Breaking News
Home / کالم / خود احتسابی پر مبنی کالم

خود احتسابی پر مبنی کالم

باعث افتخار

انجینئر افتخار چودھری
پاکستان تحریک انصاف نے کے پی کے اور پنجاب میں دئیے گئے ناموں کو کیا واپس لیا لوگ لٹھ لے کے اس کے پیچھے پڑ گئے۔یہ ایک غلطی تھی اور غلطی کا احساس ہونے پر پی ٹی آئی نے دونوں فیصلے واپس لے لئے۔مزے کی بات یہ ہے کہ پوری نون لیگ اور ان کا ہمنوا میڈیا اس بات کو لے کر دوڑ پڑا دیکھو جی پی ٹی آئی نے یو ٹرن لے لیا۔ کل فاروق بندیال پی ٹی آئی میں شامل ہوئے اور آج ہی انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔اللہ بے نیاز ہے ان کے آنے سے ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا دوسرے معنوں میں بندیال کی آمد نے پی ٹی آئی کے ان لوگوں کو بندہ بنا دیا ورنہ ڈر تو یہ تھا کہ تارا مسیح بھی کو بھی پارٹی کا سافا ڈال دیتے۔ہوا کچھ یوں کے پی ٹی آئی کو پتہ چلا کہ جناب نگران وزیر اعلی نیب کے کسی کیس میں مطلوب ہیں ۔اور ظاہر ایک ایسا شخص جسے نوے دن کے لئے وزیر اعلی بنایا جا رہا ہے اسے کرپشن کے کیسز میں نیب طلب کرے گی تو پی ٹی آئی کا اپنا دعوی جو کرپشن کے خلاف ہے اس کا کیا بنے گا۔عرف عام میں یو ٹرن کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک بات کریں اور اس سے پیچھے ہٹ جائیں۔گزشتہ چند سالوں سے تحریک انصاف نے کرپشن کے خلاف جو جد وجہد کی ہے وزیر اعلی کی شخصیت کا عہدے پر ہونا اس جدوجہد سے انکاری ہونا ثابت کرتا ہے۔ہو سکتا ہے موصوف بڑے نیک نام ہوں ان کی شہرت بھی بری نہیں لیکن ایک بات تو واضح ہے کہ جناب ناصر کھوسہ نیب کو رائے ونڈ کیس میں مطلوب ہیں۔ویسے ایک بات کہے دیتا ہوں فیصلہ سوچ سمجھ کے کرنا چاہئے تھا اور جب کر لیا تھا تو اس پر ڈٹ جانا نا مناسب تھا یہیں لوگ غلطی کرتے ہیں فیصلہ کر لیتے ہیں اور جب انہیں احساس ہوتا ہے یہ تو غلط ہے تو اس پر بجائے معذرت کرنے یا رجوع کے ڈٹ جاتے ہیں۔پی ٹی آئی نے بہت اچھا کیا۔نون لیگ کی اچھل کود جناب رانا ثناء اللہ کے بیانات یہ کہہ رہے ہیں کہ پوری دال ہی کالی تھی اسی لئے انہوں نے فیصلہ واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔ سچ پوچھیں آج جو انتحابات ہونے جا رہے ہیں کیا ہم 2013کے مارچ اپریل کے مہینوں میں کھڑے ہیں یا اس سے آگے نکلے ہیں۔نہ تو انگوٹھے کے نشانات کی بنیاد پر الیکشن ہو رہے ہیں نہ ہی باہر کے ملکوں میں رہنے والے پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملا ہے نہ ہی دوہری شہریت والوں کو موقع دیا جا رہا ہے ۔تو مجھے بتائیے اس کے اوپر اگر ایک ایسے وزیر اعلی بٹھا دئے جائیں جو نجم سیٹھی کا ریکارڈ توڑے تو پی ٹی آئی کو یو ٹرن لینے پر دلی مبارک باد تو دینے کا حق بنتا ہے۔کچھ اینکرز جو کے پی کے میں پی ٹی آئی کی کارکردگی کو سراہتے نظر آتے ہیں ان کے تبصروں کو دیکھ کر لگتا ہے پی ٹی آئی نے کچھ بھی نہیں کیا۔پانچ سالوں کی کارکردگی ایک دن میں خراب کیسے ہو گئی۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ایک ناتجربہ کار ٹیم نے کمال کام یہ کیا ہے کہ لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں وہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ نون اور دیگر پارٹیوں کی ہمالائی غلطیوں کو صرف اس لئے برداشت کرتے ہیں کہ یہ تو ہیں ہی غلط اور کرپٹ لوگ لیکن وہ پی ٹی آئی سے توقع نہیں رکھتے کہ وہ غلطی کرے اس سے مراد یہ ہے کہ عمران خان نے اپنی بائیس سالہ جد وجہد کو اس سٹیج پر لا کے کھڑا کر دیا ہے کہ پاکستان کا بڑا طبقہ اسے سچے اور کھرے لیڈر کے طور پر تسلیم کر چکا ہے۔میں نے ضیاء شاہد کی کتاب پڑھی سچ پوچھیں سارا نہیں مگر بہت حد تک سچا اور کھرا لیڈر جس کے بارے یں زعیم صحافت ضیاء شاہد نے لکھا وہ عمران خان بھی ہے۔جیتے جی تو قائد اعظم کو لوگ بہت کچھ کہتے رہے انہیں کافر اعظم بھی کہا مزے کی بات ہے اس لیڈر کو بھی یہودیوں کا نمائیندہ لیڈر بھی انہی لوگوں نے کہا جو قائد اعظم کو کافر اعظم کہتے رہے۔فاروق بندیال پارٹی میں آئے وہ بغیر کسی تحقیق میں آ کیسے گئے جو لوگ اسے پارٹی میں لائے انہیں سیاست کی الف بے کا نہیں پتہ یہ لوگ اس دوڑ میں لگے ہوئے ہیں کہ بندے پکڑو عمران خان کے سامنے نمبر ٹانکو اور کہو کہ دیکھیں میں کتنے بندے لایا ہوں۔ردی کوڑ کباڑ اکٹھا کرنے سے بہتر ہے پارٹی انہی لوگوں کو سر آنکھوں پر بٹھائے جنہوں نے لاہور جلسہ کیا تھا ۔ہمایوں درزی مرحوم جیسے لوگ پارٹی میں سیاسی کارکنوں کی کمی ہے۔شائد یہ جانتے ہی نہیں کہ سیاسی ورکروں اور کیڈروں کا ماضی کیا ہے۔ پارٹی کو ایک دو دن میں وہ جھٹکا لگا کہ کارکن ڈر کے رہ گئے ہیں ۔انہیں یہ شک ہے کہ کوئی ایسا ہے جو پارٹی کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔لوگوں کو علم نہیں کہ اس سیاہ رو نے پاکستانیت کو ننگا کیا تھا۔ایک زمانے میں شبنم جو پاکستان کی انتہائی حسین فلمی اداکارہ تھیں۔لوگ ان کی فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں لوگ عموما
آصف علی زرداری پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ممبینو سینما میں ٹکٹیں بلیک کرتے رہے واللہ اعلم۔لیکن ممبینو میں جو فلمی اڑھائی سال چلی اس فلم کا نام آئینہ تھا یہ فلم جس کی ہیروئن تھیں ان پر ڈکیتی کی واردات ہوئی اس کے سب سے سیاہ پہلو تھا کہ شبنم کا ریپ فاروق بندیال نے کیا اس کا مکروہ پہلو یہ تھا کہ اس کے بیٹے کے سامنے شبنم کا ریپ ہوا شائد میں بھول رہا ہوں اس کا نام روفی گھوش تھا۔اسے پھانسی کی سزا ہوئی کسی طرح وہ چند سالوں میں تبدیل ہوئی۔پورا ملک اس کریکٹر پر تھوہ تھوہ کرتا رہا۔شبنم روبن گوش پاکستان چھوڑ گئے وہ بنگلہ دیش کے ہو کر رہ گئے۔یہ ایک انتہائی درد ناک کہانی تھی۔ میں رانا موٹرز کا نوجوان مینجر تھا وہ اپنی گاڑی مرمت کرانے وہاں آیا کرتے تھے۔ یہ جوڑی چلی گئی اکہتر کے بعد سوہنی دھرتی اللہ رکھے والی شہناز بھی چلی گئی۔ فاروق بندیال نے منہ زور جوانی کے دنوں میں یہ کارنامہ انجام دیا ان کے گلے میں دو رنگہ ڈالا گیا جس نے پی ٹی آئی کو بدنام کر کے رکھ دیا۔سنا ہے ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے جس کی سربراہی نعیم الحق کریں گے سمجھئے بندیال گئے۔پی ٹی آئی یقیناًجب ٹھوکر لگتی ہے تو سنبھلتی ہے لیکن ہر بار ٹھوکر دائیں بائیں والے لگاتے ہیں اور ایک وہ طبقہ جن کی پی ٹی آئی کے اونچے گھر تک رسائی نہیں ان کے پاس ایک ہی ہتھیار ہے۔وہ ہتھیار سوشل میڈیا ہے۔ایسے ہی ایک صاحب جو ایک سمندر جیسے ادارے کا مالک ہے اس کے فرنٹ مین نے بھی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی ہے یہ مہاشے دو عدد ایف آئی آرز میں قاتل کے طور پر موجود ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کے پاس اس قسم کے لوگوں کی کمی نہیں جن کے اپنے مفادات ہیں اور وہ ان مفادات کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کر جاتے ہیں۔ایسے لوگ جو قتل کی ایف آئی آروں میں نامزد ہیں۔وہ بھی ٹکٹوں کی دوڑ میں شامل ہیں۔سوال یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو قوم کے سامنے لایا جائے جو اپنے گندے مقاصد کے لئے لوگوں کی امید وں سے کھیل رہے ہیں۔میرے حساب سے سوائے چند سر پھروں کے کوئی نہیں جو عمران خان کو عمران رہنے دینا چاہتا ہے اکثر اپنی اپنی قسمت سنوارنے سر ڈھا کے لگے ہوئے ہیں۔سوشل میڈیا کے شیروں نے یہ کام بڑی خوبی
سے کیا ہے۔آج ایک نجی چینیل پر سچ پوچھیں سوائے شرمندگی کے ہمارے پاس کچھ نہ تھا کیا جواب دیں ملک کا سب سے اہم مسئلہ پانی ہے بھارت نے بگلیہار پر ڈیم بنا لئے اب وہ افغانستان میں دریائے قابل پر بارہ ڈیم بنانے پہنچ گیا ہے ۔آبی دہشت گردی کی حد ہو گئی ہے کالا باغ ڈیم کا کوئی نام نہیں لیتا ووٹ خراب ہوں گے۔عمران خان کے نام کو بیچنے والے لاکھوں نہیں اربوں پتی بن چکے ہیں۔ہاں کچھ لوگ ہیں جو ان خرافات کے راستے کی دیوار ہیں اللہ ان کا بھلا کرے وہ حق اور سچ کی آواز بن کر کھڑے ہیں۔انہیں ٹکٹوں کا لالچی نہ کہیں مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ٹکٹ وہ لے جائیں جو کروڑوں کا فنڈ دے کر بہت پیچھے سے آ کر ٹکٹ جیب میں رکھ لیں ۔یہ جیت بھی گئے تو کیا کرنل اکرام اللہ مروت ہوں گے۔یہ عمران خان کو ناکوں چنے چبوائیں گے ۔ایک خواب تھا جسے لوگوں نے دیکھا اور پی ٹی آئی کے لاکھوں لوگ چاہتے ہیں کہ عمران خان وزیر اعظم بنے۔اس کے لئے تن من دھن نچاور کئے ہوئے ہیں میں ابھی پی ٹی آئی ویمن ونگ کے جلسے سے آیا ہوں وہاں فوزیہ قصوری کی ساتھی خواتین آپا یاسمین کی صدارت میں بیٹھی تھیں نرگس نے یہ خوبصورت پروگرام کا انعقاد کیا جس میں کنول شاہوزیب کے علاوہ خواتین اور بچیوں کی بڑی تعداد شریک تھیں۔خواب ضرور دیکھئے اوؤر وہاں ان خواتین کو بھی دیکھا جو گزشتہ دو عشروں سے نئے پاکستان کی تلاش میں سر گرداں ہیں بہن پروین خان کو کون نہیں جانتا۔قوم اب چاہتی ہؤے کہ وہ دن آئے جب عمران خان اس ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالیں۔لیکن کیا اس طرح کی غلطیاں اس منزل کو دور نہیں کریں گی۔یہ کالم ایک کارکن کی آواز ہے کیا ہمارے لیڈران ولڈو کا کھیل کھیل رہے ہیں کہ 97ے13پر لا کر پی ٹی آئی کو لے آئیں گے۔عمران خان کے ذہن سے یہ کس نے نکالا ہے کہ وزارت عظمی ہی زندگی کا ہدف ہے۔کدھر ہے وہ عمران خان جو کہتا تھا میرا اللہ مجھ سے میری کوشش کا پوچھے گا۔جس کسی نے اسے اس راستے پر لگایا کہ اقتتدار کے بغیر زندگی بے کار ہے اس سے بڑا بے کار کوئی نہیں۔تحریک انصاف اس وقت انصاف مانگتی ہے اسے انصاف چاہئے عمران خان کے دائیں بائیں بیٹھے مہاشوں سے جو منہ دکھا دکھا کے تھکتے ہی نہیں کوئی سنجیدہ لیڈر آ جائے اسے دھکے دے کر تشریف مبارک کو رکھ دیتے ہیں۔اگر یہ بات ہے تو یہ بات بھی نوٹ کر لیں ہم اپنے ہاؤتھوں سے دلی کو دور کر رہے ہیں۔مخالفین جو مرضی کہیں اور جو مرضی کریں ان کا حق ہے کہ ہماری چھوٹی سی غلطی کو بڑا بنا کر پیش کریں۔یہ وہی لوگ ہیں جو ڈاکٹر قدیر خان کو صدر بنا رہے تھے آمنہ مسعود جنجوعہ کو دلاسے دے رہے تھے اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ پولیس سے ڈنڈے مروائے سڑک پر گھسیٹا۔ایمئ کانسی کو امریکہ کے حوالے کیا اس وقت تو کسی نے انہیں یو ٹرن نہیں کہا۔کالم لکھتے ہوئے بجلی چلی گئی ہے ۔کس ڈھٹائی سؤے شاہد خاقان عباسی جھوٹ بول گئے کہ کہیں لوڈ شیڈنگ نہی ہے۔ان کے پارلیمانی بورڈ دیکھیں اپنے گھر کے چار افراد ہیں باقی چھ کوئی کشمیری ہے کوءئ سمدھی ہے ۔اور کوئی ایفی ڈرین کیس کاملزم ہے اور باتیں کرتے ہیں اسد عمر جہانگیر ترین شاہ محمود قرؤیشی اور نعیم الحق کے بارے میں۔پی ٹی آئی اپنی غلطیوں کو خود دور کرے گی ۔اس نے استعجال میں یہ فیصلہ کیا لیکن جب اس فیصلے کے نقصانات کا علم ہوا تو اسے واپس لے لیا۔حضور پاکستان تحریک انصاف جتنی بڑی غلطیاں کر لے وہ یہ نہیں کرے گی کی اس ملک کی قسمت کا سوا ستیاس ہو جائے واربوں روپیہ باہر چلا جائے۔ختم نبوت جیسے حساس معاملے پر ترمیم کو واپس لینے والو یو ٹرن کے ماسٹر تم ہو۔اگر ہمت ہوتی تو ڈٹے رہتے آپ نے ترمیم کی اور جان بخشی ہوئی ویسے عشاقان رسول ﷺ کا غضب وزیر داخلہ تک پہنچ چکا ہے اللہ نہ کرے ان انتحابات میں وسطی پنجاب میں آپ کو کسی نے دروازے سے باہر نہ آنے دیا تو یہ ملبہ بھی عمران خان پر نہ ڈال دینا۔بندیال کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کے آنے سے کئی بندے سدھر گئے ہیں۔خود احتسابی ہے یہ کالم نہیں۔

Check Also

خدا جانے ہوا جانے

خدا جانے ہوا جانے باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری سرائیکی جیسی میٹھی زبان گوجری جو ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

%d bloggers like this: