Breaking News
Home / کالم / ون ویلنگ

ون ویلنگ

تحریر:ڈاکٹر طلحہ عباس(ایم ڈی، ایف سی پی ایس)

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نیوروسرجری کی تربیت حاصل کر رہا تھا۔ میری ایمرجنسی میں ڈیوٹی تھی۔ چودہ پندرہ سال کا نوجوان ایمرجنسی میں لایا گیا۔ اس کے لواحقین اس کے ساتھ نہ تھے۔ ریسکیو 1122 والوں نے بتایا کہ یہ ون ویلر تھااور بڑی تیز موٹر سائکل چلا رہا تھا۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد جب میں نے اس کا تفصیلی معائنہ شروع کیا تو اس کی ایک آنکھ کی پُتلی دوسری سے بڑھی ہوئی تھی جبکہ وہ صرف ایک طرف کے بازو اور ٹانگ کو حرکت دے پا رہا تھا اور اس پر غنودگی بھی طاری تھی۔ میڈیکل کی زبان میں اسے 148برین ہرنیشن147 کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر اس کا فوری علاج نہ کیا گیا تو چند منٹ میں وہ ناقابل واپسی حالت میں چلا جائیگا یا شاید ایک دوگھنٹوں میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ میں نے دوسرے ڈاکٹروں کے ساتھ بچے کو ٹریٹمنٹ دینی شروع کردی۔ ہمارے ہاں اسطرح کے مریض عام آتے ہیں۔
اگر آپ کو پاکستان کے کسی بھی بڑے شہر یا قصبے میں جانے کا اتفاق ہو تو سب سے زیادہ جو چیز آپ کو سڑکوں پر نظر آتی ہے، وہ موٹر سائیکل ہے۔ اگرچہ یہ ایک مفید سواری ہے اور آج بھی سڑکوں پر جو رش ہے، اس میں شاید سب سے بہتر سواری ہو مگر غیر محتاط ڈرائیونگ کے سبب یہ سب سے زیادہ خطرناک سواری بن چکی ہے۔ اگر دماغ کی چوٹوں کا پاکستان اور ترقی یافتہ ممالک کے مابین تقابلی جائزہ لیا جائے تو پاکستان میں80-96 فیصد دماغ کی چوٹیں موٹر سائیکل حادثات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ہمارے ہاں ڈرائیونگ کی باقاعدہ تربیت نہ لینے، لائسنس حاصل نہ کرنے اور قانون کی پاسداری نہ کرنے کا خمار بہت بڑھ چکا ہے۔ یہ عادت حادثات کو جنم دیتی ہے۔
اگر دماغ کی چوٹوں کی درجہ بندی کی جائے تو 3 اقسام کی چوٹیں سامنے آتی ہیں۔ 1۔ ہلکی قسم کی چوٹیں۔ 2۔ درمیانی قسم کی چوٹیں 3۔ شدید قسم کی چوٹیں۔ ایک عام باشعور انسان ان میں آسانی سے تفریق کر سکتا ہے۔
دماغ کی چوٹ کی چند نشانیاں عام آدمی کو بھی ذہن میں رکھنی چاہئیں۔ اس میں چند لمحوں کیلئے حواس کھو دینے سے لے کر ساری عمر کی بیہوشی شامل ہے۔ اس میں چند گھنٹوں کے فالج یا لقوے سے لے کر ساری عمر کی معذوری بھی ہو سکتی ہے۔ ایک جھٹکے سے لے کر ساری عمر کیلئے مرگی کا عارضہ لاحق ہو سکتا ہے۔ بعض افراد کو الٹی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ دونوں آنکھوں کے گرد خون کے حلقے بن جاتے ہیں۔ کان یا ناک سے خون بہنے لگتا ہے۔
ہلکی قسم کی دماغی چوٹ میں مریض چند لمحوں سے تقریباً چھ گھنٹے تک بیہوش رہتا ہے۔ یہ بیہوشی 24 گھنٹے تک رہے تو یہ درمیان درجے کی دماغی چوٹ کہلائے گی۔ اگر بیہوشی کئی دن تک محیط ہو جائے تو یہ شدید قسم کی چوٹ کی علامت ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اگر بروقت طبی امداد نہ دی جائے تو ہلکے درجے کی چوٹ شدید چوٹ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
بحیثیت نیوروسرجن میں ایک عام شہری سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ اگر اس قسم کی دماغی چوٹ والا کوئی مریض آپ کے قریب ہو یا آپ حادثہ کی جگہ پر ہوں تو فوری ریسکیو 1122 کو کال کریں۔ مریض کا سر اور سینہ دونوں اونچا رکھیں۔ صرف سر اونچا نہ کریں کیونکہ بعض اوقات ایسے مریضوں کی گردن بھی ٹوٹی ہوتی ہے۔ بعض اوقات الٹی آنے کی وجہ سے اس کے اجزاءگلے میں جا کر سانس بند کر سکتے ہیں۔ اس لئے منہ کو اندر سے صاف کریں۔ مریض کو ایمبولینس یا اپنی سواری کے ذریعے فوری ہسپتال لے کر جائیں۔ دماغی چوٹ کے مریض کو ہمیشہ ایسے قریبی ہسپتال منتقل کریں جہاں سی ٹی سکین کی سہولت موجود ہو۔
ایمرجنسی میں ابتدائی طبی امداد کے بعد مریض کو نیوروسرجری ایمرجنسی میں منتقل کیا جاتا ہے۔ وہاں انہیں ابتدائی طبی امداد اور معائنے کے بعد سی ٹی سکین کیلئے بھیجا جاتا ہے۔ مریض کے آپریشن کا تعیّن ، داخل کرنا یاچھٹی کا انحصار مریض کی سی ٹی سکین رپورٹ کے بعد کیا جاتا ہے۔ عام طور پر ایسے مریضوں کا آپریشن کیا جاتا ہے جن کے دماغ کی جھلیوں کے باہر یا جھلی کے اندر خون کی اتنی مقدار اکٹھی ہو جائے کہ دماغ کو ایک طرف دبا دے۔ دماغ کو اس طرح دبانے کو 148برین ہرنیشن147 کہتے ہیں۔
آپریشن کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ مریض کو کتنی دیر بعد ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔ ہسپتال پہنچتے وقت مریض کی حالت اور عمر کیا تھی۔ اگر جوان مریض 2گھنٹے کے اندر اندر اچھی حالت میں ہسپتال پہنچ جائے اور ہسپتال میں ڈاکٹر بروقت اس کا معائنہ کر لیں تو اس کے ٹھیک ہونے کے امکانات قوی ہو جاتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں عموماً بہت زیادہ مریض آتے ہیں جس کی وجہ سے بستر اور دیگر سہولتیں کم پڑ جاتی ہیں۔ غیر سرکاری ہسپتالوں میں عام طور پر سی ٹی سکین کی سہولت دستیاب نہیں ہوتی۔
موٹر سائیکل حادثات کے علاوہ بھی دماغ کی چوٹ کی اور وجوہات بھی ہیں۔ ان میں چھوٹے بچے کا گود یا چھت سے گر جانا۔ کھیل کے دوران یا لڑائی کے دوران چوٹ لگنا سرفہرست ہیں۔ چھوٹے بچوں یا ضعیف افراد میں معمولی چوٹیں بہت زیادہ مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔
سب سے خطرناک چوٹیں وہ ہوتی ہیں جو باکسنگ یا فٹ بال کھیلنے کے دوران اس قسم کی چوٹ لگتی ہیں۔ اس میں عجیب بات یہ ہے کہ یہ چوٹیں اکٹھی ہوتی رہتی ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ کھلاڑی نیم پاگل ہو جاتا ہے۔ عام طور پر دماغ کی چوٹ کا نتیجہ کس طرح کا ہو سکتا ہے۔
1۔ مریض بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے۔
2۔ معمولی فالج رہتا ہے مگر اپنے روزمرہ کے کام کاج کر سکتا ہے۔
3۔ مریض ہوش میں تو رہتا ہے مگر بستر اس کا مقدر بن جاتا ہے۔
4۔ مریض فوت ہو جاتا ہے۔
تیسری اور چوتھی کیٹیگری کے مریض عام طور پر عام طور پر دوسرے لوگوں پر انحصار کرتے ہیں۔ خوراک کیلئے انہیں ناک کی نالی جبکہ پیشاب کیلئے پیشاب کی نالی اور سانس کیلئے سانس کی نالی کی ضرورتی ہوتی ہے۔
کسی بھی گھر میں ایسا ایک ہی مریض ہو سکتا ہے مگر ہمارے گھر (ہسپتال میں) روزانہ سینکڑوں مریض آتے ہیں اور دیکھ کر سخت دکھ ہوتا ہے جب 12-15 سال کے کم عمر لڑکے محض شوق کی ون ویلنگ کرتے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور والدین ان کی میت ہسپتال سے اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ والدین کے علاوہ معاشرے کے ہر فرد کو ایسے نوجوانوں کو سنگین نتائج سے خبردار کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

Check Also

میجر عزیز شہید بھٹی کے والد کے نام ایک تاریخی خط

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: