Breaking News
Home / کالم / میگی پر ہنگامہ کیوں؟

میگی پر ہنگامہ کیوں؟

نہال صغیر۔ممبئی،موبائل:9987309013

حالیہ دنوں میں نیسلے کی میگی پر کافی گرما گرم بحث چل رہی ہے ۔احتجاج اور اس کے خلاف ایف آئی آر تک بھی درج ہوئی ہے ۔نیسلے کمپنی شاید دنیا کی سب سے بڑی تیار اور محفوظ غذا پیکٹ بند فروخت کرنے والی سب سے بڑی کمپنی ہے ۔صارفیت کے اس دور میں انسان آرام طلبی اور ذائقہ کے پیچھے کچھ اس طرح اندھی ریس کا گھوڑا بنا ہوا ہے کہ وہ یہ دیکھ ہی نہیں رہا ہے کہ اس سے اس کی صحت اور اخلاقیات کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے ۔اب میگی کے سی ای او نے اپنے اس متنازعہ پروڈکٹ کو واپس لینے کا وعدہ کیا ہے ۔جبکہ کئی ریاستوں نے اس پر پابندی عائد کردی ہے ۔رپورٹ کے مطابق اس میں سیسہ اور مونو سوڈیم گلوٹا میٹ کی مقدار کافی زیادہ ہے جو صحت کے لئے مضر رساں ہے ۔ملک عزیز کے عوام کچھ ایسے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں کہ وہ پچھلی باتیں بہت جلد بھول جاتے ہیں ابھی آٹھ دس سال قبل ہیCenter for Science and Environment  کی خاتون سائنسداں سنیتا نرائن نے دنیاکی سب سے بڑی مشروبات کی کمپنی کوک اور پیپسی کی مشروبات کو مضر صحت بتاتے ہوئے اسے صحت کے لئے نقصان دہ بتایا تھا ۔انہوں نے اور ان کی ٹیم نے اس میں ضرورت سے زیادہ جراثیم کش دوائیوں کی آمیزش کو صحت کے لئے خطرناک بتاتے ہوئے اس پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا ۔انہوں نے تجربہ گاہوں میں پایا کہ ان مشروبات میں جو کیڑے مار دوائیوں کا استعمال ہوا ہے اس کی مقدار اکیس، سینتیس ،بیالیس اور ستاسی گنا تک زیادہ ہے ۔اس میں ایسا بھی کیمیکل ہے جس پر امریکہ میں پابندی عائد ہے ۔لیکن ہماری حکومتو ںکو عوام کی صحت سے زیادہ بین الاقوامی اداروں کی فکر رہتی ہے سو وہ ہزار بہانوں اور ہیلوں سے ان کا دفاع کرتی ہے ۔میڈیا میں کچھ شور ہوا لیکن جلد ہی سب کچھ نارمل ہو گیا اور آج بھی یہ دونوں کمپنیاں ملک کا پانی ملک کے ہی لوگوں کو بیچ کر اپنے وارے نیارے کررہی ہیں ۔بعد میں دونوں مشروبات بنانے والی کمپنیوں نے ایک ایڈ ایسا بھی بنوایا تھا جس میں وہ دونوں مشہور ایکٹر یہ کہتے ہیں کہ اس میں مضر صحت جیسی کوئی چیز نہیں دیکھئے ہم بھی پی رہے ہیں ۔مجھے یاد تو نہیں کہ کوک اور پیپسی کے تعلق سے کوئی بات پارلیمنٹ میں اٹھی ہو ۔ہو سکتا ہے کسی رکن نے معاملہ اٹھایا ہو ۔اس بار بھی میگی معاملے میں پارلیمنٹ سے کوئی آواز نہیں اٹھی ۔کہنے کو تو حکومت ملک کے عوام کی صحت کے لئے بہت فکر مندی دکھاتی ہے لیکن در حقیقت ایسا ہے نہیں ۔کیوں کہ یہاں کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں عوامی صحت سے کھلواڑ کیا جاتا ہے لیکن مجال ہے کہ حکومت کا شعبہ صحت عامہ کبھی کوئی توجہ دے ۔پورا ملک غیر ملکی کمپنیوں کے جال میں پھنس چکا ہے ۔دیسی اور قدرتی پیداوار گھٹ رہے ہیں انہیں اب کوئی پوچھتا نہیں ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کے پاس اپنے پروڈکٹ کو جو عوام کے مفاد میں ان کی صحت کے لئے بہتر بھی ہے بیچنے کے لئےمہنگا اشتہاری نیٹ ورک نہیں ہے ۔آج کوک اور پیپسی کا دیوانہ بچہ بچہ ہے ۔لیکن آپ کو کوئی بھی ہمدر کا شربت روح افزا اور ڈابر کے شربت اعظم کا چاہنے والا ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گا ۔وجہ اس کی یہی ہے کہ وہ کہاں سے کروڑوں روپئے میں کسی ایکٹر کو خرید کر اپنے پروڈکٹ کا اشتہار بنوائیں گے اور پھر اسے بار بار ٹی وی پر دکھانے کے لئے بھی ہزاروں کروڑ روپئے کہاں سے آئے گا اور اگر انہوں نے بھی ایسا ہی کیا تو پھر پروڈکت کی قیمت کئی گنا زیادہ ہوجائے گی۔ان شربتوں اور دیگر دیسی اور قدرتی مشروبات کی اگر مانگ بھی ہوتی ہے تو رمضان میں ۔اس کے علاوہ انہیں کوئی پوچھتا نہیں ۔اب اگر آپ آم جوس پئیں گے تو آپ کا مذاق اڑایا جائے گا کہ یہ لوگ یہ نسوانی مشروب پی رہا ہے ۔لیکن کوک اور پیپسی ترقی اور جدیدیت کی نشانی مانی جارہی ہے وہ آج کے نوجوانوں کے اسٹیٹس کا سوال بن چکا ہے۔میگی ہی کی طرح کوک اور پیپسی کے خلاف اٹھنے والا طوفان دب گیا دبا دیا گیا اور آج اس کے بارے میں کوئی جانتا نہیں کہ اس میں صحت کو نقصان پہنچانے والے کیسے کیسے مادے اور کیمیکل ملائے جاتے ہیں۔ٹھیک اسی طرح یہ میگی کا طوفان بھی دب جائے دبا دیا جائے گا ۔کل کسی کو یاد بھی نہیں رہے گا کہ میگی کے خلاف کچھ باتیں سامنے آئی تھیں ۔دیکھ لیجئے اتنے سارے طوفان کے باوجود کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا یہ پروڈکٹ پوری طرح محفوظ ہے۔یہ سب پیسے کے زور پر ایڈ کا کمال ہے کہ زہر بھی تریاق سمجھ کر استعمال کرایا جارہا ہے۔

 دنیا میں سائنسی انقلاب اسکے صنعتی انقلاب کے بعد اطلاعاتی انقلاب نے جہاں ہماری زندگیوں کو سہولیات سے بھر دیا ہے وہیںہمیں اتنا نکما اور لاپرواہ بنادیا ہے کہ ہم سب کچھ شارٹ کٹ چاہتے ہیں ۔کھانے کے معاملے میں شہروں میں اب زیادہ تر ڈبہ بند کھانوں کا رواج بڑھ رہا ہے ۔میگی بھی اسی میں سے ایک ہے ۔بچے تو بچے اب اس کے شوقین میں بڑے بھی شامل ہو گئے ہیں ۔مارکیٹ میں ایسے نہ جانے کتنے پروڈکٹ ہیں جن کے بارے میں گاہے گاہے خبریں آتی رہتی ہیں۔کسی میں سور کی چربی کا استعمال ہو تا ہے تو کسی میں بچھڑے کے گوشت کا ۔لیکن جس ہندوستان میں ایک معمولی سے افواہ نے انگریزوں کے خلاف ۱۸۵۷ میں بغاوت پھیلادی تھی ۔آج بڑی سی بڑی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔کیوں کہ آج تعلیم کا رجحان بڑھا ہے ۔لوگ تعلیم یافتہ ہو گئے ہیں اب وہ اس بات پر دھیان نہیں دیتے کہ ہسپتالوں میں آخر کیوں کینسر کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔بڑے تو بڑے چھوٹے چھوٹے بچوں کا گردہ کیوں کام کرنا بند کردیتا ہے ۔اس کے پیچھے کیا عوامل ہیں ۔اگر کچھ لوگ اس طرف متوجہ ہوتے ہیں تو ان کے خلاف ان کی آواز کو بند کرنے کے لئے اتنی بڑی قوت ہے کہ وہ آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوتی ہے۔دیکھ لیجئے گا کچھ دن کی بات ہے ۔میگی پھر بیکے گی اور لوگ اسے کھائیں گے ۔کمپنی کسی سلمان خان اور کسی عامر خان کو کروڑوں روپے دے کر یہ کہلوائے گی کہ یہ بالکل محفوظ ہے میں بھی تو کھا رہا ہوں ۔عوام اپنے کسی اور مسائل میں گم ہو جائیں گے ۔اور نہیں تو برسوں کا آزمودہ نسخہ فساد ی ااور کوئی مذہبی تنازعہ کھڑا کردیا جائے گا ۔ہندواور مسلمان اسی میں الجھ کر سب کچھ بھول جائیں گے ۔آخر وہ کوک اور پیپسی میں جراثیم کش دوائیوں کی زیادہ مقدار والی بات کو بھی تو بھول گئے ۔آخر ان پروڈکٹ اور ان کے فرعون مالکوں کا اربوں ڈالر کا کاروبار جو لوگ چلاتے ہیں ۔اس میں میڈیا ،اور مشہور ہستیاں شامل ہیں ۔پھر بھاری رشوتوں کے بعد حکومت کا بھی نمبر آتا ہے ۔کہ وہی اس کو اس ملک میں آزادانہ فروخت کرنے یا بنانے کے لئے لائسنس دینے کے مجاز ہیں ۔میڈیا اگر آج شور مچا ررہا ہے تو کل اس کے مالکان کو ہزاروں کروڑ کا پیکج ملک جائے گا وہ خاموش ہو جائیں گے ۔میرے خیال میں تو میڈیا آج بھی خاموش ہے اور اس کی وجہ ہے کہ شاید ہی کوئی ٹی وی چینل ہو اور اس کا شاید ہی کوئی پروگرام ہو جس میں میگی کا اشتہار نہ ہو ۔ایسی صورت میں تو ان پر واجب ہے کہ وہ اپنے مالکین کا حق نمک ادا کریں ۔عوام کیا ہے وہ تو کیڑے مکوڑے ہیں ۔ان کی یا ان کی زندگی کی کیا اہمیت ہے ۔کیوں لوگ اس کی فکر کریں ۔وہ تو پیدا ہی ہوئے ہیں سرمایہ داروں کی غلامی کے لئے ۔اور تڑپ تڑپ کر مرنے کے لئے ۔سب کو فائیو اسٹار اور جنک فوڈ کلچر نے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے ۔اور اس کا انجام جلد یا دیر تو بھگتنا ہی ہوگا ۔سو بھگتنے کے لئے تیار رہئے ۔

نہال صغیر۔ممبئی،موبائل:9987309013

Check Also

ایک معاشرتی عنصر، میرے پاس تم ہو!

(شیخ خالد زاہد) یوں تو بارہا بھارتی میڈیا کی پاکستان میں روک تھام کےلئے اقدامات ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: