Breaking News
Home / کالم / تکلیف تو پھر بھی ہوتی ہے نا

تکلیف تو پھر بھی ہوتی ہے نا

شہزاد بسراء
شاہد آفریدی کا سب کو پتا ہے کہ ناقابلِ اعتبار ہے۔ کسی بھی بال پہ آوٹ ہو سکتا ہے۔ مگر پھر بھی آس لگا لیتے ہیں اور جب آفریدی پہلی ہی بال پر چھکا لگانے کی کوشش میں آسان سا کیچ پکڑا کر پیویلین کی طرف چل پڑتا ہے تو پورے سٹیڈیم کو جیسے سانپ سونکھ جاتا ہے۔ حالانکہ سب ذہنی طور پہ تیار تھے کہ پہلی ہی بال پہ آوٹ ہو سکتا ہے۔ پر جب واقعی پہلی بال پہ آوٹ ہوتا ہے تو تکلیف تو ہوتی ہے نا۔
سیانے کہتے ہیں کہ کوشش کرتے رہیں مگر ناکامی یا بُرے حالات کے لیے ذہنی طور پہ ہمیشہ تیار رہیں تا کہ اچانک شاک نہ لگے اور دکھ تکلیف قدرے آٓرام سے سہہ سکیں۔ مگر جتنا مرضی ذہنی طور پہ تیار رہو تکلیف تو پھر بھی ہوتی ہے نا۔
اچھی طرح پتا ہوتا ہے کہ باس کسی بھی وقت، کسی بھی بات پہ ذلیل کر سکتا ہے۔ مگر ذہنی طور پہ تیار رہنے کے باوجود جب باس بے عزتی کرتا ہے تو تکلیف تو ہوتی ہے نا۔
تربوز کاکویٔ اعتبار نہیں کہ کیسا نکلے مگر جب آٹھ کلو والا تربوز کچا اور پھیکا نکل آتا ہے تو تکلیف تو ہوتی ہے نا۔
اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ غلطی ہو جاۓ تو قبلہ ابا جان نے جوتے کی گرد آپ سے صاف کرنی ہوتی ہے مگر یقین مانیں جوتا چاہے والدِ گرامی سے لگے تکلیف تو ہوتی ہے نا۔
لوڈ شیڈنگ اور بغیر اطلاع بجلی کا غایٔب ہونا معمول ہے۔ مگر پھر بھی جب بجلی جاتی ہے تو تکلیف تو ہوتی ہے نا۔
ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی ایک معول ہے اور ہر سگنل پہ ضرور کسی نہ کسی نے غلط سمت یا اشارہ کاٹنا ہوتا ہے مگر پھر بھی جب ایک باریش صاحب بڑے دھڑلے سے فخریہ انداز سےسگنل توڑ کر سایٔکل، موٹر سایٔکل یا گاڑی گزارتے ہیں تو تکلیف تو ہوتی ہے نا۔
اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ بیوی کسی بھی قوت کسی بھی بات پہ بگڑ سکتی ہے اور مہمانوں کے سامنے آپ کی عزت افزایٔ کر سکتی ہے مگر پھر بھی جب بگڑتی ہے تو تکلیف تو ہوتی ہے نا۔
گرمیوں کے امرود میں جاندار چیزوں کی موجودگی کا ہر ٹایم دھڑکا رہتا ہے مگر پھر بھی جب امرود کو دانتوں سے کاٹو اور آدھی سنڈی نظر آۓ تو تکلیف تو ہوتی ہے نا۔
محبوب کہتے ہی اسے ہیں جو ناراض ہونے کا بہانہ ڈھونڈے۔ مگر جب وہ روٹھتا ہے تو عاشق عطااللہ کے گیت سنتا ہے اور تکلیف تو ہوتی ہے نا۔
اچھی طرح پتا ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یٔ بھی فضول بیان دے سکتا ہے مگر جب وہ بیان دیتا ہے تو تکلیف تو ہوتی ہے نا۔
سارا سمسٹر نہ کلاس لی اور نہ ہی کبھی پڑھا اور ٹیچر بھی وہ جو سفارش نہیں مانتا۔ مگر جب فیل ہوتے ہیں تو تکلیف تو ہوتی ہے نا۔
خوب اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر لالچی ہوتے ہیں مگر جب ڈاکٹر اپنی کمشن کی لالچ میں مہنگی اور فالتو ادویاء لگتا ہے تو تکلیف تو ہوتی ہے نا۔
پہلے سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست دان ملک اور قوم سے زیادہ پیسے کے پجاری ہوتے ہیں مگر جب ان کا کچا چٹھا کھلتا ہے تو تکلیف تو ہوتی ہے نا۔
ہماری قوم میں جہالت بہت ہے مگر پھر بھی جب چور پارٹی کے ووٹ زیادہ نکلتے ہیں تو تکلیف تو ہوتی ہے نا۔

Check Also

عوامی فیصلہ اور جمہوریت کے علم بردار!

(شیخ خالد زاہد) ۲۰۱۸ کے انتخابات بخیر و عافیت تکمیل کو پہنچ ہوچکے ہیں ۔ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

%d bloggers like this: