Breaking News
Home / ادب / شعرو ادب / شاعری / اے دل بیتاب
pen...

اے دل بیتاب

شازیہ عندلیب

اے دل بیتاب مجھ کو تو بتا

مخفی ہے آخر راز کیا
کیوں قدم جمتا نہیں
کیوں قلم اٹھتا نہیں
کھڑکیاں ہی کھڑکیاں ہیں ہر طرف
کیوں دردل کوئی کھلتا نہیں
پردہ کوئی اٹھتا نہیں
اے محمل نشیں تو ہی بتا
جلتا نہیں کیوں دل کا دیا
کون یہ سمجھائے گا
کون یہ بتلائے گا
آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی
بن گئی سوچوں کی اک لڑی
کہ کریں نیکی کوئی بڑی
اک بات یہ سمجھ میں آگئی

تحریر تو ہو مختصر
بات لیکن ہو بڑی

 

Check Also

The autumn flower of sun flare.

آرزو آبرو سے باہر ہے

شاعر: جلیل نظامی ------ آرزو آبرو سے باہر ہے زخم کار رفو سے باہر ہے ...

2 comments

  1. Romana Qureshi kuwait

    shazia well said………. short,sweet and heart touching

  2. بہت شکریہ رومانہ ۔۔۔بس ایسے ہی میں نے تک بندی کر دی اور نظم نماء سی چیز بن گئی۔۔۔مجھے تو شاعر کہلانے سے بڑا ڈر لگتا ہے۔ مجھے ذیادہ مضامین ہی اچھے لگتے ہیں ورنہ شعروں کا وزن اور ناپ تول کرنا بڑا مشکل لگتا ہے۔۔۔۔پھر بھی پر خلوص حوصلہ افزائی کا شکریہ۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)