Home / کالم / لفظوں کی حرمت

لفظوں کی حرمت

Khalid Zahid.....(شیخ خالد ذاہد)

لکھنے والے کیلئے نا لکھ پانا ایک انتہائی کربناک مرحلہ ہوتا ہے۔ لیکن لکھنے والا لکھ کیوں نہیں پا رہا ؟ آخر کون سے ایسے عوامل ہے جو اسے لکھنے سے روک رہے ہیں۔ اس سوال کہ آپ کے پاس بھی مختلف وجوہات اور جوابات بھی ہونگے اور جو نہیں لکھتا اسکے پاس بھی اس سوال کہ دوتین جوابات موجود ہونگے۔ مگر میرے پاس اس سوال سے منسلک ایک اور سوال ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ ہماری تحریریں ان گنتی کہ اشخاص کے گرد گھومتی رہیں یا ان موضوعات پر قلم کی سیاہی ضائع کرتے رہیں جن کا نا سر ملتا ہے اور نا پیر بلکہ اکثر لکھنے والے اپنی جانوں سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ہم پاکستانی جب گفتگو کرتے ہیں تو سیاست ہوتی ہے جب ہم کچھ لکھنے بیٹھتے ہیں تو سیاست ہوتی ہے، کھانے کی میز پر بھی سیاست ہوتی ہے، کھیل کے میدانوں میں سیاست ہوتی ہے اور دفتروں میں تو طرح طرح کی سیاست ہوتی ہے، یہ سمجھ لینا کافی ہے کہ جو ادارہ تباہ ہو رہا ہو وہ سیاست کی نظر ہوگیا ہوگا۔ یعنی پاکستانی سیاست کسی امر بیل کی مانند ہوتی ہے جس سے لپٹ جائے اسے تباہ و برباد کر کے ہی چھوڑتی ہے۔

پاکستان میں ہونے والی تمام کی تمام کرپشن کے پیچھے ان لکھنے والوں کا ہاتھ ہے، یہ اسوقت لکھنا شروع کرتے ہیں جب سب طرف شور مچ چکا ہوتا ہے۔ ہم پاکستانی ہر معاملے میں بھیڑچال کے عادی ہیں۔جیسا کہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ اخبارات کی مدد سے کن کن لوگوں کی کیا کیا اصلیت سامنے آتی ہے۔ بعض اشخاص کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ بھائی مجھے تو خود صبح اخبار میں پڑھ کر پتہ چلا ہے کہ میں نے کل یہ بیان دیا تھا۔ محسوس یہ ہوتا ہے جیسے الفاظ باسی تواسی ہوچکے ہیں اور بدبو زدہ ہوگئے ہیں۔اگر الفاظ بدلے ہوئے بھی ہونگے تو معنی کہ اعتبار سے بات وہی ہوگی۔ نا تو یہ لکھنے والے، گمراہ کررہے ہیں اور نا ہی راہِ راست پر لانے کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ تو اسکو وہاں پہنچا رہے ہیں جو جہاں جانا چاہ رہا ہے اور یہ تو بس بتا رہےہیں اسنے ایسا کردیا اسنے یہ کہہ دیا۔ ان ساری باتوں میں کسی کیلئے اہم کیا ہے؟ ایک عام آدمی کو اس بات سے کتنی غرض ہے کہ پانامہ لیکس میں میاں محمد نواز شریف اور انکے خاندان کا نام آیا ہے یا کہ پانامہ لیکس کس بلا کا نام ہے یا اس صبح کے بھوکے کو بلاول کی نکالی جانے والی ریلی سے کیا لینا دینا ہے۔ یقیناً ہم سب ہاں میں ہی سر ہلارہے ہیں۔کیا لکھنے والے اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ پڑھنے والے کو کیا چاہئے یا پھر پڑھنے والے کو یہی سب چاہئے۔

پاکستان میں ایک انتہائی گھمبیر صورتحال پیدا ہوتی جارہی ہے یہاں لوگ شوگر اور بلند فشارِ خون جیسی مہلک بیماریوں میں بہت تیزی سے مبتلا ہو رہے ہیں۔ اس کی جہاں دیگر وجوہات بھی ہونگی مگر ہمارے ملک کا سیاسی ماحول اور اس ماحول کو گرمانے والے لکھنے والے خواتین و حضرات بھی اس کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

دنیا کے بدلتے ہوئے حالات پر نظر ڈالیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کے نئے صدر ڈولڈ ٹرمپ صرف امریکہ کی بات کرتے دیکھائی دے رہے ہیں اور وہ ان کے خلاف ہونے والے احتجاج کو بھی کسی خاطر میں نہیں لارہے۔ انہوں نے یہ الیکشن جس منشور پر جیتا ہے اب وہ اس پر عمل درآمد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں انکا یہ منشور امریکہ کا کیا حال کرے گا کہنا قبل از وقت ہوگا مگر وہ دنیا کو اپس میں رابطے بحال کرنے کا اچھا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ اب تک اپنے اتحادیوں کی مدد سے امریکہ نے دنیا میں گند گھول رکھا تھا اور طاقت کے عدم توازن کا سبب بنا ہوا تھا۔ اب امریکہ اور امریکیوں کو اپنے ملک پر دھیان دینے کا موقع ملے گا اور بیچارے وہ فوجی جو دنیا جہان میں بے گناہوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتے رہے ہیں اپنے اپنے گھر لوٹینگے، اور اب آگ اور خون کا یہ گھنؤنا کھیل اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا۔

امریکہ کی سوچ بدلنے کا وقت آگیا ہے ۔ ہر کام اپنے طے شدہ وقت پر ہوتا جاتا ہے ۔ ہم لوگ بس یونہی اپنے آپ کو تھکائے جاتے ہیں۔ ہم لکھنے والوں کو چاہئے کہ اپنے لوگوں کی اصلاح کریں ان کیلئے وہ معلومات فراہم کریں جس کی بدولت انکی زندگیوں میں سکون آئے اور معاشرہ امن و سلامتی کی راہ لے لوگ ایک دوسرے سے سیاسی گفتگوکرنے کے بجائے اسکا حال احوال پوچھیں۔ آنے والی نسلیں ایسے حکمران ڈھونڈیں جو انکے مسائل سے بھرپور طرح سے واقف ہوں اور وہ انکو سدھارنے کیلئے دن رات ایک کریں۔ انہیں نا مخالفین کا خوف ہو اور نا صحافیوں کا اور نا ہی انہیں کسی پروٹوکول کی ضرورت ہوگی۔

میں دعوے سے تو نہیں کہہ سکتا مگر کسی حد تک مجھے یقین ہے کہ لکھنے والے اپنی تحریریں مختلف انداز سے لوگوں کی سوچوں پر مسلط کرنے کی کوشش کریں۔ یہ اپنی تحریروں سے لوگوں میں وہ شعور پیدا کریں، اگہی پیدا کریں کہ آنے والے وقتوں میں ہمیں ایسے چور، لٹیروں کو ووٹ نا دینا پڑے ایسے لوگوں کو اپنے منہ چھپانے کی جگہ نا ملے جو آج ہمارے ملک کہ معززین بنے پھرتے ہیں۔ لکھنے والے اپنا کام اگر خوش اسلوبی اور مختلف اندازِ فکر سے کریں تو تبدیلی کا سہرا آپ کے ہی سر بندھے گا۔ہیرو کو ہیرو اور ولن کو ولن ایک لکھنے والا ہی تو بناتا ہے تو ہم اپنے معاشرے کیلئے اپنے لوگوں کیلئے۔ ہمیں کسی خونی انقلاب کی ضرورت نہیں ہے ہمیں تو صرف قلم کی حرمت بحال کروانی ہوگی۔ انقلاب کی سیڑھیاں ہم لکھنے والوں کو بنانی ہونگی۔

Check Also

غزہ کی پٹی میں خودکشی کا بڑھتا رجحان

شہباز رشید بہورو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی ظلم و بربریت سے تنگ آکر لوگوں ...

One comment

  1. ہم لکھنے والوں کو چاہئے کہ اپنے لوگوں کی اصلاح کریں ان کیلئے وہ معلومات فراہم کریں جس کی بدولت انکی زندگیوں میں سکون آئے اور معاشرہ امن و سلامتی کی راہ لے لوگ ایک دوسرے سے سیاسی گفتگوکرنے کے بجائے اسکا حال احوال پوچھیں۔ آنے والی نسلیں ایسے حکمران ڈھونڈیں جو انکے مسائل سے بھرپور طرح سے واقف ہوں اور وہ انکو سدھارنے کیلئے دن رات ایک کریں۔ انہیں نا مخالفین کا خوف ہو اور نا صحافیوں کا اور نا ہی انہیں کسی پروٹوکول کی ضرورت ہوگی۔

    خالد صاحب بہت ہی پر اثر تحریر ہے اور آپ نے اچھے موضوع پر قلم اٹھایا ہے مگر ایک بات توجہ طلب ہے وہ یہ کہ ہمیں اچھے لیڈر ڈھونڈنے نہیں چاہیں بلکہ بنانے چاہیءں اور وہ ماحول اور حالات پیدا کرنے چاہیں کہ اچھے لیڈر پیدا ہوں۔پھر یہ ترکیبیں بھی دانشور اور رائٹرز ہی بتائیں اور ان پہ عمل بھی کروائیں۔بہر حال لکھاریوں کے لیے بہت اچھی کاوش ہے۔اتنی اچھی تحریر پر بھرپور مبارکباد۔
    شازیہ عندلیب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: