Home / ادب / شعرو ادب / شاعری / ہائے اُس کوچے کی ہوا کیا ہے

ہائے اُس کوچے کی ہوا کیا ہے

درد اکسیر کے سوا کیا ہے 
زخمِ دل کے بِنا مزا کیا ہے میری سانسوں میں بس گئی ہے مہک
ہائے اُس کوچے کی ہوا کیا ہے 

وصل کے چار دن تو بیت گئے 
صرف یادیں ہیں، اب بچا کیا ہے 

دل دیا جس کو، وہ ہُوا غافل 
جرمِ اظہار کی سزا کیا ہے 

کھو گیا وہ جہاں کے میلے میں 
میری دنیا میں اب رہا کیا ہے 

بات ہوتی تھی کل نگاہوں سے 
اُن اشاروں کا اب ہُوا کیا ہے 

جانتے جب تھے عشق کا انجام 
موناؔ ! قسمت سے پھر گِلہ کیا ہے 

*

Elizabeth Kurian ‘Mona’

Check Also

بہت مصروف رہتے تھے

بہت مصروف رہتے تھے ہواؤں پر حکومت تھی تکبر تھا کہ طاقت تھی بلا کی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: