Breaking News
Home / کالم / وہ میچ نہیں امن و آتشی کا استعارہ تھا

وہ میچ نہیں امن و آتشی کا استعارہ تھا

باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری
لوگ میچ دیکھ رہے تھے میری کنڈ ٹی وی کی طرف تھی۔ایک ایک گیند پر تماشائیوں کا شور،میں دل میں سجدہ ریز تھا میں سوچ رہا تھا کیا یہ وہی کراچی ہے میں سوچ رہا تھا کیا اس شہر آشوب کا نقشہ بدل چکا ہے۔میں نے اللہ کا شکر ادا کیا جب جب شکر ادا کرتا گیا مجھے وہ قیامت کی گھڑیاں یاد آتی گئیں کیا یہ نوے کا کراچی ہے اور کیا یہ نئی صدی کے ان پندرہ سالوں ولا کراچی ہے جہاں کے لوگ واہ واہ کر رہے تھے۔مجھے سچ پوچھیں یقین نہیں آ رہا تھا یہ اسلام آباد یونائٹڈ اور پشاور زلمی کا میچ تھا جو بھی جیت جائے گا پاکستان جیتنے والا ہو گا۔میرا دل بلیوں اچھل رہا تھا بھائی کی موت کا دکھ اپنی جگہ اور میرے پاکستان کے چہرے پر جو رونقیں بحال ہوئیں اس کی خوشی کا کون شمار کرے۔اللہ ہے ناں ایک وقت تھا سوچا کرتا تھا کیا اس شہر قائد کی رونقیں بحلا ہو جائیں گی۔مجھے سچ پوچھیں کبھی بھی یقین نہیں تھا۔میں ایک سیاسی کارکن ہوں مجھے کہنے دیجئے یہ کسی سیاست دان کی جیت نہیں ہے اسے میرے ان جوانوں نے ہمارے مقدر میں لکھ کے دیا ہے جنیوں نے سیاچین پر بھی مایوس نہیں کیا اور دوسرے بارڈروں پر بھی۔اس شہر پر ایک آسیب کا سایہ تھا کوئی چوں نہیں کر سکتا تھا کوئی چراں نہیں کر سکتا تھا کرکٹ کی گیند سے پاکستانیت ابل کر سامنے آئی اور پیغام دے گئی ان ننگ وطن لوگوں کو جو یہ سمجھتے تھے کہ کراچی لسانیت پرست سنپولیوں کا ہے یہ ان کا ہے جو دو قومی نظرئیے کے قاتل ہیں۔دوستو یاد ہے کہ ایک مکروہ آواز ہوا کرتی تھی جس کی آواز سے حمار بھی شرمندہ شرمندہ ہوتے تھے۔جو کہا کرتا تھا کہ کراچی کا سورج میری خواہش کے تابع ہے جب چاہوں طلوع کروں اور جب چاہوں غروب کر دوں۔اور سچی بات ہے ایسا ہی ہوتا رہا۔اس شہر میں بشری زیدی ٹریفک حادثے میں ماری گئی ایک بشری کا مری پاکستان کے حلئے کو بگاڑ کے رکھ دیا۔ایسٹیبلیمنٹ کا نام استعمال کر کے پاک فوج کے منہ پر کالک ملنے کی کوششیں آج سے نہیں برسوں سے ہو رہی ہیں۔سچ پوچھئے میں اس کراچی کو جانتا ہوں جہاں سیر کرنے ستر کی دہائی کے وسط میں پہنچنے کا ارادہ کیا تو سوچا کہ کیا ہم اس مہذب شہر کے باسیوں کا سمانا کر پائیں گے استاد ٹرین کے ڈبوں میں بھی سمجھاتے رہے کہ یہ شہر بڑے ادب اور آداب والے لوگوں کا ہے وہاں کے بازاروں اور گلیوں میں لاہور کی لاج رکھنا۔اور ہم ڈرے سہمے اس شہر میں گئے اور ڈرے سہمے آ گئے خوف کسی دہشت گرد کا نہ تھا خوف تھا کہ ادب والوں کی نگری میں کوئی گستاخی نہ ہو پھر کیا ہوا؟ایک ہوا چلی ایک آندھی آئی جس نے اس شہر کے منہ پر کالک مل دی۔وہ لوگ جن کی زبانیں کوثر و تسنیم سے دھلی ہوتی تھیں ان کے منہ سے شعلے اگلنے لگے اور کراچی غنڈستان بنا دیا گیا۔جس کسی نے رہنا ہے بھتہ دے چندہ دے فطرانہ دے چاہے وہ غیر مسلم ہے پھر بھی فطرانہ نکالے۔کسی گمنام گلی میں کتے کی موت مر جانے سے بہتر تھا لوگ جیبیں خالی کرتے رہیاسی شہر میں بلدیہ ٹاؤن کا واقعہ ہوا اسی شہر میں ۱۲ مئی بھی ہوئی کس کس کا ذکر کروں کہاں سے لاؤں وہ لوگ جو سراپہ ء پاکستان تھے کدھر ہیں سید صلاح الدین جو تکبیر کے روح رواں تھا پاکستان کی جان تھے اور کدھر گئے وہ حکیم سعید جو پاکستان کو مدینہ سمجھ کر مہاجر بنے تھے اور پھر کسی نے نوحہ لکھا کہ حکیم سعید میں کفرستان میں رہ کر بچ گیا تو مدینے میں مارا گیا؟حالانکہ سچ یہ تھا کہ اسی کفرستان سے لوگ آتے تھے اور اس مدینے کی گلیوں میں خون بہا کر چلے جاتے تھے۔وہ کن ٹٹے ،فہیم کمانڈو ،کالئے جو کراچی میں وارداتیں کرتے رہے وہاں سے جدہ کے عزیزیہ محلے کے بازاروں میں دیکھے جاتے رہے اور اگلی صبح جدہ قونصلیٹ میں بیٹھے الطافی چیلوں کی جانب سے لندن ساؤتھ افریقہ کے لئے ویزے سٹیمپ کرا کے عازم سفر ہوتے رہے۔
خوف ایسا کہ شہر کی گلیوں کے مکیں چاپ سنتے تھے تو لگ جاتے تھے دیوار کے ساتھ یہ بوٹوں کی چاپ سے زیادہ کلاشنکوفوں کی آواز تھی۔ایک بار اعجاز کے ساتھ اس کا پلاٹ دیکھ رہا تھا کہ اوپر سے دو موٹر سائکل والے آ گئے میں نے اعجاز سے کہا گئے کام سے اور اللہ کا کرم ہوا وہ پاس سے گزر گئے۔یہ تھا ماضی قریب کا کراچی۔نفرت تعصب سے گندہ ہوا شہر قائد جہاں پریڈ کے دوران بھی سنائپر کی گولی کام دکھا گئی۔ایک وہ شور اور یہ شور جو میری کمر کے پیچھے دیوار سے لگی سکرین سے اٹھ رہا تھا میں نے میچ دیکھا نہیں سنا ہے اور میں اسی شور کو سننے کو ترس گیا تھا ۵۰۲ے ٹی وی لاؤنج میں اٹھنے والی آوازیں گواہی دے رہی تھیں کہ قائد کا پاکستان ہمیشہ زندہ رہے گا۔کھیلیں امن کا پیامبر ہیں انہیں پاکستان سے دور نہ کیا جائے۔اس میں جس نے بھی حصہ ڈالا ہے وہ قابل ستائیش ہے۔ ملک خدادا پاکستان رہتی دنیا تک رہے گا انشاء اللہ اسے کوئی نہیں مٹا سکتا اور نہ ہی اسے کوئی شکست دے سکتا ہے۔
وہ مکمل سچ تھا جو ۱۹۱۵ کی بزم شبلی میں چودھری رحمت علی نے بولا تھا کہ الگ ہو جاؤ ان سے اور نہ رابطے رکھو ان ہندوؤں سے اس لئے کہ یہ تمہاری مساجد کو بھی کھا جائیں گے اور تمہارے پانیوں پر بھی قبضہ کر لیں گے۔جس خواب کو علامہ محمد اقبال نے دیکھا اور جسے عملی جامہ پہنایا قائد اعظم نے۔یہ کرکٹ میچ نہیں تھا یہ اعلان جنگ تھا دو قومی نظرئیے کے دشمنوں کے خلاف۔ان کے لئے بھی ایک سبق تھا جو کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک لکیر سی ہے ویسے ہم ایک ہیں ہم بھی اسی رب کو مانتے ہیں جسے آپ مانتے ہیں۔
کچن کی دیوار سے ملحقہ ڈائنینگ ٹیبل پر میرے سامنے بھی آلو گوشت تھا جو ایک لیڈر کو پسند ہے۔جو فرط جذبات میں کہہ گئے کہ میں بھی اسے پسند کرتا ہوں اور آپ بھی شائد اس بھولے بادشاہ کو علم نہیں تھا کہ جھٹکے اور حلال کا فرق بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔مجھے آج وہ بھی مکار یاد آیا جس کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اندر سے توڑیں گے اس اندر سے توڑنے والے کے منہ پر گھسن لگا اور اس نے بھی جان لیا کہ اندر تو کوئی گڑ بڑ ہے ہی نہیں یہ جو کچھ ہے اس ملک کے باہر کے دشمن کرتے ہیں۔
پاکستانی قوم کو خوشیاں مبار ک ہوں قوم کو اس خوشی کا انتظار تھا اس بار کھلاڑی بھی بڑے نامور تھے اور شائقین کو بہت اچھی کرکٹ دیکھنے کو ملی۔پاکستان کے لوگو یہی کچھ تو ہمارے بزرگوں کا خواب تھا کہ وہ سر زمین پاک حاصل کریں جہاں ہ امن سے رہ سکیں پیار سے رہ سکیں صرف مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی۔جینا تو سچی بات ہے ہم امن سے چاہتے ہیں لیکن ہمارے خواب ہماری سوچوں کو ایک ایسے دشمن نے ہم سے دور کئے رکھا جس سے کوئی بھی گوانڈی سکھی نہیں ہے چاہے بنگلہ دیش ہو یا نیپال سکم ہو یا بھوٹان سب کے اوپر تھانے داری کا رعب جمانا چاہتا ہے یہ بھارت۔
پاکستان کے بننے سے لے کر آج تک اسے سکھ کا سانس نہیں لینے دیا گیا۔۱۹۴۰ سے ۱۹۴۷ تک کی جد و جہد آزادی کے سال قربانیوں کی لازوال داستانوں سے مرصع ہیں اور آزادی کے بعد میں یہ داستاں خون سے ہی لکھی گئی ہے۔سچ ہے کہ پاکستان جینا چاہتا ہے امن سے پیار سے مگر اسے جینے نہیں دیا جا رہا۔شائد یہ کوئی اور ملک ہوتا تو میں بھی فوج کی اہمیت اور اس کی ضرورت کا اتنا پرچارک نہیں ہوتا لیکن جس کا دشمن موزی ہو اس کی فوج کو پاکستان جیسی فوج کی طرح ادارہ ملنا چاہئے۔جمہوریت پنپے پھیلے اور پھولے ضرور پھیلے اور پھولے مگر اپنے اس اہم اور محترم ادارے کے احترام کے ساتھ۔میں وہ آخری آدمی ہوں گا جو اس ملک میں مارشل لاء کی حمائت کرتا نظر آؤں گا مجھے علم ہے اور میں جانتا ہوں کہ میرے سجیلے جوان بارڈروں پر ہی اچھے لگتے ہیں مجھے ۲۰۰۲ کا جدہ یاد ہے اور آمریت کے دن بھی۔فوج اس ملک کے امن کی ذمہ دار ہے اور اس نے جس طرح لسانیت پرست سنپولیوں سے میرے ملک کو آزاد کرایا ہے اسے مبارک باد دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔کرکٹ میچ کی جیت قوم کی جیت ہے۔قوم کو مبارک ہو۔لوگ میچ دیکھ رہے تھے میری کنڈ ٹی وی کی طرف تھی۔ایک ایک گیند پر تماشائیوں کا شور،میں دل میں سجدہ ریز تھا میں سوچ رہا تھا کیا یہ وہی کراچی ہے میں سوچ رہا تھا کیا اس شہر آشوب کا نقشہ بدل چکا ہے۔میں نے اللہ کا شکر ادا کیا جب جب شکر ادا کرتا گیا مجھے وہ قیامت کی گھڑیاں یاد آتی گئیں۔وہ میچ نہیں ایک استعارہ تھا امن و آتشی کی بانگ تھی۔مبارک صد مبارک

Check Also

داستاں ضمیر فروشوں کی 

  باعث افتخار  انجینئر افتخار چودھری عنائت اللہ نے تو ایمان فروشوں کی کہانی لکھی ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

%d bloggers like this: