Home / کالم / سوشل میڈیا اور غلط معلومات کا فروغ

سوشل میڈیا اور غلط معلومات کا فروغ

افکار تازہ
arif عارف محمود کسانہ
یہ دور بالا شبہ میڈیا کا دور ہے اور آج کل پوری دنیا میں کوئی بھی میڈیا سے لاتعلق نہیں رہ سکتا ۔ اخبارات، ٹیلی وژن، آن لائن ویب سائیٹس اور دوسرے ذرائع سے خبریں اورمعلومات اتنی زیادہ موجود ہیں کہ نہ تو ہم سب سے تک ر سائی حاصل کرسکتے ہیں اور ہی کسی کے پاس اتنا وقت ہے۔ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ میڈیا کی ہی بدولت عام عوام کو ہر شعبہ زندگی کے بارے میں بہت زیادہ معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ دنیا کے کسی خطہ میں کچھ بھی ہو وہ چشم زدن میں روئے زمین کا ہر شخص اس سے آگاہ ہورہاہے جبکہ دور ماضی میں اس کے لیے بہت وقت درکار ہوتا تھا۔ میڈیا ہی کہ بدولت عوام الناس کو سیاست، صحت، تعلیم، مذہب، کھیل، سماجی امور غرض ہر ایک شعبہ کے بارے میںنت نئی معلومات باآسانی میسر ہیں ۔ یہ میڈیا کا بہت ہی مثبت اور اہم کردار ہے لیکن ساتھ ہی تصویرکا دوسرا رخ بھی ہے کہ بعض اوقات میڈیا اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتا اور غلط معلومات کو بھی پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔مستند اخبارات اور ٹی وی چینل اگرچہ بہت محتاط ہوتے ہیںلیکن سب ایسے نہیں ہوتے۔روایتی میڈیا میں ایسے لوگ ضرور ہوتے ہیں جن کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خبروں اور معلومات کی تصدیق کے بعد ہی اسے جاری کریں لیکن سوشل میڈیا بے لگام ہوتا ہے کیونکہ پرنٹ میڈیا میں ایڈیٹر اور اس کا عملہ نگرانی کے فرائض سرانجام دیتا ہے لیکن سوشل میڈیا میں ایسا کوئی انتظام نہیں۔ سوشل میڈیا سے ہر طرح کی معلومات، خبریں اور مواد بغیر کسی تصدیق کے ایک سیلاب کی طرح پھیلتا جاتاہے اور کوئی تصدیق و تحقیق کی زحمت گوارا ہی نہیں کرتا جس سے وہ غلط اطلاعات وائرس کی طرح پھیل جاتی ہیں۔
انتڑ نیٹ کی سہولت عام ہونے اور سمارٹ فون کی بدولت لوگوں کا انحصار اب سوشل میڈیا کی طرف زیادہ ہوگیا ہے اور سمارٹ فون نے لوگوں کے ہاتھ سے بھی کتاب چھڑا دہی ہے اور اب ریل گاڑیوں، بسوں اور انتظار گاہوں میں بیٹھے لوگ انٹر نیٹ استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے کتاب بینی کا شوق بہت کم ہوا ہے۔ سمارٹ فون میں چونکہ ہر طرح کی دلچسپیاں اور سہولتیں موجود ہوتی ہیں اس لیے یہ دور جدید میں ہر شخص کی ضرورت بن چکا ہے۔ گھر میں کھانا نہ بھی پکا ہو تو بچے صبر کر لیں گے لیکن اگر WiFiمیں خلل ہے تو وہ آسمان سر پر اٹھا لیں گے۔ اسی سمارٹ فون کی بدولت معلومات کی فراہمی اور سوشل میڈیا کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔ اس کے جہاں مثبت پہلو ہیں وہاں اس کے منفی پہلووں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دوسروں سے ملنے والی معلومات کو آگے پہنچانے اور مزید پھیلانے کے لیے صرف ایک بٹن کو دبانا پڑتا ہے۔ معلومات درست ہوں یا غلط کوئی اس جھنجٹ میں پڑتا ہی نہیں بطور خاص جب مذہبی قسم کی معلومات ہوں جن میں بہت سے ثواب کی نوید یا پھر شیطان کے روکنے کا ذکر کیا گیا ہو۔ اس صورت حال میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بغیر تحقیق اور تصدیق کے بس شئیر کیے جارہے ہیں۔ مذہب، صحت عامہ، سماجی شعبہ اور دیگر امور کے بارے بہت سی غلط معلومات باقاعدگی پھیلائی جارہی ہیں اور قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی اسی رو میں بہے چلے جارہے ہیں حالانکہ ہمارے رسول اکرم ۖ نے بغیر تصدیق کے بات اگے پھیلانے سے منع کیا ہے اور اسے جھوٹ قرار دیا ہے۔اس صورت حال کا تدارک کرنے کو کوشش ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
چند دن قبل سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک پیغام گردش میںتھا کہ رات ساڑھے بارہ بجے کے بعد موبائل فون بند کردیں کیونکہ خلا سے بہت خطرناک قسم کی تابکاری اور دوسری لہریں زمین پر آرہی ہیں جوموبائل فون کے ذریعہ انسان کو نقصان پہنچائیں گی۔ پیغام پڑھتے ہی اس کی تصدیق کرنے کی کوشش کی تو یہ غلط ثابت ہوا ۔ اسی طرح کچھ عرصہ قبل ایک پتھر کی تصویرگردش میں تھی جو کہ ہوا میں معلق تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ جب رسول پاکۖ معراج پر جارہے تھے تو انہوں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا تھا اورتب سے وہ پتھر اسی جگہ زمین سے اوپر ہوامیں معلق تھاجو کہ فوٹو شاپ کی کارستانی تھی لیکن اسے غلط طور پر رسول پاکۖ سیمنسوب کیا جارہا تھا۔اسی نوعیت کی اور بہت سی معلومات اور اطلاعات آئے روز گردش میںرہتی ہیں جنہیں لوگ بغیر تصدیق کے Shareکرتے چلے جاتے ہیں۔ کہیں معجزانہ طور پر پتھر ہوا میں معلق ، کہیں کوئی اور خود ساختہ کرامت ، کہیں ضعیف اور وضعی روایات کو پیش کیا جاتا ہے اور کہیں ناقص معلومات اور فضولیات کو پھیلایا جارہا ہوتا ہے۔ ایک اور انتہائی خطرناک عمل صحت کے بارے میں غلط معلومات پھیلانا ہے جہاں ذیابیطس، بلڈ پریشر،سرطان اور بہت سی دوسری بیماریوں کا مستقل علاج تجویز کیا ہوتا ہے ۔ یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ دنیا میں انبیماریوں کا کوئی مستقل علاج نہیں اور اگر کسی کی دی گئی غلط معلومات کی بنا پر کوئی مریض عمل کرے اپنی صحت اور خرا ب کربیٹھا تو کون ذمہ دار ہے۔ خدارا لوگوں کی صحت سے کھیلنا بند کردیں۔
ذیابیطس کے علاج کے لیے دیسی انڈوں کو نمک میں دبا کر کھانے کا مشورہ بھی سوشل میڈیا میں گردش میں ہے۔بہت سے لوگوں نے ان کی معلومات کو دوسروں سے شئیر بھی کیا۔ دوسروں کی صحت تباہ کرنے والی غلط معلومات کو ثواب سمجھ کر آگیپھیلایا جا رہے۔ معمولی سائنس کا طالب علم بھی یہ جانتا ہے کہ ذیابیطس کاتعلق جسم میں شکر کے میٹابولزم سے ہے جس کے لیے انسولین یا شوگر کی ادویات سے ہی علاج ممکن ہے اور کوئی ایسی دوا موجود نہیں کہ اسے کچھ عرصہ کھالیں تو ذیابیطس ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گی۔ انڈے اور نمک کھانے سے تو شوگر کا مرض اور بڑھ جائے گا کیونکہ ذیابیطس کے اکثر مریضوں کو بلڈ پریشر اور خون میں کلیسٹرول کی زیادتی بھی ہوجاتی ہے جبکہ نمک اور انڈے ان دونوں میں اورزیادتی کا باعث بنیں گے۔ برائے مہربانی معالج مت بنیں ، یہ جن کا کام ہی انہی کے سپر درہنے دیں۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے اس حقیقت کو بخوبی جانے ہیں۔ آج کے دور میں معلومات بہت جلدی کے ساتھ آگے پھیلتی ہیں اس لیے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ بغیر اطمینان اور تصدیق کے کوئی بھی سوشل میڈیا پر دی گئی معلومات کو شئیر یا Like نہ کریں بلکہ اس طرح کی معلومات اور پیغام دینے والے کو اپنی رائے سے آگاہ کریں کہ ایسی چیزیں آگے پھیلانے سے گر یز اور نظر انداز کردیں۔ اگر سوشل میڈیا میں Shareاور Like کے ساتھ Dislike کی بھی سہولت تو بہتر ہے تاکہ فضول اور غلط معلومات والی پوسٹ کو Dislikeکیا جاسکے۔ اسی طرح لوگ Like کا استعمال بھی غیر ضروری کرتے ہیں۔ کوئی بیمار ہے، یا پریشان ہے یہاں تک کہ کسی کا انتقال بھی جائے تو لوگ Likeکررہے ہوتے ہیں ۔ جو لوگ محض یہ بتانا چاہیں کہ انہوں نے یہ پوسٹ پڑھ لی ہے ان کے لیے seen کا آپشن ہونا چاہیے جب تک ایسا آپشن نہیں تو کچھ نہ کرنا بہتر ہے۔ موجودہ صورت میں ہر ایک اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے صرف مصدقہ اور مستند معلومات ہی آگے دوسروں کو بھیجیں۔ ضروری نہیں کہ ہر پوسٹ کوShare جائے بلکہ انہیں نظر انداز کردیں۔ یہ زیادہ بہتر ہے۔

Check Also

جرم اور مجرم، حیثیت سے بنتے ہیں!

(شیخ خالد زاہد) حضرت علی ؓ کا فرمان ہے کہ کفر کا نظام توقائم رہ ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: