Breaking News
Home / کالم / حضرت آدم کی قمیض کا مسلہء اور میڈیا کا درزی۔۔

حضرت آدم کی قمیض کا مسلہء اور میڈیا کا درزی۔۔

خوشبخت جہاں
آجکل کے ڈیجیٹل دور میں میڈیا جہاں پل پل کی خبریں پہنچاتا ہے وہیں سچ جھوٹ بھی پھیلاتا ہے۔کچھ لوگ بلا سوچے سمجھے یہ خبریں آگے پہنچاتے رہتے ہیں۔حالانکہ یہ اخلاقی اور مذہبی دونوں نقطہ نظر سے غلط ہے۔اسی طرح پچھلے دنوں ایک مظلوم لڑکی کی وڈیو نظر سے گزری جس میں اس نے اپنی سوتیلی ماں کے ظلم کا ذکر کیا تھا۔اسکا باپ بھائی محلے کا مولوی بقول اس لڑکی کے اسکی شادی زبردستی کسی سے کروانا چاہتے تھے۔
یہ واقعی دکھ بھری کہانی تھی مگر پوری کہانی میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسکی ماں نے کوئی ایکشن کیوں نہ لیا جبکہ سارے زمانے کو خبر ہو گئی مگر وہ سگی ماں زندہ ہوتے ہوئے بھی اپنی بیٹی کی مدد کو نہ پہنچی۔چلو اسکی کوئی مجبوری ہو گی مگر جس شخص سے اسکی شادی کروائی گئی وہ بھی پوری وڈیو میں نہ نظر آیا نہ اسکا کوئی تذکرہ کیا گیا۔۔کیا اس لڑکے کی شادی بھی جبری تھی۔۔یہ ٹی وی والوں نے نہیں بتایا۔بہر حال یہ اچھا موضوع تھا۔بہت لوگوں نے یہ وڈیو دیکھی۔
اسی طرح حضرت آدم کے قد آدم پاؤں کا نشان دیکھ کر طبیعت میں عجیب سی سرشاری ابھر آئی گو کہ یہ مستند نہیں مگر پھر بھی آخر حضرت آدم سے ہے تو ہمارا ازلی رشتہ۔اسکے بعد اس عظیم ہستی کی طویل قبر جو کہ اربوں کھربوں برس بعد بھی موجو دہے۔بہت ہی حیرت کی بات ہے۔یہاں تک تو سب ٹھیک تھا مگر حضرت آد م کی قمیض کی موجودگی۔اسے عقل ماننے کے لیے تیار نہیں۔یہ دل ناداں طرح طرح کے سولات کر رہا ہے اگر کوئی عاقل اور داناء ان سوالات کا جواب دے دے تو ہم سب کی معلومات میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔
۔حضرت آدم کی قمیض کاکپڑا کس فیکٹری سے تیار ہوا۔جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری اس عظیم ہستی کی آمد سے ہزاروں برس بعد وجود میں آئی۔
پھر ایسے ٹھیک ناپ کی قمیض کس درزی نے سی ؟
کیا یہ درزی بھی جنت سے ساتھ آیا تھا یا یہ کام کسی فرشتے نے کیا تھا؟یاپھر بی بی حوا نے یہ قمیض سی تھی۔اگر انہوں نے سی تھی تو پھر انکی اپنی قمیض کہاں گئی اور وہ کس نے سی تھی؟
یا پھر یہ کسی میڈیا کا درزی تھا مگر کس میڈیا کا؟ہمیں بھی بتائیں ہم بھی اس سے کچھ سلائی کروا لیں۔بڑ اہی نایاب درزی ہو گا۔

Check Also

Daska ..

ہم جا نہ سکے

باعث افتخار انجینئر افتخار چودھری ۱۲ نومبر کو ڈسکہ میں چودھری رحمت علی ٹیلینٹ ایوارڈ ...

2 comments

  1. Romana Qureshi kuwait

    achi tahreer or aj ka media ki sahi akasi

  2. Ji han Romana ji mai bhi khushbakht sai agree karti hoon waqii media kabhi kabhi bohot be sropa batain phelata hai k suchai log bhi moh dekhtai reh jatai hain.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)