Breaking News
Home / کالم / نونہالوں کی تعلیم و تربیت میں معاون

نونہالوں کی تعلیم و تربیت میں معاون

محمد اویس جعفری۔

سیا ٹل، امریکہ
آج مسلمان کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہیں بلکہ پورا عالمی گاوں ان کا اختیار کردہ وطن ہے اور وہ ہر ملک میں اسلامی تہذیب و تمدن کے سفیر ہیں۔ اس خطرہ کے پیشِ نظر کہ اجنبی ماحول میں بچوں کے معصوم ذہن اپنی امتیازی پہچان فراموش نہ کردیں، دینی حمیت سے سرشار اہلِ بصیرت مسلمان مسجدیں اور مدرسے قائم کر رہے ہیں اور درس و تدریس کے ہفتہ وار یا ماہانہ محفلیں سجا رہے ہیں۔ سویڈن میں یہ دین اسلام کی نشر و اشاعت اور تعلیمی حلقے منعقد کر نے میں ایک ایسی فعال شخصیت پیش پیش ہے جو بہ یک وقت صحافی، کالم نویس، سویڈش صحافتی تنظیم کا سرگرم رکن،سویڈن کی مشہور یونیورسٹی کارولنسکا انسٹیوٹ میں طبی تحقیقی کے شعبہ سے منسلک، ادیب و مصنف ، حکومت پاکستان کی وزارتِ سمندر پار پاکستانیوں کی مشاورتی کونسل کے لئے سویڈن سے مشیر اور اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ تعلقاتِ عامہ اور خیر سگالی کا سپاہی بھی ہے۔ میر ی مراد اپنے عزیز دوست عا رف محمود کسانہ صاحب سے ہے۔ آپ نے بچوں کے لئے بہت مفید اور سبق آموز کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ ان کتابوں کی افادیت اور مقبو لیت کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ ان کی کتاب ’’سبق آموز کہانیاں ‘‘ جسے نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد نے شائع کیا ہے ، وہ بہت مقبول ہوئی ہے۔میرے علم کے مطابق ’’سبق آموز کہانیاں‘‘کا انگریزی ،عربی، ہندی، نارویجین، سویڈش،بنگلہ زبانوں میں ترجمہ شائع ہوچکا ہے اور دوسری بہت سی زبانوں میں بھی ترجمہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔بچوں اور والدین کے لیے ان کی دوسری کتاب ’’ کامیاب زندگی کے اصول ‘‘ زیر طبع ہے۔ یہ کتاب بھی بہت آسان اور سلیس اردو میں لکھی گئی ہے تاکہ وہ شا ہین صفت نونہال جن سے یہ کتاب مخاطب ہے، وہ اسے آسانی سے سمجھ سکیں۔مجھے یقین ہے کہ یہ کتابیں نہ صرف بچوں بلکہ ان کے والدین اور خاندان کے دوسرے افراد کے لئے بھی دلچسپی اور علم میں اضافہ اوربچوں کے لئے بطور خاص ذہنی پرورش کا مو جب ہو گی۔
دین کے اصل مفہوم اور حسن و کشش کو فرق وارانہ اختلافات، تنگ نظری اور اسلام دشمن ما حول نے بری طرح مسخ کر دیاہے۔ میں اورمیرے ہم خیال احباب عارف محمود کسانہ صاحب کی طرح دست بہ دعا ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہماری مو جودہ اور آئندہ نسلوں کوصحیح روش پر چلنے کی تو فیق عطا فرمائے اور امت مسلمہ کو وہی وقار، غلبہ و اثرو رسوخ اختیا رو اقتدار، اتحاد و اتفاق عروج و فروغ اور نصرت و کامیابی و کامرانی عطا فرمائے جس کی وہ بجا طور پر مستحق ہے اور تاریخ جس کی شاہد ہے بلکہ ایسی تصانیف کے ذریعہ ہمیں یہ یاد دہانی بھی کرا رہی ہے کہ دنیا میں ہمارا کیا مقام ہو نا چاہیے۔ دنیا کے گو شہ گو شہ میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کا نہ صرف خواب دیکھا جا رہا ہے بلکہ اس کی تعبیر کی تدا بیر بھی ہو رہی ہیں۔ جس کاوش اور لگن سے علمی طور پر دین کے احیاء کی کو ششیں اور آب یاری ہو رہی ہیں، انشا اللہ اس کے مثبت نتائج بر آمد ہو نگے۔ ہمارے دل کی آوازشاعرِ مشرق اقبال کے اس شعر کی ترجمان ہے۔
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بٹی زرخیز ہے ساقی

Check Also

خدا جانے ہوا جانے

خدا جانے ہوا جانے باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری سرائیکی جیسی میٹھی زبان گوجری جو ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

%d bloggers like this: