Home / کالم / ابتدائی جماعت کے کم سن بچوں کو پڑھائی

ابتدائی جماعت کے کم سن بچوں کو پڑھائی

ہمارے ہاں بچوں کئی نفسیات سے عدم واقفیت اور بے اعتنائی ایک قومی مزاج کی حیثیت سے پائی جاتی ہے۔ یہی مسئلہ بچوں کو کتابوں اور خصوصا درسی کتب کے مطالعہ اور سکول کے کام سے عدم دلچسپی اور سے دوری کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔ ہمارے ہاں والدین کو معلوم نہیں ہوتا کہ بچوں کو پڑھائی کی عادت ڈالنے کا درست طریقہ کیا ہے۔
بچوں کا سکول، کتابوں اور سکول کے کام سے متعلق ابتدائی تاثر بہت اہم ہوتا ہے جس کے بعد فیصلہ ہوتا ہے کہ بچے کی لکھنے پڑھنے سے دوستی ہوگی یا دشمنی، وہ اس سے مسرت پائے گا یا اسے جبری مشقت سمجھے گا۔
ہمارے لوگوں کی اکثریت کا اپنا یہ حال ہے کتاب سے انہیں الرجی ہے۔ مطالعہ کرنا پہاڑ جیسا مشکل ہے۔ زیادہ کتابیں پڑھنے والے کو ہمارے ہاں احمق سمجھا جاتا ہے جس پر بے شمار لطیفے گھڑے گئے ہیں۔ اس ماحول میں مطالعہ اور لکھنے پڑھنے کے رجحان کی حوصلہ افزائی کیسے ممکن ہے۔ چنانچہ مطالعہ شکن ماحول میں بس چند ایک ہی ہوتے ہیں جو لکھنے پڑھنے کی طرف غیر معمولی میلان کی وجہ سے علم کا سفر کرتے رہتے ہیں۔ لیکن سماج چند لوگوں کا نام نہیں۔ اکثریت کتاب سے گریز کے رویہ کی حامل ہے اور یہ قومی مزاج کا اثر ہے۔
بہرحال بات یہ تھی کہ ایسے ماحول میں بچوں کو لکھنے پڑھنے پر لگانا والدین کی خصوصی مگر سمجھ دار توجہ مانگتا ہے۔
میں نے جب اپنے پہلے بچے کو سکول داخل کرایا تو گھر میں سختی سے تاکید کی کہ اسے کتابیں کھولنے اور پڑھنے کا کبھی نہ کہا جائے۔ اسے یہ احساس نہ ہو کہ یہ کوئی کام ہے جسے مشقت سمجھ کر کرنا ہوتا ہے، یا کوئی ڈیوٹی ہے جسے انجام دینا اس عمر میں اس پر لاگو کر دیا گیا ہے۔
چنانچہ جس وقت ہم چاہتے کہ بچہ سکول کا کام کرنے بیٹھے ہم اس اس کی کتابیں خود لے کر بیٹھ جاتے۔ اس کی پنسل اور کلرز لے کر خود کچھ بنانے اور رنگ بھرنے لگتے۔ بچہ فورا ہی متوجہ ہو کر چلا آتا۔ ہم سے کتابیں لے کر سبق دہرانے لگتا، قرطاس کار (ورک شیٹ) نکال کر کام شروع کر دیتا اور ہم فقط رہنمائی کرتے رہتے۔
یہ سلسلہ تقریباً دو سال چلتا رہا یہاں تک کہ اسے پڑھائی کی عادت ہو گئی۔
دوسری ہدایت میں نے یہ دے رکھی تھی کہ بچہ جب ٹی وی دیکھ رہا ہوں، اپنا من پسند کوئی کھیل کھیل رہا ہوں یا دوسرے بچوں کے ساتھ انجوائے کر رہا ہو، اس وقت اسے سکول کا کام کرنے کا ہرگز نہ کہا جائے، ورنہ اسے یہ تاثر ملے گا کہ سکول کا کام لطف اندوزی کے مقابل کوئی ناگوار کام ہے۔ ہمارے ہاں والدین کا خاص وتیرہ ہے کہ جیسے ہی بچہ اپنا من پسند کام، مشغلہ کھیل یا کوئی پروگرام دیکھنا شروع کرتا ہے، عین اسی لمحے والد اور والدہ کو ان کے سکول کا کام یاد آ جاتا ہے۔ لطف کے لمحات زبردستی چھڑائے جاتے ہیں اور پڑھنے بٹھا دیا جاتا ہے۔ اس وقت بچے کو کتابیں زہر لگتی ہیں، رقیب محسوس ہوتی ہیں۔ ہم اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں کہ بچے کو پڑھنے بٹھا دیا اور بچہ کتاب سے مستقل دشمنی پال لیتا ہے۔
والدین اگر بچے کی ابتدائی سکول کی عمر میں یہ نا مناسب حرکتیں نہ کریں تو کتاب اور سکول کے کام سے بچے دوستی ہو سکتی ہے، جو اگلے مراحل میں کہ جب پڑھائی مشکل ہو جاتی ہے اور تقریباً ہر بچے کی پڑھائی میں دلچسپی میں کمی آنے لگتی ہے تو بھی اس سے وحشت پیدا نہیں ہوتی۔ کتاب اور کام سے لطف کا پہلا تاثر کبھی ختم نہیں ہوتا اپنا کام کرتا رہتا ہے۔
گھر میں اگر کتابیں موجود ہوں، گھر والوں کے زیر مطالعہ آتی ہوں تو یہی محرک کافی ہوتا ہے بچوں کو پڑھائی پر لگانے کے لیے۔ والد صاحب اگر کاروبار یا ملازمت کے مسائل کے علاوہ کوئی بات کرنے کے قابل نہ ہوں، اور والدہ دن بھر کی روٹین کے تذکرے کے علاوہ کوئی علم و عقل کی بات کرنے کے لائق نہ ہو، تو بچوں کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنے سے بھی وہ پڑھائی کی طرف مائل نہیں ہو جاتا کرتے۔ بلکہ زیادہ سہولیات بچوں کو پڑھائی سے دور کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ لیکن نا سمجھ والدین، اپنی کمی کوتاہیوں کو پیسے کے ذریعے سے سہولیات دے کر پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ بعد میں بچوں کا الزام دے سکیں کہ ہم نے تو کوئی کمی نہ چھوڑی تھی، ہر خواہش پوری کی لیکن اس نے پڑھنے لکھنے کی ہماری خواہش پوری نہیں کی۔ یاد رکھیے، پڑھائی لکھائی ایسی چیز نہیں جو دوسری کی خواہش پر کی جا سکے۔ یہ فرد اپنی ہی خواہش سے کر پاتا ہے۔
حقیقت یہ یہے کہ بچوں سے پہلے والدین کی تربیت ضروری ہے ورنہ ہمارے نا تربیت یافتہ والدین کی اکثریت کی وجہ سے اسی قسم کے افراد اس سماج میں سامنے آتے رہیں گے جیسا کہ آج ہمارے درمیان موجود ہیں، جن کا تعلیم سے جبری تعلق ہے، کتاب سے دوستی نہیں اور یوں سطحی ذہانتیں ہمارے سماج میں پھیلتی چلی جا رہی ہیں۔ انہیں پڑھائی سے زیادہ اچھے گریڈز لینے کی فکر ہے، جنہیں تعلیم سے شعور نہیں ڈگری کا حصول مقصود ہے، جو امتحان دیتے ہی کتابیں ردی والے کو دے کر گھر کی صفائی کرتے ہیں۔
اکثریت کے لحاظ سے ہمارے سماج نیم پڑھے لکھوں کا سماج ہے۔ کئی گھرانوں میں جدید تعلیم کی طرف توجہ موجودہ نسل میں ہوئی ہے۔ ایسے نیم پڑھے لکھے والدین کے لیے اپنے بچوں کا ان کے کزنز سے ہر کام ہر چیز میں موازنہ ایک مستقل مسئلہ ہے۔ ہر بچے کا اپنا انداز ہوتا ہے، اپنا ہنر ہوتا ہے، اپنا رجحان ہوتا ہے۔ یہاں حالت یہ ہے کہ خاندان میں کوئی ایک شخص تعلیم کے کسی میدان میں کامیاب ہو جائے تو پورے خاندان کے لیے واحد نمونہ عمل بن جاتا ہے۔ اب سب کے لیے وہی میدان علم چننا گویا لام قرار دے دی جاتا ہے۔ بچوں کی صلاحیت اور رجحان جانچنے کا کوئی تصور ہی نہیں پایا جاتا۔ ضروری نہیں کہ خالہ کا بیٹا اگر ریاضی میں ماہر ہے تو اپنا بیٹا بھی اس میں ماہر ہونا چائے۔ معلوم کیجیے شاید وہ پولٹری میں مہارت حاصل کرنے کے لیے پیدا ہوا ہو۔
غرض یہ کہ بچوں کی ابتدائی عمر میں ان کے رجحانات کو درست سمت دینا والدین کی ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے بڑی سمجھ داری کی ضرورت ہے۔ جتنا شوق والدین بننے کا ہوتا ہے اس سے زیادہ بچوں کی درست تربیت کی فکر مندی ہونی چاہیے۔

Check Also

Tareen....

عمران خان جہانگیر ترین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)