Home / ادب / طنز و مزاح / نظر بٹو

نظر بٹو

شہزاد بسراء
’’دیکھو یہ شرٹ نئے سوٹ کے ساتھ پہن لوں کہ نہیں‘‘
’’نہیں۔ یہ شرٹ اس سوٹ کے ساتھ نہیں جاری رہی ‘‘۔ بیگم نے تیسری قیمض تھی جو مسترد کردی۔ بل�آخر ایک پرانی قیمض نکالی جو نئے سوٹ کے ساتھ میچ کر رہی تھی
’’ہاں یہ جارہی ہے، ذرا سی پُرانی ہے، مگر چلے گی‘‘۔ بیگم نے اس مرتبہ پاس کردی
’’آہو ۔یہ قیمض لاہور جارہی ہے۔ پہلے والی تین قمیضوں کا پنکچر ہوا تھا جو نہیں جارہی تھی۔ یہ تو موٹر وے سے جائے گی ‘‘۔ ہمیں ہمیشہ سے ’’شرٹ اِس کے ساتھ جا رہی ہے‘‘ سے چڑ ہے مگر بیگم کی یہی عادت ہے۔
’’اچھا جو مرضی پہنیں ۔یونیورسٹی ہی تو جانا ہے شادی پر نہیں۔ اگر مجھ سے پوچھیں گے تو مجھے کلر میچنگ کی سنس ہے اور باقاعدہ ایم ایس سی میں پڑھ رکھا ہے کہ کلر ہوتے کیا ہیں، بنتے کیسے ہیں اور کہاں کِس کے ساتھ جوڑ بنتا ہے۔یہ جو آپ کی بہتر ڈریسنگ ہے تو میری وجہ سے ہے، ورنہ سب کوپتا ہے ایگریکلچر میں کتنا کلچر ہے۔پروفیسر casual trouser کے ساتھ ٹائی لگائے پھرتے ہیں‘‘۔ بیگم نے چڑکر کہا
’’ہا ہا ہا کلر کی سنس اور تمہیں۔ہوم اکنامکس میں تو صرف کھانا پکانا اورسوئی دھاگے کا کام ہی سِکھاتے ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ تم کلر بلائینڈ ہو۔کیا فضول کلر کی قمیض چنی ہے اس عمدہ اور نوے نکور سوٹ کے ساتھ‘‘۔
’’میری طرف قمیض ہی نہ پہنں۔ حد ہوتی ہے آخر آج کیا ہو گیا ہے آپ کو؟ پہلے تو کبھی نہیں اتنا پوچھا۔ کیا ارادہ ہے آج ؟ اور جلدی کریں مجھے کالج سے دیر ہو رہی ہے‘‘۔
مسئلہ دراصل یہ تھا کہ رات ہی ہم ایک نیا سوٹ خرید کر لائے ، ذرا لائٹ کلر میں۔یہ سوچ کر خریدلائے کہ کسی سیانے نے کہا تھا کہ بیماری اور ذہنی پریشانی میں بہت ادویات استعمال کرکے دیکھ لیں۔ بہت ڈاکٹر حکیم آزمالئے مگر جو طبیعت ہشاش بشاش نیا سوٹ پہن کر ہوتی ہے وہ کسی دوا یا ٹانک سے ممکن نہیں ۔سو بیماری میں ڈاکٹروں حکیموں پر پیسے برباد کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ بندہ نیا سوٹ سلوالے ، آفاقہ ہوگا نیا سوٹ پہن کر خود کو بھی اچھا لگے گا اور منہ پر جو رونق آئے گی تو سب تعریف کریں گے نئے کپڑوں کی بھی اور آپ کی بھی۔ نئے سوٹ کی تعریف سُن کر طبیعت ہشاش بشاش ہو جائے گی۔ پچھلے چند دنوں سے طبیعت قدرے اداس اور مضحمل تھی چونچہ ہم نے بھی یہ نسخہ آزمانے کا سوچا۔
ریڈی میڈ کپڑوں کی بھر مار نے اب کپڑوں کی خریداری کافی آسان کردی ہے۔کون گھنٹوں پسند کا کپڑا ڈھونڈے ، پھر ہفتوں درزی کے نخرے برداشت کرے۔ جب تک کپڑے تیار کو کر گھر آتے ہیں موسم ہی گذر چکا ہوتا ہے۔ اب بازار جاؤ، پسند کرو خرید و اور چاہو تو وہیں سے پہن کر پارٹی میں چلے جاؤ۔ کام آسان اور کم خرچ بھی۔ وقت کی بچت بھی اور ڈیزائن بھی ڈھیروں، وگرنہ جو درزی کے جی میں آئے وہی ڈیزائن۔
لو جی ہم بھی بازار گئے۔ دو تین گارمنٹس کی دوکانوں میں تانک جھانک کی اور ایک عمدہ سا پینٹ کوٹ پسند کر لیا ۔مگر ایک وہ مسئلہ ہوگیا جو کہ مڈل کلاس کے ساتھ ہمیشہ سے ہوتا آ رہا ہے۔ کسی نے امیر، مڈل کلاس اور غریب کی یوں تعریف کی تھی غریب وہ جس کے پاس صرف بنیادی ضروریات کی اشیا ء ہی بمشکل پوری ہوں مڈل کلاس جس کے پاس بنیادی ضروریات تو ہوں مگر کچھ بہت زیادہ نہیں امیر وہ جس کے سب وہ اور کافی ہو ۔یہی مسئلہ ہمارے ساتھ بھی ہوگیا۔ اب مہنگا پسند تو آ گیا۔د س بار سوچ کر، دوکاندار سے کافی تکرار کرکے کچھ ڈسکاؤنٹ کرواکے خرید لیاتو جیب سے زیادہ حوصلہہلکا ہوگیا۔اب کچھ مزید خریدنے کا حوصلہ نہ تھا۔
’’ سر یہ دیکھیں ہمارے پاس شرٹس اور ٹائیوں کی بھی بڑی ورائٹی موجود ہے۔ یہ شرٹ اس کے ساتھ بہت سوٹ کرے گی‘‘۔ دوکاندار نے ایک شرٹ ہمیں دکھاتے ہوئے کہا
’’نہیں نہیں۔ شرٹس میرے پاس بہت ہیں‘‘۔
’’اور یہ ٹائی تو دیکھیں ‘‘۔ سیلزمین نے اپنی کوشش جاری رکھی
’’اچھی ہے مگر میرے پاس اِس سے میچنگ کافی ٹائیاں ہیں‘‘۔ اگرچہ دل چاہ رہا تھا کہ ایک آدھ ٹائی اور شرٹ بھی لے لوں۔ پیسے بھی جیب میں تھے مگر ہمت نہ پڑی اور مڈل کلاس سوچ غالب آگئی کہ اتنی شاپنگ تو کر لی، بس کر۔
اب یونیورسٹی جانے کی تیاری تھی۔ قدرے نئی قمیضیں بقول بیگم کے سوٹ کے ساتھ نہیں جارہی تھیں۔ ایک 5سال پُرانی قیمض کو پہننا پڑا۔ ٹائی ایک بہتر مل گئی۔ جوتے بھی نئے تو نہیں تھے مگر قدرے بہتر تھے۔ یہی مڈل کلاس کا المیہ ہے کہ اگر ایک چیز نئی لے آؤ تو باقی پرانی ہوتی ہیں۔ سوٹ نیا تو قیمض پرانی ۔ اگر قمیض نئی ہے تو پینٹ پرانی ۔دونوں نئے تو جوتا پرانا۔ جوتا نیا تو باقی سب پرانا ۔ اور اگر سب کچھ نیا خود پُرانا۔سَب نیا پہن کر شرمندہ شرمندہ۔ اہلِ محلہ اور دوست احباب بھی دیکھ کر کچھ ایسے نعرے لگاتے ہیں کہ شریف بندے نے شرمندہ ہی ہونا ہوتا ہے
’’ واہ واہ خیر توہے؟‘‘
’’ آج بڑی ٹور شور ہے ؟‘‘
’’کیا عید ہے آج؟‘‘
’’کِس کی شادی پر جانا ہے؟‘‘
کبھی کبھار نئے کپڑے پہن کر بندہ شرمندہ ہی ہوتا ہے۔
خیر ہم نے پرانی شرٹ اور جوتے نئے سوٹ کے ہمراہ زیب تن کیے اور یونیورسٹی پہنچ گئے۔ ذہن میں یہی سمایا تھا کہ آج دو تین میٹنگ بھی ہیں اور کلاسیں بھی۔ سب نیا سوٹ دیکھ کر تعریف کریں گے آخر ہماری سلیکشن بھی تو کافی عمدہ ہوتی ہے۔ ایک دو کولیگ ملے ، کچھ طالب علم بھی مگر سب جلدی میں تھے یقیناً ہمارا نیا سوٹ سب نے دیکھا تو ہوگا مگر جلدی کی وجہ سے تعریف کا موقع نہ مل سکا خیر ایک دو جملے تو بندہ جلدی میں بھی کہ سکتا ہے مگرلوگوں کو کچھ زیادہ ہی جلدی تھی شاید۔
ایک میٹنگ میں گئے وہاں کافی اساتذہ موجود تھے۔ہماری اسمارٹنس کی ویسے ہی تعریف ہوتی ہے مگرآج نئے سوٹ کی وجہ سے ہم ذہنی طور پر زیادہ ہی ستائش کے لئے تیارتھے ۔یقیناًہم کافی اچھے لگ رہے ہونگے مگر میٹنگ کافی ہنگامہ خیر تھی غالباًاسی لئے کسی کو ہمارے نئے سوٹ کی ستائش کا موقع نہ مل سکا۔ ایک دو احباب جو عموماً ہمارے لباس اور شخصیت کو سراہتے ہیں اُن کو خصوصی طور پر ملے مگر وہ بھی کسی نامعلوم وجہ سے نئے سوٹ کو نہ دیکھ سکے۔ میٹنگ سے واپس آگئے۔ تھوڑی بیزار ی ہوگئی تھی کہ لوگ کتنے مصروف ہوگئے ہیں اور کسی اچھی چیز کا نوٹس بھی نہیں لیتے۔
کلاس بھی پڑھا کر آئے اور پھر آفس میں بھی کئی طالب علم اور کولیگ آئے مگر حیرت ہے کہ کسی ایک نے بھی سوٹ کے متعلق بات نہ کی۔ ایک دوسری میٹنگ میں گئے کچھ افراد کی ہم نے خود سے ان کی تعریف کی کہ آج بڑے اچھے لگ رہے ہیں۔مثلاََ ’’ ماشاء اللہ بڑ ی عمدہ ٹائی ہے وغیرہ وغیرہ‘‘۔ عموماً لوگ جواب میں دوسر ے کی تعریف بھی کردیتے ہیں مگر ندارد ۔ شائد ہم ہی نے غلط افراد کا چناؤ کیا۔ یہ لوگ شاید بد ذوق اور اخلاقیات سے عاری تھے کہ انہیں یہ تک احسا س نہیں تھا کہ کوئی تعریف کرے تو جواباً بھی تعریف کرتے ہیں۔
آخر زچ ہوکر ڈاکٹر عرفان کے آفس گئے ۔عرفان بہت خوش لباس اور ہمیشہ سے ہمارے نئے کپڑوں کی ضرور ستائش کرتا ہے اور ہماری چھوٹی موٹی نئی چیز کا بھی نوٹس لیتا ہے۔ جب کافی دیر بیٹھنے کے بعد بھی عرفان نے کوئی بات نہ کی توآخر خود ہی کہا
’’عرفان دیکھ سوٹ کیسا ہے ؟‘‘
’’یہ نیا ہے کیا ؟‘‘۔ عرفان نے بھولپن سے کہا
’’کوئی حال نہیں تیرا ۔ کل ہی تو لیا ہے اور آج پہلی مرتبہ پہن کر آیا ہوں‘‘۔
’’اچھا ہے‘‘۔ نیم دلی سے عرفان نے کہا تو ہم چڑ کر اپنی مصروفیات کا بہانہ کرکے اپنے آفس آگئے
آخر فون کرکے اپنے پرانے دوست اشفاق کوبلایا کہ ایسے موقعوں پر دوست ہی کام آتے ہیں۔اشفاق نے چھوٹتے ہی کہا۔’’ اوئے یہ شرٹ ابھی تک پہنتا ہے یاد ہے کئی سال پہلے اکٹھے ہی لی تھیں ۔میں نے تو کب کی پھینک دی‘‘۔ہماری امیدو ں پر گھڑوں پانی گِر گیا ۔گھگھیا کر بولے
’’میں نے زیادہ نہیں پہنی ہوئی اور اس نئے سوٹ کے ساتھ میچ کر رہی تھی تو پہن لی‘‘
’’کوئی حال نہیں ۔امیر ہو گیا مگر عادات ابھی بھی غریبوں والی ہیں تیری۔ نیا سوٹ لے لیا مگر ساتھ قمیض لینے کی توفیق نہیں ہوئی‘‘۔ اشفاق نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔
’’آخر چک جھمرہ کا ہی رہا نہ۔گدھا گاڑی بھی لی تو پُرانا جوتا نظر بٹُو کر کے باندھ لیا۔تو خود کم نظر بٹو تھا جو یہ قبل مسیح کی قمیض پہن لی۔یہ ہوتا ہے مخمل میں ٹاٹ کا پیوند‘‘۔
’’چل زیادہ بک بک نہیں کر۔ آج موقع مِل گیا تمہیں بھی بولنے کا۔تم ویسے ہی ہم سے جلتے ہو‘‘۔ہم نے جل کے کہا
اب بات سمجھ میں آئی۔ نئے سوٹ کا پرانی قمیضنے بیڑا غرق کر دیا۔ہمیں یو ں لگ رہا تھا کہ قمیض پہن کے ہی نہیں آئے۔ ویسے اِس سے اچھا تھا کہ نہ ہی پہنتے۔ بیگم نے غالباََ اُس وقت عینک نہیں پہنی تھی جب پوچھا تھا۔ ٹائم گزارنا مشکل ہو گیا۔ اب چھٹی کا انتظار تھا کہ گھر جائیں اور تب تک کوئی اور نہ آئے ورنہ اُس کی نظر بھی پرانی قمیض پر ہی پڑے گی۔ صبح سے جو کسی نے تعریف نہیں کی وہ ہوسکتاہے کہ یہی پرانی قمیض کی وجہ سے ہو۔بیگم پر غُصہ آ گیا ۔پوچھتا ہوں گھر جا کر آج اُس کی کلر میچنگ اور ہوم اکنامکس۔ اسی دوران ایک اور دوست شامی آ گیا تو اشفاق نے اس کے کان میں کچھ کہا تو شامی بولا
’’ڈاکٹر صاحب شرٹ بڑی پیاری ہے کہاں سے لی تھی ؟‘‘
’’لنڈے سے لی تھی‘‘
’’لگتی ہے‘‘۔ اشفاق اور شامی دانت نکالتے ہوئے اکٹھے بولے
’’ الو کے پٹو۔ مار کھاؤ گے مجھ سے‘‘۔
عمران خان نے لوگوں کو انقلاب کا نعرہ دیا ہے اور ہر کوئی اس کی نئی نویلی تازہ پارٹی کے سوٹ میں گھسی پٹی قمیض جیسے آزمودہ ابن الوقتوں کو دیکھ رہا ہے۔عمران لاکھ اپنا نیا عمدہ سوٹ دکھا ئے مگر لوٹے پرانی قمیض کی طرح اس کی ساری تیاری کو برباد کررہے ہیں۔ یہ ٹاٹ کے نظر بٹو اتنے بڑے ہیں کہ رفتہ رفتہ عمران بھی اُن میں چھپ رہا ہے۔

 

Check Also

افطار چور گرفتار

ارشد باجوہ Related

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: