Home / حالات حاضرہ / خبریں / اوسلو میں پاکسانی کمیونٹی کی مصروفیات

اوسلو میں پاکسانی کمیونٹی کی مصروفیات

نمائندہء خصوصی اردو فلک نیوز ڈ یسک
تقریبات عروسی
ماہ رمضان کے ختم ہوتے ہی اوسلو میں پاکستانی کمیونٹی شادی بیاہ کی تقریبات میں مصروف ہو گئی۔اس سال میں شادی ہال رمضان سے پہلے ہی بک ہو چکے تھے۔اس کے علاوہ خلاف معمول عید ملن پارٹیوں کی تقریبات پہلے کی نسبت کم منعقد ہوئی ہیں۔یہ تمام شادیاں پاکستانی کمیونٹی نے آپس میں کی ہیں۔
پاکستانی میلہ
اوسلو میں پاکستانی میلے کی تیاریاں عروج پر ہیں یہ میلہ اس ہفتے چودہ پندرہ اور سولہ اگست کو منعقد ہو رہا ہے۔پچھلے دو برسوں سے میلے میں پاکستانی دوکانداروں کی اکثریت ذیادہ تر اشیائے خور دو نوش کے اسٹالز ہی لگاتی ہے۔حتیٰ کہ کپڑے بیچنے والے دوکانداربھی گرما گرم چائے اور لذیذ ڈشز بیچتے نظر آتے ہیں۔تین روزکے اس میلے میں بعض پاکستانی اسٹالوں کا کرایہ پچاس ہزار کرائون تک تھا۔پاکستانی میلے کی تنظیم ہر سال حکومت کو ٹیکس کی مد میں لاکھوں کرائون کی ادائیگی کرتی ہے۔
پاکستانی ایمبیسی میں خاتون سفارت کار کی تعیناتی
اوسلو میں پاکستانی سفارت خانے میں سابقہ سفیر اپنی ملازمت کی مدت پوری کر کے رخصت ہو رہے ہیں۔جبکہ اس دوران پاکستانی ایمبیسی کی کار کردگی سے عوام مطمئن نہیں تھے۔اس دوران ایک پاکستانی گھرانے کو ایمبیسی سے نادرہ کارڈ کے سلسلے میں ایسا خط بھی موصول ہوا جس میں ایمبیسی کے ملازم خط ڈالنا بھول گئے اور خالی لفافہ پوسٹ کر دیا گیا۔
نئی سفارت کار خاتون کے بارے میں یہ خبر ہے کہ وہ ایک پٹھان خاتون ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی سفارت کار خاتون کس طرح سفارت خانے کی کار کردگی کو بہتر بناتی ہیں۔تاہم اس سلسلے میں کوئی با ضابطہ اطلاع تا حال مو صول نہیں ہوئی۔
پاکستانی سیاستاد انوں کی الیکشن کے لیے تیاریاں
پاکستانی سیاستدان ناروے کے انتخاابات میں تیاریوں کیلیے پر تول رہے ہیں۔وہ پاکستانیوں سے اس سلسلے میں مشورے اور تجاویز طلب کر رہے ہیں۔اللہ کرے کہ جیتنے ولے پاکستانی اپنی کمیونٹی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔
UFN

Check Also

dais perdais 3

دیس پردیس کی خبریں

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا. ضرورت کے کھیتوں ک* نشان لگا دیا گیا ہے

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)