Breaking News
Home / ادب / کتاب کہانی / نبیلہ رفیق کا ناول جھرنا

نبیلہ رفیق کا ناول جھرنا

تبصرہ شازیہ عندلیب
نبیلہ رفیق اوسلو ہائی اسکول میں بیچلر کی اردو کلاس میں میری کلاس فیلو رہ چکی ہیں۔یہ سن دو ہزار آٹھ کی خوبصورت زمانہء طالبعلمی کی رتیں تھیں ۔جو وقت نبیلہ رفیق کی رفاقت میں گزرا وہ بہت انمول تھا۔میں نبیلہ کو ایک پر خلوص دوست کی حیثیت سے جانتی تھی۔بہت خوش اخلاق اور سادہ سی نبیلہ کے اندر ایک اتنی بڑی شاعرہ اور مصنفہ چھپی بیٹھی تھی اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔نبیلہ ایک ایسی شخصیت ہے جس کی ذات میں کئی پرتیں ہیں اور ہر پرت کے کئی رنگ ہیں۔وہ اپنی ذات میں قوس و قزاح کے انمول رنگ سمیٹے ہوئے ہیں۔یہی قوس و قزاح ان کے خیالوں میں بھی بسی ہوئی ہے۔وہ جب اپنے ان خیالات کو تحریر کے حوالے کرتی ہیں تو قاری ان رنگوں میں کھو جاتا ہے۔
ان کا ایک سفر نامہ مصر میں نے پہلی بار پڑہا تو میں چونک اٹھی۔یوں محسوس ہوتا تھا جیسے میں نبیلہ کے سنگ سنگ دریائے نیل کی سیر کر رہی ہوں۔آپ بھی ضرور پڑہیں۔یہ اردو فلک پہ بھی موجود ہے۔نبیلہ کی شاعری کی کتاب جگنوؤں کی رت جسے انہوں نے مغربی معاشرے میں بیٹھ کر مشرقی انداز میں تخلیق کیا ۔ایک با کمال تخلیق ہے۔
اب انکی دوسری تخلیق ناول جھرنا ایک زبردست ادبی تخلیق ہے جس میں انہوں نے نہائیت ہی مہارت اور قلم کی چابکدستی سے ناروے کے ماحول میں ایک بنگلہ دیشی خاندان کی کہانی کو قلمبند کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔کہانی پر ان کی مظبوط گرفت کردار نگاری منظر نگاری اور الفاظ کے چناؤ نے اس ناول کو آفاقی بنا دیا ہے۔اسے پڑہتے ہوئے ناروے میں بسنے والے ہر قاری کو کہیں نہ کہیں اپنی تصویر ضرور نظر آئے گی۔انہوں نے بہت سادہ سلیس اورآسان زبان میں کسی ندی یا جھرنے کے پانی کی روانی کی مانند ایک بنگالی لڑکی کی کہانی بیان کی ہے کہ اس کے خاندان کو نارویجن معاشرے میں کس طرح کٹھن مسائل سے گزرنا پڑا مگر اس نے اپنی شناخت بر قرار رکی اور ایک کامیاب شخصیت بن کر ابھری۔اس ناول میں نہ صرف آپ کی اور میری بلکہ ہم سب کی کہانی ہے ۔یہ ایک حقیقت ایک افسانہ ہے۔جس میں مسائل ہیں اور انکا حل ہے اور ایک مغربی معاشرے میں بچوں کی تربیت کے گر بھی ہیں۔یہ تفریح کے ساتھ ساتھ گر کی باتیں بھی بتاتی ہے جو کہ نبیلہ کے تجربات کا نچوڑ ہیں۔
انہوں نے روائتی رومانس کا سہارا لیے بغیر بڑی سہولتسے دل میں اتر جانے والی تحریر لکھی ہے۔جو کہ مغرب کی سمت رہنے والے قارئین کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔اسے خودبھی پڑہیں اور اپنے دوستوں کو بھی پڑہنے کے لیے دیں۔یہ ناول وہ گلدستہ ہے جس میں مشرق اور مغرب دونوں کے پھول سجے ہیں۔

Check Also

تبصرہ کتاب منزلوں کی کہکشاں

شازیہ جی میں نے آپکے سفرنامہ کی کتاب میں آپکا آرٹیکل راولپنڈی عرف پنڈی پڑھا ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: