Breaking News
Home / حالات حاضرہ / خبریں / ’جب بھی بازار سے نئے کپڑے خریدیں تو گھر آتے ہی ان کے ساتھ یہ ایک کام ضرور کرلیں‘ ماہرین نے خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لئے وارننگ دے دی

’جب بھی بازار سے نئے کپڑے خریدیں تو گھر آتے ہی ان کے ساتھ یہ ایک کام ضرور کرلیں‘ ماہرین نے خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لئے وارننگ دے دی

’جب بھی بازار سے نئے کپڑے خریدیں تو گھر آتے ہی ان کے ساتھ یہ ایک کام ضرور کرلیں‘ ماہرین نے خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لئے وارننگ دے دی

اچھی خاصی رقم خرچ کر کے نیا لباس خریدنے پر جی تو چاہے گا کہ اسے فوراً سے پہلے پہن لیں لیکن ہمیشہ دل کی بات سننا بھی اچھا نہیں۔ جی ہاں، سائنسدانوں کا یہی کہنا ہے کہ نئے لباس کی خوشی میں بے صبری کا مظاہرہ مت کریں بلکہ پہلے اسے خوب اچھی طرح دھوئیں اور پھر پہنیں۔
’دی میٹرو‘ کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی میڈیکل سنٹر کے پروفیسر آف ڈرماٹالوجی ڈونلڈ بیلسیتو اور ان کی ٹیم نے نئے لباس میں موجود کیمیکلز اور جراثیموں پر ایک تحقیق کی ہے۔ ڈاکٹر ڈونلڈ نے اپنی تحقیق کے نتائج کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ”جو کپڑے آپ نئے خرید کر لاتے ہیں وہ تیاری کے مراحل سے لے کر بکنے تک طرح طرح کے کیمیکلز اور جراثیموں کی زد میں آتے ہیں۔ فروخت سے پہلے انہیں متعدد بار مختلف لوگوں نے پہن کر ٹیسٹ بھی کیا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر ان میں فنگس اور مختلف جلدی بیماریوں کے جراثیم منتقل ہوجاتے ہیں۔ میں نے خود نئے کپڑوں کا تجزیہ کرکے ان میں مختلف اقسام کی جلدی بیماریوں کے جراثیم اور حتیٰ کہ جوئیں بھی دیکھی ہیں۔ کپڑے کی تیاری کے دوران اس پر بہت سے ایسے کیمیکل بھی استعمال کئے جاتے ہیں جو جلد پر سوزش پید اکرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگر آپ ان کپڑوں کو بغیر دھوئے پہن لیتے ہیں تو یقیناً آپ کئی قسم کی بیماریوں کو دعوت دے رہے ہیں، جن میں جلدکی بیماریاں سر فہرست ہیں۔نئے لباس کو ایک بار دھو لینا ان مسائل سے یقین تحفظ فراہم کر دیتا ہے۔“

Check Also

ایک سالہ بچہ جو ماہانہ پونے 2لاکھ روپے کماتا ہے مگر کیسے؟

سوشل میڈیا انفلوئنسرز اب کوئی نئی بات نہیں۔ سوشل میڈیا پر شہرت پانے والے یہ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: