Home / حالات حاضرہ / خبریں / سلو کے نواحی علاقہ ضلع شی میں پیپل ان فوکس کے زیر اہتمام چائلڈ پروٹیکشن کے موضوع پر ایک اہم سیمینار

سلو کے نواحی علاقہ ضلع شی میں پیپل ان فوکس کے زیر اہتمام چائلڈ پروٹیکشن کے موضوع پر ایک اہم سیمینار

ski 5ski 1ناروے۔ اوسلو کے نواحی علاقہ ضلع شی میں پیپل ان فوکس کے زیر اہتمام چائلڈ پروٹیکشن کے موضوع پر ایک اہم سیمینار کا انعقاد
اوسلو(پ ر) پیپل ان فوکس (Peopel in focus) کے زیر اہتمام اوسلو کے نواحی علاقہ شی میں چائلڈ پروٹیکشن کے موضوع پر ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلع شی سے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی خاتون افیسر علوہ بیلوین،پولیس ڈی پارٹمینٹ سے یوستین سنڈویک ، معروف قانون دان پیتر کلیمتسن ، شی مسلم کلچر سنٹر کے چیئرمین ندیم بٹ اور عقیل قادر نے خطاب کیا۔۔ عقیل قادر نے چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے سے مختصر گفتگو کی اور پیپل ان فوکس کا تفصیلی تعارف پیش کیا جبکہ معروف قانون دان پیتر کلیمتسن نے ناروے میں مقیم تارکین وطن لوگوں کی مشکلات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ تارکین وطن والدین کو چائلڈ بیورو سے اکثر یہ شکایات رہتی ہیں کہ وہ بچوں کو تحقیق کیے بغیر اپنی تحویل میں لے لیتے ہیں اور اکثر خواتین اور بچوں کو سنا جاتا ہے جبکہ مرد حضرات کو تحقیق کیئے بغیر قصوروار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے درخواست کی کہ مسائل کو ڈائیلاگ کی صورت میں حل کرنا چاہیے تاکہ تارکین وطن اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو ایک دوسرے کے کلچرل اور ویلیوز کو بہتر طور پر سمجھ سکیں ۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی خاتون افیسر علوہ بلیوین نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا مقصد لوگوں کو سہولتیں فراہم کرنا اور انکی مشکلات کو کم کرنا نہ کہ انکی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ بچے والدین کے ساتھ رہیں کیونکہ والدین ہی حقیقی معنوں میں بچوں کی اچھی تربیت کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیور و بچوں کو اپنی تاویل میں اس وقت لیتی ہے جب وہ سمجھتی ہے کہ بچے کی زندگی کو خطرہ ہے یا اس پر تشدد کیا جاتا ہے یا اسکی ضروریات کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اُن بچوں کو بھی والدین سے لے لیتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ بہت زیادہ لڑتے جھگڑتے ہیں یا پھر وہ شراب نوشی کے عادی ہوں جس سے بچوں کی تربیت اور پرورش میں کمی آتی ہویا پھر وہ گھریلو ماحول کی وجہ سے نفسیاتی دباؤ کا شکا ر ہوں۔ پولیس ڈی پارٹمنٹ سے یوستین سنڈویک نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ناروے میں پندرہ سال سے کم عمر بچوں کو سزا نہیں ہو سکتی اس لیے اگر کوئی بھی بچہ کسی جرم میں پکڑا جائے تو اسے فوری طور پر چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کر دیا جاتا ہے پولیس اور چائلڈ پروٹیکشن بیور و کے آپس میں بہت اچھے روابط ہیں اور اکثر پولیس کی شکایات پر چائلڈ پروٹیکشن بیورو کاروائی کرتی ہے۔ سیمینار کے شرکاء کی طرف سے چائلڈ پروٹیکشن بیورو پر سخت قسم کے سوالات بھی کیئے گئے اور ان پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا گیا اور کہا گیا کہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو اپنی کارکردگی بہتر بنانی ہوگی۔ سیمینار میں پاکستانی، صومالین،شامی، فلسطینی اور نارویجن کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے اہم خواتین و حضرات نے شرکت کی۔سیمینار کو منعقد کرنے اور کامیاب بنانے میں شی مسلم کلچر سنٹر کی پوری انتظامیہ اور بالخصوص محمد نواز نے بھرپور تعاون کیا جس پر عقیل قادر نے ان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ سیمینار کے آخر پر عقیل قادر نے تمام مہمانوں کو پھولوں کے گلدستے پیش کیئے۔

 

ski 3ski 2

Check Also

بھارت میں مسافر بردار طیارے کو حادثہ، اب تک کتنے افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی؟ افسوسناک خبر

بھارت میں دبئی سے آنے والا انڈیا ایکسپریس کا مسافر بردار طیارہ لینڈنگ کے دوران ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: