو کمپنی کے بڑے تھے ان سے کہہ کر ٹھیک کرا لی۔اکثر اوقات شہر میں بڑے مہمانوں کو یہ گاڑی زیارتیں کرایا کرتی تھی دوست احباب لے بھی جاتے تھے۔میں آپ سے ایک ایسا واقعہ بیاں کرنا چاہوں گا۔جو میاں طفیل صاحب جو جماعت اسلامی کے امیر تھے ان سے وابستہ ہے۔سردیوں کے دن تھے ہمارے مہمانوں میں مدینہ میں ہی رہنے والے دو افراد موجود تھے ان میں جناب ڈاکٹر مرتضہ ملک،اور قاری عبدالخلیل بھی شامل تھے۔طباق میں ہم نے اسوپ کا آرڈر دیا۔میاں صاحب اتنے سادہ تھے انہوں نسویا ساس کی پوری بوتل سوپ کے پیلاے میں الٹ دی۔حالنکہ سرقے کی طرح اس کے چند قطرے ہی کافی ہوتے ہیں۔میں نے کہا میاں ساحب یہ کیا کیا کہنے لگے افتخار صاحب ہمیں کیا علم یہ یہ سویا ساس کیا ہوتی ہے سادہ لوگ ہیں سادہ غذا کھلائیں۔یہ تو وہ لوگ جن کے ہوتے ہوئے جماعت اسلامی کا ایک نام تھا۔

Back to Conversion

Check Also

حکمتِ عملیوں کا تسلسل!

(شیخ خالد زاہد) سچ پوچھئے تو ملک کے حالات اس نوعیت کے ہوچکے ہیں کہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: