Breaking News
Home / کالم / بوڑھا شیر

بوڑھا شیر

باعث افتخار

انجینئر افتخار چودھری
اس کی گھن گرج تو دیکھئے۔کہتے ہیں جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے۔کوئی اس کا بانپکن تو دیکھے اس کے گھوڑے کے سموں سے نکلتے شرارے تو بھانپیئے۔لوگ کہتے ہیں کہ حالیہ حکومت نے اسے کروڑوں دئے اس کا لہجہ نرم ہو گا وہ ایم ایم اے کا حصہ نہ بنے ان لالچیوں کو بھی جانتے تھے اور جب وقت پڑا تو ناموس رسالت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔سلام شہید آپ پر سلام۔
ڈو مور کا مطالبہ کرنے والوں نے خود ہی وہ کچھ کر لیا جو وہ پاکستان سے چاہتے تھے حقانی نیٹ ورک کے سربراہ انہیں ہی سمجھا جاتا تھا۔یاد رکھئے اس میں ایک ویب سائٹ کے مطابق را اور سی آئی اے شامل ہے۔دنیا بھر میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں۔جمال خاشوقجی اور سمیع الحق کی شہادتوں کا جائزہ لیا جائے تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ دونوں کے پیچھے کوئی ایک ہی طاقت ہے۔یہ غیر مرئی طاقتیں آپ کے ساتھ ہاتھ کر جاتی ہیں اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی. شب کی سنگین سیاہی کو مبارک کہہ دو. انتہائی افسوسناک خبر. مولانا سمیع الحق شہید تا دیر اسلامیان عالم میں زندہ رہے گیں.
اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا پاکستان تو اب تک لیاقت علی خان،بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو ڈھونڈتا پھر رہا ہے یہ بھی اسی لسٹ کا شہید سمجھیں۔مولانا سمیع الحق کسی گنجان آبادی والے گھر میں نہیں مارے
گئے اسلام آباد سے جڑے شہر جس میں لیاقت علی خان ،بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں۔کسی ڈھوک کھبہ ریلوے کالونی میں نہیں راولپنڈی کے انتہائی پوش علاقے میں ان کی جان لی گئی جو محفوظ ترین سمجھا جاتا ہے۔جہاں ٹیکسی داخل نہیں ہو سکتی داخلے اور خروج پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے ملک ریاض حسین کے بحریہ ٹاؤن میں علم کے سمندر کا قتل ہوا۔اب دیکھتے ہیں ہماری ایجینسیاں را کا کہاں تک پیچھا کرتی ہیں۔مجھے تو ڈر ہے اسامہ بن لادن کی طرح یہ کوئی آپریشن تھا؟ڈر کیوں نہ ہو جہاں سے عافیہ صدیقی،ایمل کانسی اٹھا لئے گئے ہوں وہاں یہ واقعہ ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ایسے میں جب ایک ہنگامہ بپاء ہو پوری قوم رضوی دھرنے میں مگن ہو ایسے میں دشمنان پاکستان ہی یہ وار کر سکتے ہیں۔جامعہ حقانی کے مہتمم جس مدرسے کی مالی امداد کرنے پر لبرل طبقے کو شدید اختلاف تھا آج کسی ظالم جہنمی کے
ہاتھوں شہید ہو گئے. اکوڑہ خٹک کے اس مدرسے سے ملا عمر اور بہت سے طالبان فارغ التحصیل ہوے. ان کی شہادت سے خطے میں حالات سنگین تر ہو جائیں گے. پولیو کے خلاف مہم میں حصہ لیا عمران خان پر یہودی ایجنٹ ہونے کے الزام کو رد کیا. کے پی کے میں پی ٹی آئی کا ساتھ دیا. ہم ان کی شہادت پر گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہیں. یہ عمران خان پر شفقت کا ہاتھ رکھتے تھے لیکن آصیہ کیس پر ان کا.مو قف خادم رضوی سے زیادہ شدید تھا ان کا کہنا تھا کہ عمران خان تم بھی نواز شریف کی طرح تباہ ہو جاؤ گے ججوں کو تو ان کی وارننگ شدید تر تھی ۔وہ لگی لپٹی کے بغیر اپنا مو قف بیان کرتے تھے مولانا سمیع الحق ایک شہید وفا تھے
انہوں نے ساری زندگی اللہ اور اس کے پیارے رسول سے وفا کی. سچ پوچھیے مولانا رضوی کا انداز احتجاج برا اور غلط تھا. حق پرست علماء
کی طرح انہوں نے زندگی کے آخری ایام حرمت رسول پر قربان کیے جان دی دی ہوئی اسی کی تھی. حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا. وہ بڑے دھیمے لہجے کے مقرر تھے لیکن وہ آصیہ کیس پر آتش فشاں بنے انہوں نے کہا آصیہ کی برئیت کی حمایت کسی صورت نہیں کی جا سکتی. اس حرافہ اور ملعونہ کو ایک سازش کے تحت اس موقع پر رہا کیا گیا جب عمران خان کی حکومت پر پے در پے حملے ہو رہے تھے.
ان کی آخری تقریر سنئے ان کی جانب سے اٹھائے گئے سوال اپنی جگہ وزن رکھتے ہیں۔قوم اس وقت شدید بحرانی دور سے گزر رہی ہے وزیر اعظم اس قوم کی معاشی سمندر میں ڈانواں ڈول کشتی کو نکالنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں ایسے میں دشمنان پاکستان نے پاکستان پر حمل کر دیا ہے پی ٹی آئی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ سوشل میدیا پر چلنے والے پیجز کی بڑی تعداد دشمن ملک سے چل رہے ہیں۔لگتا ہے پی ٹی آئی کی حکومت کو بن کے مارا جا رہا ہے آپ کسی پولیس آ فسیر کو نہیں بدل سکتے آپ یہ نہیں کر سکتے وہ نہیں کر سکتے گویا نتیجہ بھی دو مگر بندھے ہاتھوں کے ساتھ۔
سوچیے یہ سب کیوں ہوا؟ اس کے پیچھے کون سر گرم عمل ہے؟. ہم نے کہاں غلطی کی کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہمارا مو قف یہ ہوتا کہ عدالتیں آزاد ہیں ہم کس کھیت کی مولی ہیں جو ججوں کو روک سکیں ہم تو ایک آئی جی کو نہیں بدل سکتے ایک سی پی او بدلنا ہمارے بس میں نہیں ہے تو ہم آصیہ ملعونہ کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں. آج لبرل طبقہ جیت گیا ہے آج وہ لوگ جیت گئے جو اس ملک کو مادر پدر آزاد دیکھناچاہتے ہیں. دیکھیے تو سہی بلاول بھی ساتھ ہے شہباز بھی اس ایک مسئلے پر مگر شیر خدا سمیع الحق نے کیا کہا. مجھے تو لگتا ہے ان کی شہادت کا فیصلہ زمینی خداؤں نے کیا ہے جو اسے افغانستان میں نہیں مار سکے وہ یہاں مار گئے پنڈی میں
ایک اور نامور کی شہادت. ہو گئی۔شنید ہے کہ جناب مولانا رضوی کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو گیا ہے۔جی ایک بار پھر مولانا فیض آباد سے لوٹے ہیں۔ہمیں نہیں معلوم کہ کیا لے اٹھے اور کیا کھویا اور پایا۔حکومت تو پہلے روز ہی عدالت میں جانے کا کہہ رہی تھی۔اور تو شائد کچھ نہین مگر ہم نے ایک باوفا شہید پایا ۔حق مغفرت کرے مگر یاد رکھئے ان کی شہادت سے بڑھکنے والی آگ اب پورے خطے کو لپیٹ میں لے گی۔انا للہ و انا الیہ راجعون

Check Also

حکمتِ عملیوں کا تسلسل!

(شیخ خالد زاہد) سچ پوچھئے تو ملک کے حالات اس نوعیت کے ہوچکے ہیں کہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: