Home / حالات حاضرہ / خبریں / گھر بیٹھے کھانا حاصل کریں، فوڈ پانڈا نے صارفین کی سب سے بڑی مشکل حل کر دی

گھر بیٹھے کھانا حاصل کریں، فوڈ پانڈا نے صارفین کی سب سے بڑی مشکل حل کر دی

گھر بیٹھے کھانا حاصل کریں، فوڈ پانڈا نے صارفین کی سب سے بڑی مشکل حل کر دی

 فوڈ پانڈا نے 6سال قبل پاکستان میں ڈیمانڈ پر کھانا مہیا کرنا شروع کیا تھا لیکن گزشتہ سال اس کمپنی کی بڑھوتری بے مثال رہی جس میں اس نے ملک بھر میں 5ہزارسے زائد ریستورانوں کا سنگ میل عبور کیا۔

فوڈ پانڈا نے 2012ءمیں محض 100ریستورانوں سے آپریشن کا آغاز کیا اور اب تک ہزاروں ریستورانوں اور صارفین کے مابین ربط قائم کر چکی ہے۔ یہ پاکستان کا پہلا ملک گیر برانڈ ہے جس نے2015ءسے کے ایف سی، سب وے اور مک ڈونلڈز اور 2017ءسے پیزا ہٹ کے ساتھ صارفین کو منسلک کیا۔ فوڈ پانڈا کی مضبوط کاروباری ترقیاتی ٹیم دلجمعی کے ساتھ کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور دیگر متعدد شہروں میں کاروبار کو پھیلانے میں لگی ہوئی ہے۔ صرف 2018ءمیں لگ بھگ 3ہزار نئے ریستوران فوڈپانڈا میں شامل کیے گئے، جس سے صارفین کو کھانوں کے انتخاب میں مزید آپشنز میسر آئے۔6سال کے اس مختصر ترین عرصے میں فوڈپانڈا اس قابل ہو گیا ہے کہ 10لاکھ سے زائد خوش خوراک صارفین کو 5ہزار سے زائد ریستورانوں کے 25ہزار سے زائد کھانوں تک گھر بیٹھے رسائی دے سکتا ہے۔

یہ سنگ میل عبور کرنے پر فوڈ پانڈا کو مبارک باد دیتے ہوئے کے ایف سی کے رضا پیر بھائی کا کہنا تھا کہ ”میں فوڈ پانڈا کا شکریہ اداکرتا ہوں کہ ان سالوں میں اس نے ہمارے ساتھ شراکت داری کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ اس کمپنی کے باعث ہمارے کاروبار کو بہت زیادہ فروغ ملا۔ یہ بات ہمارے لیے فخر کا باعث ہے کہ ایسا شاندار پارٹنر ہماری وسیع فیملی کا حصہ ہے۔ ہم اس شاندار کارکردگی پر فوڈ پانڈا کو مبارکبادپیش کرتے ہیں۔“

فوڈپانڈا کے شعبہ سیلز کے سربراہ محسن قریشی کا کہنا تھا کہ ”ہم اپنے پارٹنر ریستورانوں کے ساتھ مضبوط تعلقات پر یقین رکھتے ہیں۔ ابتداءسے ہی ہماری پارٹنر کیئر ٹیم تمام ریستورانوں کے ساتھ ہمہ وقت رابطے میں رہتی ہے، کیونکہ ہم باہمی اشتراک سے ہی صارفین کو معیاری کھانا بروقت پہنچا سکتے ہیں۔ “

ملک کے 6بڑے شہروں میں فوڈ پانڈاکے 1ہزار سے زائد رائیڈر ہمہ وقت ایسے ریستورانوں سے صارفین تک کھانا پہنچانے کے لیے مستعد رہتے ہیں جو خود ہوم ڈلیوری کی سہولت نہیں دیتے۔ ایسے ریستوران فوڈ پانڈا کے پلیٹ فارم پر موجود تمام ریستورانوں کا 40فیصد ہیں۔ان میں کیفے، پروفیشنل ریسٹورنٹ کچنز، مقامی سٹریٹ فوڈ فروخت کرنے والے ہوٹل و دیگر شامل ہیں۔فوڈ پانڈا کے رائیڈرز ان تمام ریستورانوں سے معیاری کھانا قلیل ترین وقت میں صارفین تک پہنچاتے ہیں۔

فوڈ پانڈا صارفین کو ایسی عالمی معیار کی سروس فراہم کرتے ہوئے نہ صرف کھانے پکانے کی جدید ترین عادات کو فروغ دے رہا ہے بلکہ ریستوران، فوڈ سپلائی، ہوم گرون فوڈ بزنس اور دیگر کئی شعبوں میں ملازمتوں کے وسیع مواقع بھی پیدا کر رہا ہے اور ملک کی سماجی معاشی صورتحال پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کر رہا ہے۔

یہ اہم سنگ میل عبور کرنے پر فوڈ پانڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نعمان سکندر مرزا کا کہنا ہے کہ ”مجھے یہ دیکھ کر فخر محسوس ہوتا ہے کہ فوڈ پانڈا پاکستان کی ریسٹورنٹ انڈسٹری میں کس طرح انقلاب برپا کر رہا ہے۔گلی محلوں میں موجود چھوٹے چھوٹے ریستوران جو گاہکوں سے کاغذ اور پنسل کے ذریعے آرڈر بک کرتے تھے اب خودکار طریقے سے آرڈر بک کر رہے ہیں اور اپنے کاروبار کو تیزی کے ساتھ بڑھا رہے ہیں۔جو فوڈ چینز پہلے سے مستحکم تھیں انہیں بھی فوڈ پانڈا نے ایک غیرمعمولی پلیٹ فارم مہیا کیا ہے جس کے ذریعے وہ نئے صارفین تک رسائی حاصل کر رہی ہیں اور اپنی آمدنی میں کروڑوں کا اضافہ کر رہی ہیں۔ہم تہیہ کیے ہوئے ہیں کہ آئندہ برس ہر شراکت دار ریستوران کے ساتھ سٹریٹجک اور طویل مدتی تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے اور پلیٹ فارم پر ریستورانوں کی تعداد دوگنا تک بڑھائیں گے۔“

 

Check Also

ورلڈکپ سے ملنے والے 30 لاکھ ڈالرز کیوی کھلاڑیوں میں کیسے تقسیم کئے جائیں گے؟ ایسی خبر آ گئی کہ ایک بھی میچ نہ کھیلنے والے ٹام بلنڈل بھی خوشی سے ناچ اٹھیں

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے ورلڈکپ سکواڈ میں شامل اپنے کھلاڑیوں کو ایک ہی پیمانے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: