Breaking News
Home / حالات حاضرہ / خبریں / ’خیبرپختونخواہ کا وہ گاؤں جو عورتوں اور یتیموں کا گاؤں کہلاتا ہے کیونکہ ۔ ۔ ۔‘‘ وجہ ایسی کہ جنرل باجوہ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

’خیبرپختونخواہ کا وہ گاؤں جو عورتوں اور یتیموں کا گاؤں کہلاتا ہے کیونکہ ۔ ۔ ۔‘‘ وجہ ایسی کہ جنرل باجوہ بھی حیران پریشان رہ جائیں گے

45

پاک فوج دہشتگردی کیخلاف نبرد آزما ہے اور  دہشت گردی کی اس لعنت  نے پاکستان کے عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے اس کا ثبوت خیبر پختوخواہ کا یہ گاؤں ہے جہاں پانچ سو گھرانے آباد ہیں مگر ان میں سے اسی کے قریب گھر ایسے ہیں جن کے سربراہ دہشتگردی کا نشانہ بنے،یہ گاوں بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں کا گاﺅں کہلانے لگ گیا ہے۔ان بیوہ عورتوں کے روزگار کا کوئی مناسب انتظام نہیں ، گھروں کی چار دیواریوں میں بیٹھی  خواتین دن میں ایک وقت کے کھانے کے لیے سخت جدو جہد کرتی ہیں۔

یہ ذکر ہے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت کے دیہات شاہ حسن خیل کا جہاں آج سے کوئی ساڑھے سات سال پہلے خود کش دھماکے میں ایک سو دس افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ان 70 سے 80 گھرانوں کے کفیل اس دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد ان کے بیوی بچوں کی کفالت ایک مشکل مرحلہ تھا۔سابق دور حکومت میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو تین، تین لاکھ اور زخمیوں کو ایک، ایک لاکھ روپے دیے گئے تھے جو چند ماہ میں ہی خرچ ہو گئے۔

کبل بی بی کے شوہر اور ان کے دو بیٹے اس دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے.ایک بیوہ خاتون کبل بی بی کے شوہر اور ان کے دو بیٹے اس دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے اب ان کے گھر میں تین بیوائیں بیٹھی ہیں۔کبل بی بی کے آٹھ بیٹے تھے اب چھ بیٹے رہ گئے ہیں۔ ان کے بڑے بیٹے نے میٹرک کیا ہوا ہے اور اب وہ چارپائیاں بننے کا کام کرتا ہے۔ کبل بی بی پہاڑوں سے خود رو جھاڑیاں لاتی ہیں،ان سے بان یا رسی بنانے کا مشکل کام سر انجام دیتی ہیں، جس کے بدلے میں مقام دوکاندار انھیں ایک وقت کھانے کے لیے کبھی پیاز تو کبھی ٹماٹر دے دیتے ہیں۔اس رسی یا بان کی قیمت دس سے 20 روپے تک ہی ہوتی ہے۔

مقامی اخبار کے مطابق  کبل بی بی نے بتایا کہ ان کے شوہر مزدوری کرتے تھے بڑے بیٹے بھی روزانہ کام کرکے کچھ کما کر لے آتے تھے لیکن اب تو فاقوں کی صورتحال ہے۔ کبھی پیاز یا ٹماٹر مل جاتے ہیں اور کبھی کچھ کھائے بغیر ہی سو جاتے ہیں۔ کوئی کام نہیں کر سکتی، ہاتھ جواب دے چکے ہیں، اپنی روٹی اور چائے نہیں لے سکتی۔ زندگی کی سختیاں ہیں جسے بسر کر رہے ہیں۔‘کبل بی بی نے بتایا کہ ان کے گاوں میں بڑی تعداد میں بیوائیں ہیں اور سب کا یہی حال ہے۔چارپائی بننے کے لیے استعمال کی جانے والی رسی یا بان جنگلی جھاڑیوں سے بنائی جاتی ہے اور یہ انتہائی مشکل کام ہے۔

یہ رسی بنا بنا کر کبل بی بی کے ہاتھ پتھر کی طرح سخت ہو چکے ہیں اور یہی حال دیگر بیواوں کا بھی ہے۔اس گاوں میں دھماکے کے اثرات اب بھی نمایاں ہیں۔ بیشتر زخمی اب معذور ہیں تو ہلاک ہونے والے افراد کے بچے یتیمی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ان خواتین نے دوبارہ شادی نہیں کی اور حکومت نے دہشت گردی کی شکار ان خواتین کی فلاح کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔اس گاﺅں کے کھیتوں اور کھلیانوں میں ویرانیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

Check Also

srange creaure on Karachi sea

کراچی میں چرنا آئی لینڈ کے قریب کلر وہیل کاجھنڈ دیکھا گیا:ڈبلیوڈبلیو ایف پاکستان

ڈبلیوڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق کراچی کے چرنا آئی لینڈ کے قریب کلر وہیل کاجھنڈ ...

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)