Breaking News
Home / حالات حاضرہ / خبریں / اگر مرد اس طریقے سے مچھلی کھائیں تو جگر ہمیشہ تندرست رہتا ہے، سائنسدانوں نے سب سے بہترین مشورہ دے دیا

اگر مرد اس طریقے سے مچھلی کھائیں تو جگر ہمیشہ تندرست رہتا ہے، سائنسدانوں نے سب سے بہترین مشورہ دے دیا

اگر مرد اس طریقے سے مچھلی کھائیں تو جگر ہمیشہ تندرست رہتا ہے، سائنسدانوں نے سب سے بہترین مشورہ دے دیا

مچھلی بہت ہی اچھی غذا ہے جو لذیذ ذائقے کے ساتھ صحت کے لئے بھی بے شمار فوائد کی حامل ہے۔ یہ بات سب جانتے ہیں، لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ تلی ہوئی مچھلی کھانا فائدے کی بجائے نقصان کا باعث ہے۔چینی سائنسدانوں نے ایک طویل تحقیق کی ہے جس کے نتیجے میں معلوم ہوا ہے کہ اگر مرد مچھلی کا باقاعدگی سے استعمال کریں، جو کہ تلی ہوئی نا ہو، یعنی روسٹ، بیک یا گرل کی گئی ہو، تو ان میں جگر کی بیماری کا خطرہ 37 فیصد کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مچھلی کے باقاعدہ استعمال سے خواتین میں ذہنی بیماری الزائمرز کا خدشہ 38 فیصد کم ہو جاتا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ مچھلی میں پائے جانے والے اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اعضاءمیں سوزش کو کم کرتے ہیں جس کے نتیجے میں کینسر اور دل کی بیماری کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ مچھلی کے یہ تمام فوائد صرف اسی صورت میں حاصل ہوسکتے ہیں کہ اگر اسے فرائی نہ کیا جائے بلکہ کسی بھی اور طریقے سے تیار کیا جائے۔ تلی ہوئی مچھلی کھانے سے فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہوتا ہے اور خصوصاً دل اور پھیپھڑوں کی بیماری کا خدشہ بڑھ جاتاہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ گوشت کو تلنے سے اس میں ٹرانس فیٹی ایسڈ پیدا ہوجاتے ہیں جو مختلف قسم کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

یہ تحقیق زی جیانگ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی ہے اور اس میں تقریباً اڑھائی لاکھ مردوں اور تقریباً دو لاکھ خواتین کی غذائی عادات اور صحت پر اس کے اثرات کا 16 سال تک مشاہدہ کیا گیا۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے ”جرنل آف انٹرنل میڈسن“ میں شائع کی گئی ہے۔

 

Check Also

دبئی میں مقیم پاکستانی خاندان جس پر 37 لاکھ درہم جرمانہ لگادیا گیا، لیکن پھر کیا ہوا؟ جان کر آپ بھی کہیں گے اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں

دیار غیر میں آدمی مصائب میں گھر جائے تو کسی جانب سے امید کی کرن ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

%d bloggers like this: