Breaking News
Home / کالم / مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مؤثر تجاویز۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مؤثر تجاویز۔

عارف محمود کسانہ
تبدیلی کے اثرات مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی نظر آرہے ہیں اور پاکستان کی وفاقی وزیر برائے حقوق انسانی ڈاکٹر شیریں مزاری نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے غیر جذباتی اور حقیقت پسندانہ انداز میں قابل عمل تجاویز پیش کی ہیں۔ انہوں کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان کو آئر لینڈ امن معائدہ کی طرز پر کسی حل کا منصوبہ دیناچاہیے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ریاست جموں کشمیرکے لئے مشرقی تیمور کی آزادی و خودمختاری جیسا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے مزیدکہا کہ اقوام متحدہ کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل میں تمام کشمیری باشندوں کی رائے لی جائے اور اسے حق خود آرادیت کی بنیاد پر حل جائے۔ انہیں یقین ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے ایسی قابل عمل تجاویز پیش کرنے سے عالمی برادی کا بھارت پر دباؤ آئے گا اور وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا ۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر شیرں مزاری عالمی اور عسکری امور کی ماہر ہیں اور خطہ کے مسائل کے ساتھ بین الاقوامی معاملات پر ان کی گہری نظر ہے۔ وہ اس وقت حکومت کا حصہ ہیں اور وزیر اعظم عمران خان اور عسکری حلقوں میں ان کی بہت پذیرائی ہے اس لئے ان کی تجاویز کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قابل عمل اور حقیقت پسندانہ انداز میں جو تجاویز پیش کی ہیں وہ مسئلہ کشمیر کی جانب ایک مثبت پیش رفت کا باعث ہوسکتی ہیں۔ ان کی یہ تجاویز بانی پاکستان کی کشمیر پالیسی کے عین مطابق ہیں جس کے بارے میں قائد اعظم کے بیانات 18 جون اور 11جولائی 1947 کے ڈان اور پاکستان ٹائمز میں شائع ہوئے تھے۔خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان کی حزب مخالف کی جماعتوں نے ان تجاویز پر کوئی منفی رد عمل نہیں دیا۔ توقع یہی ہے کہ حکومت اور حکومت سے باہر تمام سیاسی جماعتیں مخالفت برائے مخالفت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کشمیری عوام کے غیر مشروط حق خود آرادیت کی حمایت کریں گی۔ حریت کانفرس اور آزادجموں کشمیر کی سیاسی جماعتوں کو بھی اس سلسلہ میں اپنا کرادر ادا کرنا چاہیے اور ان تجاویزکے حوالے سے مثبت پیش رفت کو آگے بڑھانا چاہیے۔
دوسری جانب آزاد جموں کشمیرجہاں اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت ہے، وہاں کے وزیر اعظم نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ آزادکشمیر حکومت کو مسئلہ کشمیر میں کردار دیا جائے. انہوں نے کہا کہ 1949کے معاہدہ کراچی نے آزاد حکومت کے ساتھ مسئلہ کشمیر سے کشمیریوں کو بھی بے اختیار کر دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی سپریم کورٹ کو صائب مشور ہ دیا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے کسی بھی حصہ کے بارے میں فیصلہ پاکستانی کے اصولی موقف، قانون، آئین اور اقوام متحدہ کی قراردوں کی روشنی میں ہونا چاہیے اور کوئی ایسا فیصلہ نہ کیا جائے جس سے بھارت کی سپریم کورٹ کو وہاں کی آئین کی دفعہ 35A کو ختم کرنے کاجواز مل سکے جو ریاست جموں کشمیر کے خصوصی سٹیٹس کے بارے میں ہے۔ وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر نے متنبہ کیا کہ اگر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آزاد حکومت کو بااختیار نہ کیا گیا تو پاکستان ستر سال اور لگا رہے کچھ حاصل نہیں کر پائے گا. انہوں نے کہا کہ دنیا پاکستان کے وزیر خارجہ کی کشمیر کے حوالے سے کوئی بات سننے کو تیار نہیں بلکہ وہ کشمیری راہنماؤں کی بات سننا چاہتی ہے اور ہمیں اس بات کرنے کا اختیار دیا جائے اور پاکستان ہماری حمایت کرے۔ انہوں نے درست کہا کہ موجودہ حالت میں آزاد کشمیر کے صدر اور وزیراعظم مسئلہ کشمیر کے نام پر بس گھوم پھر کر آتے ہیں ان کانہ کوئی کردار ہوتا ہے اور نہ ان کی بات سنی جاتی ہے. وزیر اعظم آزاد کشمیر کی یہ بات بالکل درست ہے اور ہم بھی اپنے کالموں میں اس کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں کہ بیرون ملک کے دورے وہاں مقیم کشمیریوں اور پاکستانیوں تک محدود ہوتے ہیں اور میزبان ملک کے حکام کے ساتھ سرکاری سطح پر کبھی بات چیت نہیں ہوتی اور نہ ہی مقامی میڈیا ایسے دوروں کو کوئی اہمیت دیتا ہے۔ راجہ فاروق حیدر ایسی شکایات کرنے والے آزاد جموں کشمیر کے پہلے وزیر اعظم نہیں بلکہ ان سے قبل کے ایچ خورشید، ممتاز حسین راٹھور، سرادر سکندر حیات، سردار ابرہیم، چوہدری عبد المجید اور دیگر کئی راہنما ایسے ہی تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔
بہرحال دیر آئید درست آید کے مصداق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیرین مزاری اور وزیر اعظم آزاد ریاست جموں کشمیر راجہ فاروق حیدر کی ان تجاویز کا خیر مقدم کرنا چاہیے ۔خوش آئند امر یہ ہے کہ یہ تجاویز دو بڑی سیاسی جماعتوں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کی جانب سے دی گئی ہیں جو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی قیادت کررہی ہیں۔دیگر تمام سیاسی جماعتوں اور قوتوں کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ان تجاویز کی حمایت کرتے ہوئے ایک قومی کشمیر پالیسی مرتب کرنی چاہیے۔ اس سلسلہ میں گزارشات یہ ہیں کہ
حکومت پاکستان کی پارلیمانی کشمیر کمیٹی کو ختم کردیا جائے اور اس کے وسائل، اختیارات اور ذمہ داری آزادکشمیر کے صدر اور وزیر اعظم کو تفویض کردئیے جائیں۔ وزارت امور کشمیر کو ختم کرکے تمام معاملات کشمیر کونسل کے ذریعہ طے کئے جائیں۔بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی ذمہ داری آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کو دی جائے اور بین الاقوامی اداروں میں اسے نمائندگی دلائی جائے۔حکومت پاکستان بھی آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کو وہی درجہ دے جو ترکی کی حکومت نے ترک قبرص کو دے رکھا ہے۔ بیرون ملک پاکستان کے سفارت خانوں کشمیر ڈیسک قائم کئے جائیں جن میں میں آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے مقرر کردہ نمائیندے یا بیرون ملک مقیم کشمیریوں میں سے اہل نمائندے تعینات کئے جائیں ۔ بیرون ملک سفیر وہاں موثر انداز میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں، صرف پاکستانی کشمیری کمیونٹی کی تقریبات میں شرکت کا مسئلہ کشمیر کو کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ کار لاحاصل اوراپنے میڈیا میں ذاتی شہرت کا حصول ہے۔ سفارت کاروں کو میزبان ملک کی وزارت خارجہ، اراکین پارلیمنٹ، حقوق انسانی کے اداروں، میڈیا، پالیسی ساز اداروں، تھنک ٹینک، جامعات اور دیگرپلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا چاہیے۔

Check Also

حکمتِ عملیوں کا تسلسل!

(شیخ خالد زاہد) سچ پوچھئے تو ملک کے حالات اس نوعیت کے ہوچکے ہیں کہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: