Breaking News
Home / حالات حاضرہ / خبریں / آدمی نے اپنی یہ تصویر بیگم کو بھیج دی تاکہ وہ سمجھے اس کی موت ہوگئی، لیکن اس حرکت کی وجہ کیا بنی؟ جان کر آپ ہنس ہنس کرلوٹ پوٹ ہوجائیں گے

آدمی نے اپنی یہ تصویر بیگم کو بھیج دی تاکہ وہ سمجھے اس کی موت ہوگئی، لیکن اس حرکت کی وجہ کیا بنی؟ جان کر آپ ہنس ہنس کرلوٹ پوٹ ہوجائیں گے

آدمی نے اپنی یہ تصویر بیگم کو بھیج دی تاکہ وہ سمجھے اس کی موت ہوگئی، لیکن اس حرکت کی وجہ کیا بنی؟ جان کر آپ ہنس ہنس کرلوٹ پوٹ ہوجائیں گے

بیوی کی فرمائشوں سے کون تنگ نہیں ہوتا، مگر کوئی اتنا تنگ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنی ہی موت کا ڈرامہ کر ڈالے؟ لیجئے ملئے افریقی نوجوان ڈینی گونزالز سے، جو اپنی بیوی کی روز روز کی فرمائشوں سے ایسا تنگ پڑا کہ زندہ سلامت ہوتے ہوئے کفن اوڑھ لیا اور اپنی ’موت‘ کی تصویر بیوی کو بھجوا دی۔

ڈینی کا تعلق ہنڈوراس سے ہے لیکن وہ ایک عرصے سے امریکا میں مقیم ہے۔ دو سال قبل اس کی شادی ہوئی اور بیوی پیچھے ہنڈوراس میں ہی ہے۔ ڈینی اپنی موت کا گھٹیا ڈرامہ کرنے پر کیوں مجبور ہوا، اس کے بار میں وہ کہتا ہے کہ ’’جب سے میری شادی ہوئی ہے میری بیوی مسلسل فرمائشیں کر رہی ہے۔ میں چھٹیاں گزار کر جب سے واپس امریکا آیا ہوں تو ہر ویک اینڈ پر اس کی کال آجاتی ہے کہ اور پیسے بھیجو۔ اس کے بعد پورا ہفتہ ایک بھی کال یہ میسج نہیں لیکن اگلے ویک اینڈ پر مزید پیسوں کی فرمائش۔‘ ‘

ڈینی کو صرف رقم کا ہی مسئلہ درپیش نہیں تھا، کچھ اور مسائل بھی تھے۔ اس نے بتایا’’پچھلے دو سال میں میری بیوی چھ موبائل فون منگوا چکی ہے۔ وہ ایک فون منگواتی ہے اور پھر چند ماہ بعد کہتی ہے وہ چوری ہو گیا نیا بھیج دو۔ اب تک یہ کام چھ بار ہو چکا ہے۔ بس میں اتنا تنگ آ گیا کہ کفن اوڑھ کر اور ناک میں روئی ٹھونس کر اپنی ایک تصویر بنوائی اور گھر بھیج دی تا کہ اسے یقین ہو جائے کہ میں مر گیا ہوں۔‘‘

اُدھر ڈینی کے کچھ تیز نظر والے رشتہ داروں نے دیکھا کہ تصویر میں اس کی شکل مُردوں والی نہیں لگ رہی۔ کسی خاتون نے اندازہ لگایا کہ کفن کی بجائے اس نے تکیے کا سفید غلاف اوڑھ رکھا ہے اور پھر کسی نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ بظاہر وہ مُردہ خانے میں نہیں بلکہ گھر کے ڈبل بیڈ پر لیٹا ہوا ہے۔

گھر والے تو شک میں پڑ ہی چکے تھے، دوسری جانب کسی طرح مقامی میڈیا کو بھی اس واقعے کی خبر ہو گئی تھی۔ مقامی طور پر یہ ایک بڑی خبر بن گئی اور کچھ صحافیوں نے امریکا سے بھی معلومات لینے کی کوشش کی مگر وہاں ڈینی کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔ تحقیقات کی گئیں تو پتا چل گیا کہ وہ اچھا بھلا پھر رہا ہے ۔بس پھر کیا تھا، ہر طرف سے ڈینی پر لعن طعن شروع ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر یوں تو اسے بہت کچھ کہا جا رہا ہے لیکن ساری تنقید کا لب لباب اس کے ایک ہم وطن کی مختصر سی بات میں دیکھا جا سکتا ہے، جس کا کہنا تھا ’’ بے شرم، بیوی سے تنگ تھا تو بوڑھے والدین کا کیا قصور تھا؟ تمہاری موت کی خبر سن کر ان پر کیا گزرے گی، اس بات کا خیال نہیں آیا تمہیں؟‘‘

 

Check Also

اسکولوں میں ذہنی تشدد کے واقعات میں اضافہ 

سن دو ہزار بارہ اورتیرہ میں گیارہ مقدمات درج کیے گئے تھے۔جبکہ پچھلے تین برسوں ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

%d bloggers like this: