Home / کالم / سرسید ثانی
Aligarh university....

سرسید ثانی

afkare taza

افکا ر تازہ
سرسید ثانی
عارف محمود کسانہ
کسی بھی ملک یا معاشرہ کی ترقی و خوشحالی کے لئے تعلیم و تربیت سب سے اہم اور بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ تعلیمی انقلاب ہی سماجی اور معاشی انقلاب کا باعث ہوتاہے۔ ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک اپنی درسگاہوں کی بدولت دنیا میں بلند مقام پر کھڑے ہیں جبکہ مسلم ممالک تمام تر وسائل ہونے کے باوجود تعلیمی پسماندگی کی وجہ سے دوسروں کے دست نگر ہیں۔ تحریک پاکستان میں جو کردار مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے ادا کیا ، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہ نظام کائنات ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو محنت اور لگن سے اپنی خواہش کے مطابق منزل حاصل کرلیتے ہیں لیکن قدرت نے انہیں کسی اور مقصد کے لئے پیدا کیا ہوتا ہے اور ان کی منزل کوئی اور ہوتی ہے۔ اس حقیقت کی ایک مثال ڈاکٹر امجد ثاقب کی ہے جنہوں نے کنگ ایڈوڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کرنے اور بعد ازاں سی ایس ایس کرکے ڈی ایم جی( پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس PAS ) جیسی اعلیٰ ترین اور پرکشش ملازمت کو خیر آباد کہہ کر خدمت خلق کا راستہ اپناتے ہوئے اخوت کا سفرشروع کیا ۔ ان کی جلائی ہوئی شمع سے اب پورا ملک روشن ہورہا ہے اور اب یہ ایک تحریک بن چکی ہے۔اخوت بینک کے ملک بھر میں سات سو سے زائد مراکز قائم ہیں جہاں سے بیس لاکھ خاندانوں یعنی ایک کروڑ سے زائد افراد کو معاشی طور پر خود مختار بنا نے کاا یسا کار عظیم ہے کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔ سویڈن اور فن لینڈ کی مجموعی آبادی سے کے برابر لوگوں کو ان کا اپنا کاروبار دے کر ان کی غربت ختم کردی ہے۔ 2001 سے اب تک 46 ارب روپے قرضہ حسنہ کی صورت میں غریب لوگوں کو دیئے گئے ہیں جن پرکسی قسم کے سروس چارجز اور فیس باکل نہیں ہوتی۔ یہ تحریک مواخات مدینہ کی درخشاں روایت پر قائم ہے۔ یہ رنگ و نسل اور مذہب سے بالا تر انسانی خدمت کی جدوجہدہے۔ نقطہ شرح مبین پر عمل نے قرض لینے والے کو دینے والا بنا دیا ہے ۔انہوں نے ایک اور اہم اور اپنی نوعیت کا واحد منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت خواجہ سراؤں کو ملازمتیں اور وظائف دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے معاشرہ کے ان ٹھکرائے ہوئے لوگوں کو باعزت مقام دینے کے لئے قابل تحسین کام کیا ہے۔ انہوں نے استعمال شدہ کپڑوں کو مرمت اور دھلائی کے بعد مستحق لوگوں میں مفت تقسیم کرنے کا بھی سلسلہ شروع کیا ہے جس سے ہزاروں لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
غربت کے اندھیرے دور کرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر امجد ثاقب اب جہالت کی اندھیرے دور کرنے کے لئے اخوت یونیورسٹی قائم کررہے ہیں جس میں معاشرہ کے ہر طبقہ سے طلبہ تعلیم حاصل کریں گے جبکہ مستحق طلبہ کو مفت تعلیم اور قیام و طعام کی سہولت حاصل ہوگی۔اس یونیورسٹی میں تعلیم کے ساتھ تربیت پر خصوصی توجہ ہوگی جو ہماری جامعات میں مفقود ہے۔ اس کار خیر میں ہر کوئی حصہ لے سکتا ہے اور ایک ہزار روپے سے یونیورسٹی میں ایک اینٹ لگا سکتا ہے۔ چند ماہ قبل ڈاکٹر امجد ثاقب سویڈن تشریف لائے تھے اور انہوں نے اخوت یونیورسٹی کے منصوبہ اور دیگر تفصیلات سے کمیونیٹی کو آگاہ کیاتھا۔ سویڈن میں مقیم پاکستانی کمیونیٹی نے ان سے درخواست کی کہ وہ قیام پاکستان کی سترویں سالگرہ کے موقع پر بھی تشریف لائیں اور اس موقع پر ہونے والے سالانہ پاکستان میں میلہ میں اخوت یونیوسٹی کے لئے امدادی رقوم بھی جمع کی جائیں گی۔ پاکستان میلہ میں لوگوں نے ڈاکٹر امجد ثاقب اور ان کی اہلیہ کا بھر پور استقبال کیا ۔ سویڈن میں پاکستان کے سفیر جناب طارق ضمیر نے اخوت بینک اور یونیورسٹی کے تفصیلات بیان کرتے ہوئے تعاون کی اپیل کی جس پر شرکاء نے اور اخوت یونیورسٹی کے لئے بھر پور عطیات جمع کرائے۔اگلے روز ڈاکٹر امجد ثاقب کو ڈنمارک روانہ ہونا تھا لیکن اچانک ان کی طبیعت خراب ہونے کے باعث سٹاک ہوم کے کارولنسکا یونیورسٹی ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔دو ہفتے قبل ان کا بائی پاس آپریشن ہوگیاہے اور وہ الحمد اللہ روبصحت ہیں۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ لاکھوں لوگوں کے مسیحا اور پاکستان میں غربت و جہالت ختم کرنے کی جدوجہد میں مصروف جناب ڈاکٹر امجد ثاقب کی صحت اور درازی عمر کے لئے دعا کریں۔ ایک کروڑ سے زائد لوگوں کو غربت سے نکال کر اپنا باعزت روزگار دینے کے بعد وہ پاکستان سے جہالت دور کرنے کے مشن میں مصروف ہیں۔ وہ اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے دروازے ملک کے پس ماندہ اور غریب بچوں پر بھی کھولنا چاہتے ہیں۔ ان کی اپنے اس عظیم مقصد سے وابستگی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ہسپتال میں زیر علاج ہونے کے باوجود جو بھی انہیں ملنے آتا ہے یا ٹیلی فون کرتا ہے، اسے اخوت یونیوسٹی کا پیغام دیتے ہیں اور اس میں شرکت کی ترغیب دیتے ہیں۔ میرے لئے یہ سعادت ہے کہ انہوں نے مجھے سویڈن میں فرینڈز آف اخوت یونیورسٹی کے منتظم کی ذمہ داری دی ہے۔ ان کا عزم ہے کہ جلد از جلد یہ یونیوسٹی قائم ہوجائے اور ان کا ہر لمحہ اسی کوشش میں صرف ہوررہاہے۔ مسلم یونیوسٹی علی گڑھ کے قیام کے لئے سرسید کی جدوجہد اور شب وروز کی محنت کتابوں میں پڑھنے کو ملتی ہے لیکن اس کی علمی تفسیر ڈاکٹر امجد ثاقب کی اخوت یونیورسٹی کے قیام کے لئے محنت اور لگن کی صورت میں دیکھنے کو ملی۔ جس عزم سے انہوں نے پاکستان میں غریبوں کو روزگار اور عزت نفس دی ہے وہی عزم پاکستان میں اخوت یونیورسٹی کے قیام کا باعث بنے گا جس کی بنیاد انہوں نے دو سال قبل کالج کی صورت میں رکھ دی ہے جہاں پاکستان بھر سے طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان کے اس عظیم کام کو دیکھتے ہوئے انہیں بلا شبہ سرسید ثانی کہا جاسکتا ہے۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا اور ان شاء اللہ اخوت یونیورسٹی تعمیر پاکستان میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ہم چاہے دنیا میں کہیں بھی رہتے ہوں ، اس کار خیر میں ضرور حصہ لیں چاہیے ۔ صرف ایک ہزار روپے کی ایک اینٹ سے ہرکوئی اخوت یونیورسٹی کے بانیوں میں شامل ہوسکتا ہے۔ آپ کہیں بھی مقیم ہوں اخوت کی ویب سائیٹ کے ذریعہ اپنے عطیات دے سکتے ہیں۔عطیات کے لئے لنک یہ ہے http://www.akhuwat.org.pk/how_to_donate.asp

Check Also

Founder of Singapor Lee Kuan....

’’میں پوری زندگی مقدمہ لڑوں گا۔‘‘

 کالم ’’ شب و روز‘‘ Nadeem Siddiqui 16ستمبر2017 عوام تو جانے دِیجیے خواص میں بھی اکثر ...

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)