Home / کالم / ہم جا نہ سکے

ہم جا نہ سکے

title ujalaiy......باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری

۱۲ نومبر کو ڈسکہ میں چودھری رحمت علی ٹیلینٹ ایوارڈ کی بڑی تقریب تھی جس کے مہمانان خصوصی میں سابق سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین سابق صوبائی وزیر چودھری اقبال گجر اینکر پرسن اسامہ غازی اور انجینئر افتخار چودھری حلیم اختر بھولی گجر کے علاوہ کئی اور برادری کے احباب تھے۔چودھری شفیق چیچی ارشد ضیاء گجر جو آل پاکستان گجرز ایسوی ایشن کے کے روح رواں ہیں ایسے موقعوں پر اپنی شراکت سے ان تقاریب کو رونق لگا دیتے ہیں ۔یہ ڈسکہ کی گجر برادری جس کے سر خیل جمیل چشتی سجاد گجر افتخار برسہ اور دیگر برادران ہیں ۔یہ لوگ نقاش پاکستان کی عظمت کا علم بلند کئے ہوئے ہیں۔امسال یہ چوتھا سالانہ اجتماع تھا نونہال بچوں کو ستائیشی ٹرافیاں نقد انعامات دئے جاتے ہیں۔تقریریں ہوتی ہیں اور لمبی تقریریں ہوتی ہیں۔سیاسی زعماء اپنے خیالات سے ان بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جنہوں نے کمال محنت سے کام لیتے ہوئے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہوتی ہے۔
میں اس کامیاب تقریب پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے احباب کو مبارک باد دوں گا۔میرے ساتھیوں کا پر زور اصرار تھا کہ میں پچھلے سال کی طرح اس بار بھی شریک ہوں۔لیکن بہت کوشش کے بعد اللہ کو حاضری منظور نہیں تھی۔سال رفتہ کو میں گجرانوالہ پہنچ گیا تھا جہاں سے برخوردار اویس اکرم کے ساتھ ڈسکہ پہنچ گیا تھا۔اس ڈسکہ سے یادیں وابستہ ہیں ۱۹۶۷ میں چیمہ ہسپتال سے آنکھ کا آپریشن بھی کرایا تھا اور یہیں زندگی میں پہلی بار مشروب غاز سے تشنگی مٹائی تھی فانٹا کی وہ دس آنے والی بوتل ساری زندگی یاد رہی اور رہے گی۔ڈسکہ میرے دوستوں کا شہر بھی ہے یہاں سے تعلق رکھنے والے دوست ساتھ ہی کے گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں ایک آدھ بار فیملی کے ساتھ جانا بھی ہوا۔مجھے برادری کے دوستوں کا دباؤ تھا کہ آپ ضرور آئیں۔اس سے بڑھ کر انتہائی پیار کرنے والے بھائی جمیل چشتی جن کے میریج ہال میں یہ تقریب ہوتی ہے ان کا بار بار فون بھی مجھے کھینچ رہا تھا برادرم سجاد گجر ایڈوکیٹ نے بھی اپنی محبت کا بے پناہ اظہار کیا تھا۔دوستوں کی یہ محبت اپنی جگہ لیکن عین اس روز جس پر سوار ہو کے جانا تھا راستے میں خراب ہو گئی حالانکہ گاڑی میری طرح پرانی نہ تھی لیکن نصیب۔ویسے چودھری امیر حسین اور برادر محترم اقبال گجر کے ہوتے ہوئے میں کیا میرا شوربہ کیا۔ایک خواہش تھی کہ ان کی پیاری پیاری دھیمے لہجے کی باتیں سنتا۔پچھلے سال کی تقریر بھی اس بار نا ممکن تھی اس لئے کہ سٹیج پر سپیکر اسمبلی اور بھائی چودھری اقبال اکٹھے ہوں تو ہم برخورداروں نے کیا بولنا اور کیا چہکنا۔چشم تصور میں اپنے آپ کو اپنی اس برادری کے درمیان محسوس کرتا رہا جس کے سرخیل نے پاکستان کی سوچ دی اور فکر دی۔
حقیقت یہ ہے کہ برادری سے محبت اور پیار کا ایک موسم ہوتا ہے جب ان کے درمیان ہوتے ہیں تو سوچتے ہیں ہم بہت کچھ کریں گے لیکن بدقسمتی سے اسلام آباد اور لاہور پہنچ کر ہمارے نمائیندگان کی آواز دب کے رہ جاتی ہے۔
گجر ایک مارشل قوم ہے اور اس قبیلے کی شناخت دلیر ی اور بہادری ہے۔سرحد کے اس پار ہو یا اس پار گجر نام ہی دہشت خوف کا ہے۔بس اس شناخت کو ہی تو بدلنا ہے جو ہمارا تفاخر ہے وہی ہماری کمزوری سی بن کے رہ گیا ہے۔پچھلی بار برادر پروفیس ساجد رشید نے بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی کے سیکڑوں اساتذہ میں سے صرف بارہ گجر ہیں یار لوگوں نے اس پر بھی تالیاں پیٹیں مقام افسوس تھا کہ ہمارے بڑے جنہوں نے پاکستان جیسے ملک کی سوچ اور فکر دی ہم ان کے راستے کو چھوڑ کلاشنکوف بندق کو اپنا مان سمجھتے ہیں۔
تایا جان پولیس میں تھے انہوں نے مجھے بتایا پنجاب کے قتل مقاتلوں میں گجر نام اکثریت میں دیکھا اور جب تحقیق کی تو لوگوں کے اکسانے پر وہ یاری کے نام پر یا مارے گئے یا قاتل بن کر سلاخوں کے پیچھے چلے گئے۔جب میں یہ جملہ پڑھتا ہوں کہ گجر دی یاری نصیب والوں کو لتی ہے تو مجھے ان کی بات یاد آ جاتی ہے۔جمیل چشتی جی مجھ میں ہمت نہیں ہے کہ میں آپ سے فون پر معذرت کر دون لیکن معافی نامہ لکھ کر بھیج رہا ہوں ۔حیران کن بات یہ ہے کہ میں اس دن چودھری لیاقت گجر راولپنڈی کے بھائی کی شادی میں بھی نہیں پہنچ سکا جو اسی روز سہ پہر میں تھی۔شادی میں یو کے سے خاص مہمان گجر بھی تھے جن میں سجاد کرین اور کرم حسین بھی تھے کجو وہاں کی لوکل باڈیز کے سینئر رہنما اور پارلیمنٹ کے ممبران بھی ہیں۔
چلئے چودھری امیر حسین کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کافی ہو گا کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔حلیم اختر بھولی سلیم حیدر،ارشد صاحب اور بے شمار دوستوں جن میں غلام مصطفی گجر و دیگر شامل ہیں ان سب کو نہ مل سکا۔اس کا کفارہ یہ ہے کہ اب کسی مناسب وقت پر برادری کا اکٹھ کرتا ہوں جس میں سب کو بلاؤں گا۔بس ایک بات گجروں سے کروں گا کہ کیا چودھری رحمت علی صرف گجروں کے لئے وطن کا تصور دے گئے؟اگر نہیں تو ہمیں بھی انہی کے راستے پر چلنا ہے اور دکھی انسانیت کی بلا تفریق برادری خدمت کرنا ہے۔چودھری اختر علی وریو اس موجودہ دور میں ہمارے سامنے ایک دھڑلے دار کردار ہے میں نے انہیں غریبوں کی بلا تفریق خدمت کرتے دیکھا ہے۔میرے مرحوم کزن مختار گجر نے غریب کے حالات بدلے ہاں ان جاگیر داروں کی آنکھوں میں ڈالیں جو پسے ہوئے پسماندہ لوگوں کو ساتھ بھی بیٹھنے نہیں دیتے تھے۔برادری کی خدمت کا تقاضہ ہے ان کے لئے ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں۔ جوانوں کے لئے کیرئر گائیڈنس،بلا سود قرضے،طلباء کے کے لئے وظائف ٹیوشن،فلاحی ہسپتال۔یقین کیجئے مختلف شہروں میں دوسری برادریوں نے اس میدان میں کافی کام کیا ہے گرچہ یاں محمد بخش کے نام پر کام کیا جا رہا ہے لیکن اس کی ضرورت کافی زیادہ ہے۔ایک اہم بات یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں سرگرمی کو زیادہ تیز کیا جائے ۔جتنے زیادہ لوگ حکومت یا اپوزیشن میں ہوں گے برادری کا فائدہ ہی ہو گا۔سیاست سے نفرت کا چلن چھوڑیں یہ الہی سنت ہے بندوں کے کام آنا اللہ کو بہت پسند ہے۔میں ایک بار پھر عدم شرکت پر معذرت کرتے ہوئے کامیاب فنکشن کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔امید ہے برادری کی ساری تنظیمیں مل جل کر ایک دوسرے کی تقریبات کو کامیاب بنائیں گی۔

Check Also

Tareen....

عمران خان جہانگیر ترین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)