Warning: count(): Parameter must be an array or an object that implements Countable in /customers/d/7/4/urdufalak.net/httpd.www/urdu/wp-includes/post-template.php on line 284
Breaking News
Home / متفرقات / سیاروں کی دنیا

سیاروں کی دنیا

Mohammad Tariqgalileo.2

نوے کی دہائی کے وسط میں ، سیاروں کی دنیا بہت ہی چھوٹی اور صرف نظام شمسی کے نو سیاروں پر مشتمل تھی ؛ پلوٹو کی سیاروی حیثیت کو ابھی تک کسی نے نہیں للکارا تھا ۔ اس چھوٹی سی دنیا کے باوجود یہ سیارے جس قسم کے متنوع فیہ قسم کے ماحول رکھتے تھے اس کا ہم تصوّر بھی نہیں کر سکتے تھے۔ خلائی جہازوں کے بیڑوں پر نصب کیمرے نظام شمسی کی کھوج کرتے ہوئے ہم پر اجنبی دنیائیں آشکار کر تے ہوئے ہمیں سیارہ شناسی سکھا رہے تھے۔ حیات کی تو بات ہی چھوڑ دیں ، ہم تو کائناتی پیمانے پربھی اس وقت سیاروں کی اہمیت ہی سے آگاہ نہیں تھے۔ دور حاضر میں پہلی دفعہ سائنس دان سیاروں اور حیات کو کائنات اور اس کی تاریخ کا لازم و ملزوم حصّہ سمجھ کر دیکھ رہے ہیں ۔ اس کھوج میں ہم سے جو کچھ بن پڑ رہا ہے وہ ہم کر رہے ہیں ۔

Gases

وے کی دہائی کے وسط میں ، سیاروں کی دنیا بہت ہی چھوٹی اور صرف نظام شمسی کے نو سیاروں پر مشتمل تھیہمارے نظام شمسی میں سیارے دو قسم کے گروہ کو بناتے ہیں – گیسی دیو اور ارضیاتی سیارے ۔ مشتری اپنے نام اور جسمانی ساخت کے بل بوتے پر تمام سیاروں پر حکمرانی کر رہا ہے ۔ قدیمی لوگوں نے نہ جانے اس بات کو کیسے سمجھا تھا یہ اب تک ایک راز ہی ہے، کیونکہ سائنس دانوں کو اس کی کمیت اور حجم کی تصدیق کرنے میں لگ بھگ ڈھائی ہزار برس کا عرصہ لگ گیا تھا ۔ چار سو برس پہلے پڈووا (Padua)میں گلیلیو گلیلی نے پہلی دفعہ اپنے غیر معمولی بصری آلے یعنی کہ دوربین کا استعمال کرتے ہوئے مشتری کی طرف دیکھا تھا ۔ گلیلیو نے کونے نکلے ہوئے ستارے کے بجائے ایک سیارہ دیکھا تھا جس کے گرد چار چاند گردش کر رہے تھے ۔ اس نے انہیں میڈیچین(Medicean) ستارے کا نام دیا۔ یہ نام اس نے اپنے فلورینٹین کے مربی میڈیچی کے نام پر دیا تھا۔ اس وقت تک ستاروں اور سیاروں کے درمیان فرق واضح نہیں تھا ۔ اب ہم ان کو مشتری کےگلیلائی مہتابوں کے نام سے جانتے ہیں ؛ ان مہتابوں کے مداروں نے ہمیں سیاروں کے جاذبی کھنچاؤ اور ان کی کمیت کو ناپنے میں مدد کی ہے

galileo.2

گلیلیو نے سب سے پہلے مشتری کے چار مہتاب دریافت کئے تھے

(یہاں میں نے لفظ کمیت کا استعمال کیا ہے ۔ کسی بھی جسم کی کمیت اس میں موجود مواد (ایٹموں یا مادّے ) سے ناپی جاتی ہے ۔کمیت اور قوّت ثقل ایک دوسرے سے متصل ہیں :قوّت ثقل کی طاقت کا انحصار کمیت پر ہوتا ہے – زیادہ ضخیم جسم قوی قوّت (یا کھنچاؤ )پیدا کرتا ہے ۔ عام بول چل میں ہم اکثر وزن یا بھاری کے الفاظ کمیت یا ضخامت کے لئے استعمال کر لیتے ہیں ۔ یہ درست نہیں ہے اور اس کے استعمال سے پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے ، لہٰذا میں کمیت یا ضخامت کے لفظوں کا ہی استعمال کروں گا ۔ )

یہ ناپ تول آئزک نیوٹن کے قوّت ثقل کے قانون کی جیت تھی جو ان نسل کے سائنس دانوں کے لئے رہنما تھی جنہوں نے گلیلیو کی پیروی کی تھی۔ اسی نے نوجوان ایما نیول کانٹ(Immanuel Kant) کو سیاروں کی تشکیل کے عمل کو سلجھانے میں مدد کی تھی۔ اس کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوا کہ مشتری کی کمیت تین سو زمینوں یا تمام سیاروں کی کل کمیت سے بھی دو گنی ہے ۔ مشتری واقعی میں ایک دیوہیکل سیارہ ہے اس کے مد مقابل صرف دور دراز واقع حلقوں والا سیارہ زحل ہے ۔

جاری ہے

 

 

 

 

Check Also

تکنیک کا غلط استعمال

Mohammad Firoz Alam  آج انٹرنیٹ کے ذریعہ ہم ایک گلوبل ویلیج میں زندگی گزار رہے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: