Breaking News
Home / ادب / شعرو ادب / شاعری / اب تو لوٹ آئیے جو ہوا سو ہوا

اب تو لوٹ آئیے جو ہوا سو ہوا

غزل
 ڈاکٹر جاوید جمیل
 
مان بھی جائیے جو ہوا سو ہوا
اب تو لوٹ آئیے جو ہوا سو ہوا
 
میری تنہائیاں برف سی ہو گئیں
برف پگھلائیے جو ہوا سو ہوا
 
مانتے ہیں کہ سمجھوتہ آساں نہیں
دل کو سمجھائیے جو ہوا سو ہوا
 
اک نیا نغمہ رقصاں فضاؤں میں ہے
ناچئے گائیے جو ہوا سو ہوا
   
صرف میں نے خطا کی ہو ایسا نہیں
لب نہ کھلوائیے جو ہوا سو ہوا
 
پختہ وعدۂ ہے وعدۂ نباہیں گے ہم
اب نہ اترائیے جو ہوا سو ہوا
 
یہ حیا یہ جھجھک چھوڑ بھی دیجئے
اب نہ شرمائیے جو ہوا سو ہوا
 
پھینکئے گا نہ پتھر برائے کرم
پھول برسائیے جو ہوا سو ہوا
 
انتظار اور ہوتا نہیں آئیے
اب نہ تڑپائیے جو ہوا سو ہوا
 
ساری کڑواہٹیں چھوڑیے آئیے
جام پلوائیے جو ہوا سو ہوا
 
سب کا تھا جو وہ جاوید ہردلعزیز
اس سے ملوائیے جو ہوا سو ہوا
 
 

Check Also

کارٹون بھی بڑھتی عمر کے اثرات سے متاثر

پبلک حیران۔۔۔۔۔۔کارٹون پریشان مرتبہ فوزیہ وحید اوسلو   Related

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: