Home / سائنس اینڈ ٹیکنالوجی / انٹرنیٹ کا 100 گنا تیز ذریعہ لائی فائی LI FI Net

انٹرنیٹ کا 100 گنا تیز ذریعہ لائی فائی LI FI Net

پروفیسر ہاس نے ایسے مستقبل کا تصور کیا تھا جب بجلی کے اربوں بلب وائر لیس ہاٹ سپاٹ بن جائیں گے
اب ڈیٹا کی منتقلی کے لیے ایسی ٹیکنالوجی آ چکی ہے جو وائی فائی کے مقابلے 100 گنا تیز ہوگی اور جس میں ریڈیو ویوز کی جگہ روشنی کا استعمال ہوتا ہے۔
لائی فائی نامی اس ٹیکنالوجی کا تجربہ رواں ہفتے ایسٹونیا کے ٹالن میں کیا گیا۔
لائی-فائي سے وائی فائی کے مقابلے آپ 100 گنا تیز انٹرنیٹ چلا سکتے ہیں اور اس کی رفتار ایک گیگا بائٹ فی سیکنڈ تک ہو سکتی ہے۔
کمپنی ویلمیني کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر دیپک سولنکی نے بی بی سی کو بتایا کہ 146یہ ٹیکنالوجی کال ڈراپ جیسے مسائل کے لیے تیر بہدف نسخہ ثابت ہو سکتی ہے۔145
سولنکی نے بتایا کہ ان کی کمپنی ایسٹونیا میں رجسٹرڈ ہے لیکن ان کی پوری ٹیم بھارتی ہے۔
کیا انھیں بھارت میں کوئی سرمایہ کار نہیں ملا؟ اس سوال کے جواب میں سولنکی نے بتایا کہ ڈھائی سال پہلے انھوں نے کوشش کی تھی لیکن بھارتی سرمایہ کاروں نے اسے 146خیال خام145 قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

وائی فائی میں ریڈیو ویوز ٹکنالوجی کا استعمال ہوتا ہے
لائی فائی چلانے کے لیے آپ کو ذریعے کے طور پر بجلی کے ایل ای ڈی بلب، انٹرنیٹ کنکشن اور ایک فوٹو ڈیٹیکٹر چاہیے۔
ویلمینی نے ایک گیگا بائٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا بھیجنے کے لیے ایک لائی فائی بلب کا استعمال کیا۔ ٹیسٹ میں پتہ چلا کہ نظریاتی طور پر یہ رفتار 224 گیگابٹ فی سیکنڈ تک ہو سکتی ہے۔
ایک آفس کے ساتھ اس کا تجربہ ایک صنعتی علاقے میں بھی کیا گیا جہاں اس نے سمارٹ لائٹنگ سوليوشن فراہم کرایا۔
سولنکی کے مطابق 146یہ ٹیکنالوجی تین سے چار سال کی مدت میں صارفین تک پہنچ جائے گی۔145
انھوں نے کہا کہ 146لائی فائی کے استعمال کے لیے موبائل میں ایک آلہ نصب کرنا ہوگا لیکن مستقبل میں یہ وائی فائی اور بلوٹوتھ کی طرح ہر کسی موبائل میں موجود ہوگا۔145
انھوں نے بتایا کہ جہاں ریڈیو ویوز کے سپیکٹرم کی ایک حد ہے وہیں وزیبل لائٹ سپیکٹرم اس سے 10،000 گنا زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل قریب میں اس کے ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

مستقبل میں یہ کسی موبائل میں بلوٹوتھ یا وائی فائی کی طرح موجود ہوگا
146لائی فائی145 لفظ کا استعمال سب سے پہلے ایڈنبرا یونیورسٹی کے پروفیسر ہیرالڈ ہاس نے کیا تھا۔ انھوں نے سنہ 2011 میں ٹیڈ (ٹیکنالوجی، تفریح اور ڈیزائن) کانفرنس میں اس کا مظاہرہ کیا تھا۔
انھوں نے ایک ایل ای ڈی بلب سے ویڈیوز بھیج کر دکھایا تھا، اس تجربے کو انٹرنیٹ پر تقریبا دو کروڑ بار دیکھا جا چکا ہے۔
پروفیسر ہاس نے ایسے مستقبل کا تصور کیا تھا جب بجلی کے اربوں بلب وائر لیس ہاٹ سپاٹ بن جائیں گے۔
لائی فائی کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ وائی فائی کی طرح دوسرے ریڈیو سگنل میں خلل نہیں ڈالتا یا متاثر نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ اس کا استعمال طیاروں اور دوسرے ایسے مقامات پر کیا جا سکتا ہے۔
لیکن اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اسے باہر دھوپ میں استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سورج کی شعاعیں اس کے سگنل میں دخل دیتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی دیوار کے پار بھی استعمال نہیں کی جا سکتی۔

Check Also

پولینڈ کا باشندہ انیس برس تک کومہ میں رہنے کے بعد اٹھ گیا

پولینڈ کا باشندہ جان گرز بک Jan grzebski جو کہ ریلوے میں مایک کارکن تھا ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: