Breaking News
Home / روزگار - کاروبار / اوسلو کی معروف دوکان پاک مات کے مالک الطاف حسین صاحب سے معلوماتی گفتگو

اوسلو کی معروف دوکان پاک مات کے مالک الطاف حسین صاحب سے معلوماتی گفتگو

pak mat inter 1

انٹر ویو نمائندہء خصوصی
مسلمان اور پاکستانی رزق حلال کی تلاش میں اپنا وطن چھوڑ کر کئی ممالک کی جانب عازم سفر ہوئے۔اکثر لوگوں نے محنت مزدوری کر کے رزق حلال تو حاصل کرلیا لیکن حلال گوشت حاصل کرنا ایک مسلہء تھا۔وہ بھی ناروے جیسے ملک میں جہاںمسلمانوں کے بارے میں بہت کم معلوما ت تھیں۔ایسے ماحول میں اکثر لوگ مل کر بکرہ یا مرغیاں غیر قانونی طور پر کسی کھیت میں ذبح کرتے اور گزارہ کرتے ۔لیکن بالآخر جماعت اہل سنت کی مسجد کے منتظمین نے مل کر حکومت سے قانونی طور پراسلامی طریقے سے جانوروں کو ذبح کرنے کی اجازت حاصل کی۔اس کے بعدسے ناروے میں قانونی طورپر نہ صرف حلال جانور کا گوشت دستیاب ہونے لگا بلکہ قربانی بھی دی جانے لگی۔یہ سب تفصیلات جاننے کے لیے ہمارے نمائندے نے اوسلو کے ایک فوڈ اسٹور کے مالک الطاف حسین صاحب سے معلوماتی اور دلچسپ گفتگو کی جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
محمد الطاف حسین صاحب نے بتایاکہ انہوں نے پاک مات بوتیک Pak mat butiqسن انیس سو چوراسی 1984میں اپنے بھائی حاجی عبدالرئوف کے ساتھ مل کر کھولا۔اس وقت اس میں حلال گوشت نہیں بکتا تھا بلکہ حلال گوشت کی اجازت کے لیے اہل سنت جماعت کی مسجد نے حکومت سے لائسنس ایپلائی کیا جو کہ چھ سات ماہ کے بعد پاس ہوا۔اس کام کے لیے اوسلو سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پرایک مذبح خانہ جہاں جانورذبح کیے جاتے تھے کا انتخاب کیا گیا۔حلال گوشت کی قانونی اجازت ملنے کے بعد مسجد کی انتظامیہ نے کئی دوکانداروں سے رابطے کیے ۔انہیں اس کام کے لیے ایمانداردوکانداروں کی ضرو ر ت تھی۔چنانچہ اس کام کے لیے ہماری دوکان کا انتخاب کیا گیا۔اس طرح ہماری دوکان پر پہلی مرتبہ حلال گوشت بکنا شروع ہوا۔اس وقت میرے بڑے بھائی حاجی عبدلرئوف دوکان چلایاکرتے تھے۔
ناروے کے مذبح خانے میں جانورحلال کرنا مشکل تھا کیونکہ جانور کو پہلے بے ہوش کیا جاتاہے ۔لیکن اسے جھٹکا کہنا درست نہیں ہے۔ہر مذبح خانے میں ایک ڈاکٹرہر وقت موجود ہوتا ہے جو کہ اس بات کا خیال رکھتاہے کہ جانورذبح ہونے سے پہلے نہ مرے۔ہم لوگ بھی اپنے ساتھ مولوی صاحبان کو لے جاتے تھے۔سب سے پہلے بکرے ذبح کیے پھر گائے بھی ذبح کرنا شروع کردی۔
ہماری دوکان پرنہ صرف پاکستانی بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک کے مسلمان بھی حلال گوشت خریدتے ہیں۔بلکہ نارویجن بھی حلال گوشت
خریدتے ہیں۔میں نے ایک نارویجن گاہک سے پوچھا کہ تمہاری نارویجن دوکانوں پرتو مرغی سستی ملتی ہے پھر تم یہ مہنگی حلال مرغی کیوں خریدتے ہو و

ہ کہنے لگا کہ حلال مرغی زیادہ مزیدارہوتی ہے۔میں نے حلال مرغی اورنارویجن طریقے سے ذبح کی ہوئی مرغی الگ الگ ہنڈیا میں پکائی تو حلال مرغی کا ذائقہ دوسری مرغی سے ذیادہ لذیذتھا۔

ناروے میں قربانی کے جانور کی بکنگ
قربانی کے جانور ہم لوگ بکرہ عید سے ایک ماہ پہلے ہی بک کرنا شروع کر دیتے ہیں۔لوگ خود ہی آ کر بک کروانا شروع کردیتے ہیں۔ہم کوئی اشتہار نہیں دیتے۔اس کام کے لیے ہمیں خصوصی بندو بست کرنا ہوتا ہے اوراس کے لیے ایک پرائیویٹ مذبح خانہ بک کیا جاتا ہے جہاں ایک دن بکرے ذبح ہوتے ہیں اوردوسرے روز مال ملتا ہے پھرہم یہ جانور لوگوں کے گھروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔ہمارے ہاں گائے بھی بک کی جاتی ہے۔لیکن اس کا گوشت دیرسے ملتا ہے۔ہم لوگ قربانی کا جانور ذبح کرنے کے بعد اس کا گوشت مکمل کاٹ کر دیتے ہیں۔اس کام میں دو سے تین دن لگ جاتے ہیں ۔اوراس کے لیے خاص طورسے مزید لوگوں کو ملازم رکھا جاتا ہے۔پاکستانی بہت بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ دوسرے ملکوں کے لوگ تعاون کرتے ہیں۔
ہم لوگ ہرسال ڈھائی تین سو کے قریب بکرے بک کرتے ہیں۔یہ قربانی کے بکرے عام بکرے ہی ہوتے ہیں انہیں خاص قربانی کے لیے نہیں پالا جاتا لیکن اکثر لوگ یہی کہتے ہیںکہ ان کا ذائقہ عام گوشت سے مختلف ہوتا ہے۔ہمارے کسمٹرہم سے بہت خوش ہوتے ہیں اورہمیں دعائیں دیتے ہیں کہ ہماری وجہ سے انہیں دیارغیر میں قربانی کا گوشت ملا۔ہم لوگ جانورکا ریٹ کلو کے حساب سے لیتے ہیں جو ہر سال مختلف ہوتا ہے۔پچھلے سال ایک سو پندرہ کلو کے حسب سے جانور کی قربانی کی تھی۔اس سال کا ریٹ پتہ نہیں ہے۔
پاکستان میں گدھے کا گوشت
پاکستاان میں گدھے کے گوشت کی قصابوں کی دوکانوں پرفروخت کے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کئی چشم کشاء انکشافات کیے۔انہوں نے بتایا کہ میں پاکستان جاتاہوں تو گوشت نہیں کھاتا ۔اس خدشے کے پیش نظرکہ کہیں میری پلیٹ میں گدھے کا گوشت ہی نہ ہو۔گدھے کے گوشت کی نشانی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوںنے بتایا کہ اس کے گوشت میں چربی نہیں ہوتی۔لیکن اب گدھے تو پرانی بات ہے لاہور کراچی کے ہوٹلوں اورریستورانوں میں بلیوں اورکتوں کا گوشت بھی پکایاجاتا ہے۔میرا ایک دوست اپنے پولیس افسردوست کے ساتھ گجرات میں کھانا کھانے گیا تو وہاں اسنے پائے کی ڈ ش منگوائی ۔اس ے گائے کے پائے کی ہڈی کی شیپ عجیب سی لگی ۔اس نے بیرے کو بلا کرپوچھا کہ یہ کس جانور کا گوشت ہے ۔بیرہ پولیس والے کو دیکھ کر ڈر گیا۔اس نے سچ اگل دیا کہ یہ گدھے کا گوشت ہے۔اس لیے یہ بات صحیح ہے کہ پاکستان میں گدھے کا گوشت فروخت ہوتا ہے اورہوٹلوں میں پکایا جاتا ہے۔
/UFN

 

 

Check Also

نیٹ ڈویلپر کی فوری ضرورت

 Net (MVC) Developers ( 3-7 exp ) Assalamu’alaikum, Dear Candidates, We have an urgent requirement ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: