Home / کالم / عید میلاد النبیﷺ۔ اہمیت اور تقاضے

عید میلاد النبیﷺ۔ اہمیت اور تقاضے

افکار تازہlogo arif
عارف محمود کسانہ
دنیا کی تمام اقوام اور مذاہب کو ماننے والے اپنے، قومی دنِ، اہم ایام اور تہوارپورے جوش و خروش سے مناتے ہیں جس سے اُن کی قومی وحدت ، اپنے نظریہ سے لگن اور اُس کے ساتھ اپنی وابستگی کا بھر پور اظہارہوتا ہے۔ اس طرح کی تقریبات ایک طرح سے اُن کے ملی اور قومی جذبہ کا مظہر ہوتی ہیں۔ سورہ یونس کی آیت ۵۸ میں اہلِ ایمان کو حکم دیا گیا کہ قرآنِ حکیم جیسی عظیم نعمت جو بعثِ محمدیﷺ سے ممکن ہوئی، اس کے ملنے پر جشنِ مسرت مناؤ۔ قرآن صاحبِ قرآن سے تو الگ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ آپﷺ نے اپنی تئیس سال کی زندگی میں قرآن کو عملاََ متشکل کر کے دیکھایا نیزاُم المومنین حضرت عائشہؓ کا ارشاد ہے کہ حضورﷺ کا خلق قرآن تھا یعنی آپ مجسمِ قرآن تھے۔ اِس لیے نزولِ قرآن پر جشنِ مسرت تو عیدالفطر کی صورت میں منایا جاتا ہے اور مجسمِ قرآن کے لیے جشن ربیع الاول میں ہوتا ہے۔ سورہ مائدہ کی آیت تین میں دینِ اسلام کو نعمت کہا گیا ہے اورجب دینِ اسلام نعمت ہے تو حضورﷺؑ بھی تو نعمت ہیں جن کی وجہ سے ہمیں دین ملا ۔ بلکہ قرآنِ حکیم نے متعدد مقامات پر حضورﷺ کو واضح طور پر اللہ کی نعمت قرار دیا ہے۔نعمت کا ذکر کرنے کے بعدیہ بھی ارشاد فرمادیا کہ نعمت ملنے پر اُس کا چرچا کرو اورنعمت ملنے پر اُس کا شکر ادا کرنے کے بارے میں تو قرآنِ حکیم میں بہت زیادہ آیات ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرمﷺ کو نعمت قرار دیاہے بلکہ آپ نعمتِ کبرٰی ہیں توآپﷺ کی ولادت پر خوشی در حقیت انہی قرآنی تعلیمات پر عمل کرناہے۔ اللہ نے آپﷺ کی بعث کو مومنین پر احسان قرار دیاہے۔ِ قرآن حکیم کی روشنی میں حضورﷺ کی ولادت پر خوشی کرنا درحقیت اللہ کا حکم بجا لانا ہے اور جشنِ مسرت نہ مانا اللہ تعالٰی کی حکم عدولی ہے۔ جب خود خدا اُن کی تعریف کرتا ہے اورحضور کوخود بہت محبت سے مخاطب کرتا ہے تو پھر بندہ مومن کیوں نہ حکمِ ربانی کو بجا لاتے ہوئے ذکرِ مصطفےﷺ کی محافل کا انعقاد کرے۔جب قرآن واضع طور پر کہہ رہا ہے کہ نعمتِ الہی کا شکر ادا کرو اور جشنِ مسرت مناؤ پھر کون ہے جو انکار کی جراٗت کرے۔ یہ محافل حضور سے اپنی محبت اور وابستگی کا اظہارہوتی ہیں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ہے تم میں سے کوئی اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ مجھ سے سب زیادہ محبت نہ کرے۔جس سے محبت ہو اُس کا تو اکثر ذکر ہوتا ہے اور جس کا عملی مظاہرہ قول و فعل سے نظر آتا ہے۔
یہ دِن حضورﷺ کی ولادت کا ہو یا اِس دنیا سے تشریف لے جانے کا، دین کی ابتدا کا دِن ہو یا تکمیلِ دین کی خوشی میں یا پھر ہجرت کے واقعہ کی یاد میں ، اِس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ مقصد ایک ہی ہوتا ہے اور وہ یہ کہ قرآن حکیم اور اسوہ حسنہ کی روشنی میں ختم المرسلینﷺ کا مقام و مرتبہ، اُن کی شان بیان کرکے اُن کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے اور اپنی زندگی کو اُن کے اُسوہ حسنہ پر چلنے کا عزم کیا جاتا ہے بہت سی روایات ایسی موجود ہیں جن میں حضورﷺ نے اپنی ولادت کا تذکرہ کیا ہے اور آپﷺ اپنی ولادت کے دِن یعنی پیر کو روزہ رکھا کرتے تھے ۔ حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن زہیرؓ ، چاروں خلفاء راشدین، حضرت فاطمہؓ، حضرت عائشہؓ اور کم از کم ۳۴صحابہ اکرامؓ کی آپﷺ کی شان میں نعتیں بھی تو اِسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ حضورﷺ کے ذکر کی محافل کے طریقہ کار اور انداز کو ہر کوئی اپنے دینی فہم اور محبت کی روشنی میں ترتیب دے سکتا ہے اور یہ بات یقیناََ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کوئی بھی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے دین نے منع کیا ہے۔ تقریبات کو منانے کے لیے ضروری نہیں کہ ہر کوئی ایک سا طریقہ اپنائے۔ اب بھی مختلف ممالک میں میں مختلف انداز میںیہ دِن منایا جاتا ہے اور تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ قرآن کی روشنی میں رسالت کا مقام اور آپﷺ کے بارے میں قرآنی آیات کا مفہوم پیش کرنے کی محافل سے کسی کو بھی اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ حضورﷺ کی ذاتِ بابرکات کے بارے کچھ بھی کہنے سے پہلے بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے قرآن حکیم میں متنبہ کیا ہے کی نبی رحمتﷺ کے بارے میں الفاظ کے چناؤ میں انتہائی احتیاط لازم ہے۔اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا کہ حضورﷺ کو ایسے مخاطب نہ کرو جیسے ایک دوسرے کو کرتے ہواوراپنی آواز کو حضورﷺ کی آوازپر بلند کرو ، یہ نہ ہو کہ تمھارے تمام اعمال ضائع ہو جائیں اور تمھیں شعور بھی نہ ہو لہذا بارگاہ رسالت کے بارے بات کرتے ہوئے ازحد احتیاط کی ضرورت ہے۔ جہاں تک میلاد کی محافل کا تعلق ہے تو مجھے تویہ کہنا ہے کہ ہم نے اِن محافل کو صرف مسلمانوں تک کیوں محدود کردیا ہے۔ حضور ﷺ تو پوری کائنات کے لیے رحمت ہیں جن میں غیر مسلمان بھی شامل ہیں تو پھر حضورﷺ کی محافل میں غیر مسلمانوں کو کیوں شریک نہیں کیا جاتا۔ ہمیں پوری دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے کہ آپﷺ پوری انسانیت کے رحمت تھے اور سب سے بڑے سوشل ریفارمر تھے جن کی تعلیمات کا ثمر آج کی تمام انسانیت لے رہی ہے۔ دنیا بھر میں مسلم ممالک کے سفارت خانوں اور بالخصوص اقوامِ متحدہ میں اِس دِن کی مناسبت سے تقریبات منعقد کرکے دنیا کو انسانی حقوق کے بارے میں رحمتِ عالم کی تعلیمات خصوصاََ آپﷺ کے آخری خطبہ کو پیش کرنا چاہیے جو کہ حقوقِ انسانی کا عالمی چارٹرہے ۔ وہاں سب کو بتایا جائے کہ حضورﷺ نے غیر مسلموں، عورتوں، بچوں، زیر دستوں، جنگی قیدیوں اور جانوروں کے حقوق کا جوچارٹردیا تھا اُسی سے روشنی لیکراقوامِ متحدہ نے اپنا دستور بنایا ہے۔ اِس سے دنیا کو حضورﷺ کی شخصیت اور اسلام کی اصل تعلیمات سے آگاہی ہوگی۔بیرون ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں کو اس دن کی مناسبت سے تقریبات کا انعقاد کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان کا قیام اسی نظریہ کی بدولت ہے جو حضورؐ نے دیا تھا۔ حکومت پاکستان کو اس سلسلہ میں سفارت خانوں کو خصوصی ہدایات دینی چاہیے۔

Check Also

Tareen....

عمران خان جہانگیر ترین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)