Breaking News
Home / ادب / شعرو ادب / وقت کیساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں

وقت کیساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں

غزل

(خالد راہی)

وقت کیساتھ ساتھ مسکرانا بھول گیا ہوں

شائد اس کو یاد جو آنا بھول گیا ہوں

یہ بات بھی اسکو بتانا بھول گیا ہوں

اب میں روٹھنا منانا بھول گیا ہوں

زمانے بیت گئے ہوں خود سے ملاقات کئے

بھیج کر کہیں خود کو بلانا بھول گیا ہوں

گستاخ کہہ کر بزم سے نکالا جا رہا ہوں

شائد نظروں کو جھکانا بھول گیا ہوں

بہت خوفزدہ، سہمی سی آئی تھی نیند

آنکھوں میں اسکو بسانا بھول گیا ہوں

ملاقات کا وعدہ کر کہ تو آگیا ہوں

نا ملنے کا بہانا بنانا بھول گیا ہوں

گمنام راستوں میں کوئی بھٹکتا ہے

رستہ جسکو بتانا بھول گیا ہوں

ڈوبنے سے مجھکو روک رہا ہے خالد

جسے گھر چھوڑ کے آنا بھول گیا ہوں

Check Also

جب ہم کہیں نہ ہوں گے، تب شہر بھر میں ہوں گے

اس   بات   کا  مجھے   ہمیشہ   از   حد   افسوس رہے گا کہ  ایک   ہی   شہر   کے  ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

%d bloggers like this: