Breaking News
Home / کالم / دوستوں کو ساتھ رکھیں

دوستوں کو ساتھ رکھیں

زندگی میں ہمیں بہت سے اچھے لوگ ملتے ہیں ،اچھے دوست بن جاتے ہیں ،اچھے رشتے بن جاتے ہیں اور اچھے تعلقات استوار ہو جاتے ہیں .کچھ لوگوں میں ان سب افراد ،دوستوں، رشتوں اور تعلقات کو سنبھال رکھنے کا قرینہ ہوتا ہے اور کچھ لوگوں کی زندگی میں مذکورہ افراد کا آنا جانا لگا رہتا ہے لیکن مستقل کچھ نہیں ہوتا . جتنا اہم، لوگوں کو متاثر کرنا ہے اتنا ہی یا اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ان افراد کو سنبھال کر بھی رکھا جائے ورنہ کوئی بار آور تعلق قائم نہیں رہے گا .موسموں کی مانند آنے جانے والے لوگوں کی وجہ سے کوئی دیر پا رابطہ بن نہیں پاتا .دیر پا تعلق کو سینچنا پڑتا ہے اور اگر یہ ہنر نہیں آتا تو ضرور سیکھ لینا چاہیے .صحتمند دوستا نہ تعلقات بنا ئے رکھنے کے لئے اپنی طرف سے پوری کوشش کرنا ہوتی ہے .وقتاً فوقتاً دوستوں سے بات چیت کرتے رہنا چاہیے تا کہ ان کے حالات سے آگاہی رہے اور اگر انھیں ہماری ضرورت ہے تو ہم بر وقت دستیاب ہوں . دوستوں کا انتخاب بھی سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے یہ نہ ہو کہ جب آپ زندگی کے اچھے دور سے گزر رہے ہوں تب تو آپ دوستوں میں گھرے ہوں اور جہاں ذرا کڑ ا وقت آیا وہاں سب غائب.
ہر تعلق کی نگہداشت کرنی پڑتی ہے .با قاعدگی سے بات چیت کرتے رہنا چاہیے.زیادہ تکلفات میں پڑے بغیر سہولت سے ملاقات بھی کرتے رہنا چاہیے .
اگر ہم اپنی گزشتہ زندگی پر نظر ڈالیں تو بہت سے لوگ جن کے ساتھ بڑا اچھا وقت گزرا لیکن وہ اب ہماری زندگی کا حصّہ نہیں رہ سکے .کچھ ایسے دوست ہوتے ہیں جو زندگی کا حصّہ تو ہمیشہ رہتے ہیں لیکن ان سے ملاقات بہت کم ہوتی ہے .زندگی کے ہر حصے میں نئے لوگوں کا اضافہ ہوتا رہتا ہے لیکن پرانوں کا ساتھ بھی چلتا رہے تو بہت اچھا رہتا ہے .
دوستوں کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لئے انہیں احساس دلاتے رہیں کہ وہ ہمارے لئے قابل قدر ہیں ،ان کی رائے ہمارے لئے محترم ہے اور وہ ہماری زندگی کا اہم حصّہ ہیں.ہماری زندگی میں آنے والے لوگ بیش قیمت ہوتے ہیں ،ان کو ارزاں نہیں سمجھنا چاہیے .زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ،کل ہو نہ ہو .جو لوگ ہمارے آج میں ہمارے ساتھ ہیں کیوں نہ انھیں ان کی اہمیت کا احساس ان کی اور اپنی زندگی میں ہی دلا دیں .محبت اپنا احساس خود دلا دیتی ہے ،یہ الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی .ایک دوسرے کو سراہنا اور مسکراہٹیں بانٹنا ہی رشتوں کو بناۓ رکھنے کے لئے بہت ہوتا ہے.
دوستیاں برقرار رکھنے کے لئے اپنے اندر کچھ خصو صیا ت پیدا کرنا ضروری ہے .
*** جب دوست کو مدد کی ضرورت ہو تو بن کہے اس کا ساتھ دیں .کہہ کر کام کروایا تو پھر دوستی کس بات کی .
***اگر دوست کسی بات پر تبادلہ خیالات کا خواہاں ہے تو اسے پوری توجہ سے سنیں .اپنی توجہ کو پوری طر ح مرکوز رکھیں .بعض اوقات صرف بات کرنا ہی سب کچھ ہوتا ہے.
***اگر ملاقات میں زیادہ وقفہ آ گیا ہے تو فون کر لیں یا ساتھ میں مل بیٹھنے کا پروگرام بنا لیں .یہ سوچ نہ رکھیں کہ اس نے بھی تو کوئی رابطہ نہیں کیا ،وہ مصروف ہے تو میں بھی مصروف ہوں. ہماری چھوٹی سی کوشش دونوں کو ذہنی دباؤ سے نکال سکتی ہے .
***قابل اعتماد اور قابل بھروسہ بنیں . اعتبار کمایا جاتا ہے .دوستوں کی ذاتی باتوں کو خود تک محدود رکھ کر اور ان کی ضرورت کے وقت دستیاب ہو کر اعتبار کمایا جا سکتا ہے .
*** بے لوث ہو کر دوستوں کی الجھنیں سلجھانے میں پوری دلچسپی لیں .آپ کے دوست ذہنی طور پر آپ سے قریب ہو جائیں گے .
***اگر کوئی غلط فہمی ہو جائے تو پہل کر کے اسے رفع کرنے کی کوشش کریں .اپنی غلطی تسلیم کرنے میں دیر نہیں کرنی چا ہیے .
*** کسی کےرائے طلب کرنے پر ایمانداری سے اپنا تجزیہ بتانا چاہیے .اس خیال سے کہ دوست کو برا نہ لگے غلط بیانی یا حقائق سے رو گردانی کرنا بہتر نہیں ہو گا .
کسی دوست کو ہلکا نہ لیں .سب کو پوری عزت کے ساتھ اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کی کوشش کریں .دوستوں کو یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ہمارے ساتھ رہ کر اپنا وقت ضا ئع کر رہے ہیں .اپنی طرف سے اچھا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں .حسد ،اکھڑ پن یا مفاد پرستی جیسی منفی خصو صیا ت کسی بھی رشتے کو گھن کی مانند چاٹ سکتی ہیں .ان سے دور ہی رہیں .
کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ہم سے انتخاب میں غلطی ہو جاتی ہے ،ایسے رشتے کو ہم جو کچھ بھی دے دیں یہ آگے نہیں بڑھتا .ایسی صورت میں راستے جدا کرنے میں ہی بھلائی ہوتی ہے .ایسے تعلق کو سبق کی طرح یاد رکھنا چاہیے تا کہ آئندہ ایسی غلطی نہ ہو .
اپنی سوچ مثبت رکھیں .ہر شخص اپنے جیسوں کو ہی اپنی طرف مائل کرتا ہے .خود اچھے ہوں گے تو اچھوں سے ہی واسطہ پڑے گا .اپنی غلطی کا ملبہ دوسروں پر نہ ڈالیں .اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا بہتر ہے بجائے اس کے کہ کسی اور کو اپنی نا کامی کا ذمہ دار ٹھہرا ئیں . بلا وجہ دوسروں پر رعب جمانے کی عادت بھی دوسروں کو ہم سے دور کر دیتی ہے . میاں بیوی کے رشتے میں دوری آنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کی ذاتی آزادی کا احترام کرنے کے بجائے بے جا پابندیاں لگا ئی جاتی ہیں .
کچھ موا قع ایسے آتے ہیں جہاں قربانی اور سمجھوتہ کام آتے ہیں.
آخر میں یہی کہ جن لوگوں نے ہر اچھے برے حا ل میں آپ کا ساتھ دیا ہے وہ بیش قیمت ہیں ،انہیں پہچانیں اور اپنے ساتھ رکھیں .
روبینہ یاسمین

Check Also

میرا چھ ستمبر

   باعث افتخار   انجینئر افتخار چودھری ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

%d bloggers like this: