Home / ادب / شعرو ادب / شاعری / میں اب زمانے کی چالاکیوں سے تنگ آ کر

میں اب زمانے کی چالاکیوں سے تنگ آ کر


ڈاکٹر جاوید جمیل
 
 
کبھی فلک تو کبھی خاک ہونا چاہتا ہوں
ازل سے پیکر_ادراک ہونا چاہتا ہوں
 
جنوں ہوں ایک گریبان کی طرح اک روز
خود اپنے ہاتھوں سے ہی چاک ہونا چاہتا ہوں
 
میں چاہتا ہوں رہوں میں بھی گلستاں ہوکر
میں کب بھلا خس و خاشاک ہونا چاہتا ہوں
 
بلا جھجھک وہ لکھوں جو مجھے نظرآئے
قلم ہوں، قاصد_بیباک ہونا چاہتا ہوں
 
جو علم بن کے سیہ تخت پر چمکتی ہے
کسی کے ہاتھ میں وہ چاک ہونا چاہتا ہوں
 
میں اب زمانے کی چالاکیوں سے تنگ آ کر
نہ چاہتے ہوئے چالاک ہونا چاہتا ہوں
 
مجھے گناہ کا احساس ہو چکا جاوید
میں دیر سے ہی سہی پاک ہونا چاہتا ہوں
 

Check Also

بہت مصروف رہتے تھے

بہت مصروف رہتے تھے ہواؤں پر حکومت تھی تکبر تھا کہ طاقت تھی بلا کی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: