Home / ادب / مصحف

مصحف

تحریرعمیر احمد
انتخاب راحیلہ ساجد

قسط نمبر 41 ۔“فواد چهوڑو اسے ، حسن نے پوری قوت سے فواد کو

و پیچهے دهکیلا تها- فواد اس حملے کے لیے تیار نہ تها- ایک دم بوکهلا کر وہ پیچهے ہٹا- اس کی گرفت ڈهیلی پڑی ، اور فرشتے بازو چهڑاتی محمل کی طرف بهاگی، جسے آغاجان ابهی تک مار رہے تهے- فواد نے غصے سے حسن کو دیکها- مگر اس سے پہلے کہ اسے کچھ سخت کہتا، فضہ نے حسن کو بازو سے کهینچ کر – ایک طرف کر دیا-
” میری بہن کو چهوڑیں، ہٹیں-” وہ چیختی ہوئی آغاجان کا ہاتھ روکنے لگی، مگر انہوں نے ساتھ ہی ایک زوردار طمانچہ اس کے چہرے پہ مارا- فرشتے تیورا کر ایک طرف کو گری- منہ میز کے کونے سے لگا- ہونٹ کا کنارہ پهٹ گیا- لمحے بهر کو اس کی آنکهوں کے سامنے اندهیرا چهایا تها، اگلے ہی منٹ وہ خود کو سنبهال کر تیزی سے اٹهی-
محمل اپنے بازو چہرے پہ رکهے، روتی ہوئی اپنا کمزور سا دفاع کر رہی تهی- اب کی بار فرشتے نے آغاجان کا ہاتھ نہیں روکا، بلکہ محمل کو پیچهے سے پکڑ کر کهینچ لیا- محمل گٹهری بنی چند قدم پیچهے کهنچتی گئی- اس کا دوپٹہ سر سے اتر کر پیچهے ڈهلک گیا تها- بالوں کی لٹیں جوڑے سے نکل کر چہرے پہ بکهر گئیں-
اس سے پہلے کی آغاجان اپنے اور محمل کے درمیان چند قدم کا فاصلہ عبور کر پاتے، فرشتے انکے بیچ آ کهڑی ہوئی-
” ہاتھ مت لگائے میری بہن کو-” اپنے پیچهے گٹهری بهی محمل کے سامنے اپنے دونوں بازو پهیلائے وہ چیخ پڑی تهی- ” آپ لوگ اس حد تک گر جائیں گے، میں سوچ بهی نہیں سکتی تهی- کیا بگاڑا ہے اس نے آپکا؟”
” سامنے سے ہٹ جاؤ، ورنہ تم آج میرے ہاتهوں ختم ہو جاؤ گی-” وہ غصے سے ایک قدم آگے بڑهے ہی تهے کہ فواد نے ان کا بازو تهام لیا-
” آرام سے آغاجان! آپ کا بی پی شوٹ کر جائے گا- ” ان کو سہارا دے کر وہ نرمی سے بولا تها- محمل ابهی تک گهٹنوں پہ سر رکهے رو رہی تهی، جبکہ فرشتے اس کے آگے اپنے بازو پهیلائے راستہ روکے کهڑی تهی- فواد چاہتا تو اس کو پهر پکڑ لیتا، مگر جانے کیوں وہ آغا جان کو سہارا دیے وہیں کهڑا رہا- اس کی طرف نہیں بڑها-
” میں اب محمل کو ادهر نہیں رہنے دونگی- اٹهو محمل! اپنا سامان پیک کرو، اب تم میرے ساتھ رہو گی- چلو-” اس نے محمل کو اٹهانا چاہا مگر وہ ایسے ہی گری روتی جا رہی تهی-
” آپ کو کیا لگتا ہے، آپ اسے اپنے ساتھ لے گئیں تو ہم خاندان والوں کو کہیں گے کہ محمل کی نام نہاد بہن اسے لے گئی اور بس؟” محمل کو بازو سے پکڑ کر اٹهاتا دیکھ کر ایک ثانیے کو تهما، اس نے قدرے الجھ کر سر اٹهایا اور فواد کو دیکها- چہرے پہ چهایا غصہ آہستہ سے الجهن میں ڈهلا تها- ” کیا مطلب؟”
” مطلب یہ کہ محمل تو وہ لڑکی ہے نا جو ایک رات پہلے بهی گهر سے باہر رہ چکی ہے؟ تو اس کے لیے اگر خاندان والوں کو یہ بتایا جائے کہ یہ نکاح سے پہلے کسی کے ساتھ بهاگ گئی ہے تو وہ فورا” یقین کرلیں گے نا؟”
اس کے چہرے پہ شاطرانہ مسکراہٹ تهی-
” نہیں-” محمل نے تڑپ کر آنسووں سے بهیگا چہرہ اوپر اٹهایا-
” تمہارے نہیں کہنے سے یہ بدنامی ٹل تو نہیں جائے گی ڈئیر کزن! تم اپنی بہن کے ساتھ گئیں تو ہم تمہیں پورے خاندان میں بدنام کر دیں گے- اور پهر یہ تمہیں کتنا عرصہ سنبهالے گی؟ اس کے بعد تم کہاں جاؤ گی؟”
محمل پهٹی پهٹی نگاہوں سے فواد کا چہرہ دیکھ رہی تهی- خود فرشتے بهی سن رہ گئی-
” اگر تم نے اس گهر سے قدم بهی باہر نکالا تو تم بدنام ہو جاؤ گی- پورا خاندان تهوکے گا تم پر کہ ماں کے مرتے ہی کهلی چهوٹ-”
” نہیں، نہیں…… میں نہیں جاؤنگی-” وہ خوف زدہ سے گهٹی گهٹی آواز میں بمشکل بول پائی-
” یعنی تم وسیم کے ساتھ شادی کرنے پہ تیار ہو- ویری گڈ کزن!”
وہ اسی عیاری سے مسکرایا- اسد چچا یقینا” نکاح خواں کو لاتے ہی ہونگے- وسیم کدهر ہے؟ کوئی اسے بهی بلائے-
” ہرگز نہیں-” فرشتے نے تڑپ کر اسے دیکها-
_ فرشتے نے غصے میں تڑپ کر اسے دیکھا ، میں محمل کی شادی تمہارے بھائی سے ہر گز نہیں ہونے دوں گی _ تم لوگ یہ سب صرف اس کی جائیداد ہتھیانے کے لئے کر رہے ہو _میں جانتی ہوں تم لوگ شادی کے بعد اس سے جائیداد اپنے نام لکھواؤ گے اور اسے طلاق دلوا کر گھر سے نکال دو گے _ “ہاں بالکل ہم یہی کریں گے _”وہ بہت سکون سے بولا _ گو کہ یہ بات فرشتے نے خود کہی تھی مگر اسے فواد سے اعتراف کی توقع نہ تھی _وو اپنی جگا ششدر رہ گئی _
“تو تم واقعی _”
ہاں _
ہم اسی لئے تو محمل کی شادی وسیم سے کروانا چاھتے ہیں _”
فواد، آغا جان نے تنبہی نظروں سے اسے ٹوکنا چاہا _
“مجھے بات کرنے دیں آغا جان _” ہاں تو محمل ! ہم اسی لئے تمہاری شادی وسیم سے کر رہے ہیں_تمھیں منظور ہے نا ؟ کیوں کہ فرشتے کے ساتھ تم جا نہیں سکتی _اب تمھیں شادی تو کرنا ہی ہو گی _
نہیں نہیں “وہ بے اختیار وحشت سے چلائی _”میں نہیں کروں گی یہ شادی _”
“محمل !تمہارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے _تمھیں یہ شادی کرنا پڑے گی _” وہ بغور اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہتا آہستہ آہستہ اسے چاروں طرف سے گھیر رہا تھا _
“کاش میں تمھیں بد دعا دے سکتی آغا فواد !مگر میں عاملین قرآن میں سے ہوں ، ایسا نہیں کروں گی ،کیا تمھیں الله سے ڈر نہیں لگتا ؟” فرشتے نے تنفر سے اسے دیکھا _
“میں نے کچھ غلط تھوڑی کہا ہے _”
“تم غلط کر رہے ہو ایک یتیم لڑکی کے ساتھ _”
“یہ تو ہم کافی سالوں سے کر رہے ہیں _یقین کریں ہم پہ کبھی کوئی طوفان نوح نہیں آیا _”
“تمھیں اس طوفان کی خبر تب ہو گی جب وو تمہارے سر پہ پہنچ چکا ہو گا _الله سے ڈرو _تمھیں اس یتیم پر ظلم کر کے کیا ملے گا ؟”
تو اپ اس ظلم کو اپنے حق میں کیوں نہیں بدل لیتیں؟”
“کیا مطلب ؟ وہ چونکی _
وہ جواب دیے بنا اس پر ایک نظر ڈالتا محمل کی طرف متوجہ ہوا جو زمین پر بیٹھی سر اٹھا ے اسے ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی _
ایک صورت میں، میں تمہاری شادی وسیم کے ساتھ روک دو ں گا ،اور چاہو تو تم اپنی بہن کے ساتھ چلی جاؤ _ہم خاندان والوں کو کچھ نہیں بتائیں گے_ پھر فرشتے جہاں چا ہے تمہاری شادی کروا دے _ہم کیا پورا خاندان شریک ہو گا _کیا تم وہ صورت اختیار کرنا چا ہو گی ؟”
محمل کے چہرے پر بے یقینی اتر آئی _وہ بنا پلک جھپکے فواد کا چہرہ دیکھنے لگی _
“سدرہ !میری سائیڈ ٹیبل پر جو کاغذ پڑے ہیں وہ لے کے آؤ اور ساتھ پین بھی _” اس نے مہرین اور ندا کے ساتھ دیوار سے لگی خاموش کھڑی سدرہ کو اشارہ کیا جو اس کی بات سن کر سر ہلاتے ہوے سیڑ ھیو ں کی طرف لپکی _
تم کہنا کیا چاھتے ہو ؟ خطرے کا الارم دور کہیں بجتا فرشتے کو سنائی دے رہا تھا _
یہی کہ محمل کی شادی رک سکتی ہے _وہ تمہارے ساتھ جا سکتی ہے اگر…….”اس نے سیڑھیون سے اترتی سدرہ کو دیکھا جو بھاگتی ہوئی آئی اور اسے کاغذ قلم پکڑا دیا _
“اگر تم دونو ں یہ پیپر سائن کر دو _”
“یہ کیا ہے ؟ فرشتے کا لہجہ محتاط تھا _
“مجھے معلوم تھا کے اپ نکاح کے وقت ڈرامہ کرنے ضرور آئيں گی اسی لئے ہم نے پہلے سے انتظام کر رکھا تھا _آپ کو کیا لگتا ہے ہمیں علم نہیں تھا کے اپ محمل سے مل کے اسے کیا پٹیاں پڑھاتی ہیں “ہمیں سب پتا تھا محترمہ !یہ بھی کے محمل کب کب آپ کے کزن سے ملتی رہی ہے مگر اس وقت کے لئے ہم نے آنکھ بند رکھی _”
“آپ کی کیا شرط ہے وہ بات کریں _”وہ سرد لہجھے میں بولی _
یہ فرشتے ابراہیم اور محمل ابراہیم کا اعلان دستبرداری ہے _اس گھر ‘ فیکٹری اور آغا ابراہیم کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد سے یہ دونوں بہنیں دستبرداری کا علان کرتی ہیں _اور ہر چیز ہمارے حوالے کرتی ہیں _یہ کبھی بھی ہم سے کسی بھی موروثی ملکیت سے حصّہ مانگنے نہیں آئيں گی اور آپ جانتی ہیں بدلے میں ہم محمل کی شادی وسیم سے نہیں کریں گے _آف کورس !یہ آخری بات اس پیپر میں نہیں لکھی گئی _”
فرشتے کے چہرے پر پہلے الجھن ابھری پھر حیرت اور پھر وا ضح بے یقینی _
“تم……ہمیں” ہمارے حق ‘ سے ہمارے گھر سے دستبردار کرنا چاھتے ہو؟”
بالکل سہی ”
“تم ایسا کیسے کر سکتے ہو آغا فواد !اس کی بے یقینی اور تحیر غصّے میں بدل گیا _
“تم ہمیں ہمارے گھر سے بے دخل کیسے کر سکتے ہو ؟ یہ ہمارا گھر ہے _ہمارے باپ کا گھر ہے _اس پے ہمارا حق ہے_ہمیں ضرورت ہے پیسوں کی ‘محمل کی پڑھائی ہے اور پھر اس کی شادی کے لئے -ہمیں ان سب کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے_
“یہ ہمارا درد سر نہیں ہے _تم یہ سائن کر دو تو محمل کی جان وسیم سے چھوٹ جائے گی _
“مگر ہم تمھیں اپنا حق کیوں دیں _”
“کیوں کہ ان سب پہ میرے شوہر اور بیٹوں کا حق ہے _”
تایی مہتاب چمک کر کہتی آگے بڑھیں _ابراہیم کی وفات کے وقت یہ بزنس دیوالیہ ہو چکا تھا میرا شوہر دن رات محنت نہ کرتا تو یہ بزنس کبھی بھی اسٹیبلش نہیں ہو سکتا تھا _”
“اگر اتنے ہی محنتی تھے اپ کے شوہر اور بیٹے تو میرے ابّا کی ڈیتھ کے وقت بے روزگار کیوں پھر رہے تھے ؟اور تم ؟”وہ فواد کی طرف پلٹی “اور وارث تو الله نے بنا ے ہیں ہم کیسے نہ اپنا حق لیں _
“فرشتے بی بی یہ پراپرٹی تو آپ کو چھوڑنا ہی پڑے گی “ابھی کچھ دیر میں مہمانوں کی آمد شروع ہو جائے گی شادی والا گھر ہے ذرا سی بات کا بتنگڑ بن جائے گا اور بد نامی کس کی ہو گی ؟محمل ابراہیم کی ” اول تو اس کو وسیم سے شادی کرنا ہی پڑے گی اور اگر آپ یوں ہی اڑی رہیں تو ٹھیک ہے ہم خاندان میں کہہ دیں گے کہ محمل کسی کے ساتھ بھاگ گئی _کس کا خاندان چھوٹے گا کس کا میکہ بد نامی کے با عث چھوٹے گا اپ خود فیصلہ کر سکتی ہیں ؟_
وہ کہتے کہتے ذرا دیر کو رکا _وو تاسف سے اسے دیکھ رہی تھی _
“آغا فواد! تمھیں الله سے ڈر نہیں لگتا ؟”
وو ہولے سے مسکرا دیا ،ہم کوئی غلط بات تھوڑی کر رہے ہیں ؟اپنا حق ہی مانگ رہے ہیں _خیر دوسرا آپشن یہ ہے کے اپ اور محمل اس پر دستخط کریں اور اپنے حصّے سے دستبردار ہو جائیں ہم با عزت طریقے سے شادی کینسل کر ديں گے ‘آپ محمل کو اپنے ساتھ لے جایے گا ‘آپ جس سے چاہئیں، جب چاہئیں محمل کا نکاح کروا دیں ہم بھرپور شرکت کریں گے یہ گھر محمل کا میکا رہے گا وہ جب چا ہے ادھر ا سکتی ہے پر اس کی ملکیت میں اپ دونوں کا کوئی حصّہ نہیں ہو گا ” لیجئے ! اس نے کاغذ قلم اس کے سامنے کیے _کر دیجئے سائن _”
” مگر فواد ……..” آغا جان نے کچھ کہنا چاہا مگر تا ئی مہتاب نے ان کا ہاتھ تھام لیا _اسے بات کرنے دییں ‘وہ ٹھیک کہہ رہا ہے”
ہونہہ”……فرشتے نے سر جھٹکا _”آپ نے سوچ کیسے لیا کہ میں آپ کی اس بلیک میلنگ میں آ جاؤں گی ؟ بلکہ آپ کو تو …….”
اس کی بات ابھی ادھوری تھی کے اسے اْپنے دائیں ہاتھ پہ دباؤ محسوس ہوا _اس نے چونک کر دیکھا _محمل اس کا ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہو رہی تھی _
اس کا کام دار دوپٹہ سر سے ڈھلک گیا تھا _بکھری بھوری لٹیں گالوں کو چھو رہی تھی _آنسوؤں نے کاجل دھو ڈالا تھا _وہ بہ دقت فرشتے کا سہارا لے کے کھڑی ہوئی تھی ‘اس کے انداز میں کچھ تھا اس کا ماتھا ٹھنکا اور اس سے پہلے کے فرشتے اسے روک پاتی اس نے جهپٹ کر فواد کے ہاتھ سے کاغذ قلم چھینا_
“کدھر کرنے ہیں سائن ؟ بتاؤ مجھے !وہ ہذیانی کیفیت میں چلائی تھی ” فواد ذرا سا مسکرایا اور اپنی انگلی کاغذ پہ ایک جگہ رکھی _
نہیں محمل !فرشتے کو جھٹکا لگا تھا “ہمارے پاس کئی راستے ہیں “ہمیئیں ان کی بلیک میلنگ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے _
“مگر مجھے ہے فرشتے !میں اب تنگ آ چکی ہوں _نہیں چاہیئے مجھے کوئی جائیداد ‘کوئی مال و دولت _مجھے کچھ بھی نہیں چاہیئے _لے لیں ‘سب لے لیں _”وہ دھڑا دھڑ سائن کر رہی تھی _آنسو اس کی آنکھوں سے برابر گر رہے تھے _
فرشتے اسے ساکت سی دیکھے گئی _اس نے تمام دستخط کر کے کاغذ اور قلم فواد کی طرف اچھال دئیے _
لے لو سب کچھ _تم لوگو کو الله سے ڈر نہیں لگتا _میں اب تم لوگوں سے اپنا کوئی حق نہیں مانگوں گی _چھوڑتی ہوں میں اپنے سارے حقوق _ وہ کہتی کہتی نڈھال سی صوفے پی گر گئی اور گہری سانسیں لینے لگی _
وہ واقعی تھک چکی تھی ٹوٹ چکی تھی _
فواد نے کاغذ سیدها کر کے دیکھا ‘پھر فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ ارد گرد خاموش اور بے یقین بیٹھے حاضرین پر نگاہ دوڑا ی’پھر فرشتے کی طرف پلٹا_
“محمل نے دستخط کر دے ہیں _اب آپ بھی کر دیں “_
اس نے کاغذ اس کی طرف بھڑھایا مگر فرشتے نے اسے نہیں تھاما_ وہ ابھی تک سکتے کے عالم محمل کو دیکھ رہی تھی _
“دستخط کرو بی بی اور لے جاؤ اسے _تائی مہتاب نے اگے بڑھ کے اس کا شانہ ہلایا تو وہ چونکی اور ناگواری سے ان کا ہاتھ پیچھے کیا اور فواد کے بڑھے ہاتھ کو دیکھا _
نہیں …. تم محمل کو نفسیاتی طور پر گھیر کر بے و قوف بنا سکتے ہو ‘یہ چھوٹی ہے کم عقل ہے مگر فرشتے ایسی نہیں ہے _میں تمہاری بلیک میلنگ میں نہیں آ ؤں گی _میں ہر گز سائن نہیں کروں گی اور میں کیوں کروں سائن؟مجھے ضرورت ہے اپنے حصّے کی _ مجھے پی ایچ ڈی کرنے باہر جانا ہے میں _____
اس کی بات ادھوری رہ گئی _فواد نے کاغذ قلم صوفے پہ پھینکا اور محمل کو گردن سے دپوچ کر اٹھایا اور اپنے سامنے ڈھال کی طرح رکھتے ہوے جانے کہاں سے پستول نکال کر اس کی گردن پہ رکھا _
” اب بھی نہیں کرو گی تم سائن ؟”وہ غرایا _
فرشتے سناٹے میں ا گئی _
فواد نے بازو کے حلقے میں اس کی گردن دبوچ رکھی تھی _وہ شاک کے با عث بول نہیں پا رہی تھی _سخت گرفت کے باعث اس کی آنکھیں ابل کر باہر انے لگیں _بے اختیار وہ کھانسی _
“اپنی بہن سے کہو کہ شرافت سے سائن کر دے ورنہ میں گولی چلا دوں گا اور تم جانتی ہو کہ میں قانون کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہوں _یہی کہا تھا نا تم نے میرے بارے میں ؟ اس کے کان کے قریب منہ لے جا کے بظاہر اس نے سرگوشی میں کہا مگر سب کے کانوں تک اس کی سرگوشی پہنچ گئی _
سب کو گویا سانپ سونگھ گیا _حسن نے اگے بڑھنا چاہا مگر فضہ چچی نے اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا _
“کیا کر رہے ہو ‘اگر اس نے گولی چلا دی تو وہ مر جائے گی _کیا تم یہی چاھتے ہو ؟انهوں نے بیٹے کو گھرکا تو وہ بے بسی سے کھڑا رہ گیا _
“بولو فرشتے بی بی ‘تم سائن کرو گی یا نہیں ؟اس کا لہجہ اٹل تھا _
“میں تین تک گنوں گا فرشتے !اگر میں نے گولی چلا دی تو تمہاری بہن کبھی واپس نہیں آئے گی _”
فرشتے پلیز ……! محمل بلک پڑی’پلیز میری خاطر فرشتے !آج آپ اپنا حق چھوڑ دیں۔
میں وعدہ کرتی ہوں اگر کبھی ضرورت پڑی تو میں آپ کے لئے اپنا حق چھوڑ دوں گی آئی پرومس _
“نہیں !میں سائن نہیں کروں گی _
ٹھیک ہے میں تین تک گنوں گا “_
فرشتے نے دیکھا ‘اس کی انگلی ٹريگر پہ مضبوط ہوئی اور وہ واقعی گولی چلانے والا تھا _

جاری ہے………

Check Also

مرقد پہ تیری یاد نے

! (بین السطور) شہباز رشید بہورو مرقد کے پاس سے تیری گذرا تو آنسوں نکل ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: