Home / ادب / قسط نمبر 36

قسط نمبر 36

تحریر عمیر احمدانتخاب

انتخاب راحیلہ ساجد
اس گول میز کے گرد وہ دونوں اپنی نشستوں پہ بور سی بیٹهی تهيں –

باقی کرسیوں پہ آنٹی ٹائپ چند خواتین جلوہ افروز تهیں- محمل بار بار کلائی پہ بندهی گهڑی کو دیکهتی- وہ واقعی بہت بور ہو رہی تهی-
فرشتے ہی تهی جو اپنے ساتھ بیٹهی نسیم آنٹی سے کوئی نہ کوئی بات کر لیتی، ورنہ وہ مسلسل جمائی روکتی بےزاری سے ادهر ادهر دیکھ رہی تهی-
” اس ملک میں عورتوں کو وہ حقوق حاصل نہیں جو مردوں کو ہیں-” وہ نہ چاہتے ہوئے بهی مسز رضی کی طرف متوجہ ہو گئی جو ناک چڑهائے اپنا انگوٹهیوں سے مزین ہاتھ ہلا کر کہہ رہی تهیں-
” بهئی اگر شوہر بیوی کو مار سکتا ہے تو بیوی کق بهی شوہر کو مارنے کا حق ہونا چاہیئے-”
"بالکل-”
” آف کورس ہونا چاہیئے-”
” بہت سی آوازیں ابهریں-
” اور مجهے تو ان مردوں کی سمجھ نہیں آتی جو کہتے ہیں کہ مردوں کو عورتوں پہ برتری ہے، واٹ ربش ایویں ہی فضیلت ہے؟ عورتیں زیادہ کام کرتی ہیں، مگر یہ معاشرہ- ہونہہ-”
” اور یہ اس صدی کی سب سے بے وقوفانہ بات ہے اگر کوئی کہے کہ مرد عورت سے برتر ہے، میں تو نہیں مانتی ایسی بےکار بات کو-”
” بالکل!” وہ سب غرور و تفاخر میں ڈوبی عورتیں ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملا رہی تهیں- محمل کا پرس میز پہ رکها تها- اس نے اس کو اٹها کر گود میں رکها، پهر اندر سے اپنا سفید کور والا قرآن نکالا جو وہ ہمیشہ ساتھ رکهتی تهی- وہ اسے کهولنے ہی لگی تهی کہ ذرا دیر کو رکی، قرآن کے سفید کور کے درمیان میں ("م”) حرف میم لکها تها-
” یہ میم میں نے ادهر کیوں لکها ہے؟ وہ حیران ہوئی پهر سر جهٹک کر صفحے پلٹنے لگی-”
” یہ سب جہالت کی باتیں ہیں مسز رضی، جب تک اس ملک میں تعلیم عام نہیں ہو گی، تب تک عورت اور مرد کے برابر کے حقوق تسلیم نہ ہو سکیں گے-”
” اور نہیں تو کیا، اسی قدامت پرستی کی وجہ سے ہم آج یہاں ہیں اور دنیا چاند پہ پہنچ گئی یے-”
” محمل کو مطلوبہ آیت مل گئی تهی-اس نے ایک نظر آیت کو پڑها-
” مرد عورتوں پہ قوام ہیں بوجہ اس کے کہ وہ اپنا مال ان پہ خرچ کرتے ہیں-” اس نے سر اٹهایا- اور ذرا سا کهنکاری-
” مجهے آپ لوگوں سے اتفاق نہیں ہے-”
تمام خواتین چونک کر اسے دیکهنے لگیں-
” اور میرے پاس اس کے لیے دلیل بهی ہے- یہ دیکهیں-” اس نے گود میں رکها قرآن اوپر کیا” ادهر سورہ نساء میں-”
” نہیں پلیز!”
” آف نہیں، ناٹ اگین!”
ملی جلی ناگوار ، مضطرب سی آوازوں پہ وہ رک کر ناسمجهی کے عالم میں انہیں دیکهنے لگی-
” جی؟”
” خدا کے لیے اس کو مت کهولیں-”
” اس کو تو بند رکهیں- ہمیں یہ پرانی باتیں نہیں سننی پلیز!” مسز رضی نے ناگواری سے ناک چڑهائی تهی-
” دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور آپ لوگ اونٹوں کے زمانے سے ہی نہیں نکل پا رہے- پلہز، موو آن- اپنا دماغ وسیع کیجئے- ایک قرآن کو لے کر نہ بيٹھ جائیے- اس میں یا تو جنت کی حوروں کا لالچ ہوتا ہے یا ڈراوے ہوتے ہیں- اسی لیے ہمارا ملک ترقی نہیں کر سکا-
وہ کہہ رہی تهیں اور وہ حق دق بیٹهی رہ گئی-
یہ مسلمان عورتیں تهیں؟ یہ واقعی مسلمان عورتیں تهیں؟ ان کو آسمانی کتابوں پہ ایمان نہ تها؟ ان کو رسول کی بات پہ ایمان نہیین تها، یہ قرآن کو پرانی بات کہہ رہی تهیں؟ یہ قرآن کو نہیں سننا چاہتی تهیں، اس اللہ کی بات نہیں سننا چاہتی تهیں جس نے ان کو مال اور حسن دیا تها-؟ جو چاہتا تو ان کی سانسیں روک دیتا، ان کے دل بند کر دیتا- مگر اس نے ان کو ہر نعمت دے رکهی تهی، پهر بهی وہ اس کی بات نہیں سننا چاہتی تهیں؟
” یہ تو قرآن کی آیت ہے، اللہ کا کلام ہے، آپ سنیں تو سہی، یہ تو، اس نے کہنا چاہا-
"پلیزہمیں یہ نہیں سننا- آپ ہماری ڈسکشن میں مخل نہ ہوں-”
اور وہ خاموش ہو گئی- اتنی ہٹ دهرمی یا شاید وہ بدنصیب عورتیں تهیں، جن کو اللہ اپنی بات سنوانا پسند نہیں کرتا تها اور ہر وہ شخص جو روز قرآن نہیں پڑهتا وہ بدنصیب ہوتا ہے اللہ بات کرنا بهی پسند نہیں کرتا-
پهر وہ ادهر نہیں بیٹهی، تیزی سے اٹهی، قرآن بیگ میں رکها اور فرشتے سے” میں گهر جارہی ہوں” کہہ کر بغیر کچھ سنے وہاں سے چلی آئی- اس کا دل جیسے درد سے پهٹا جا رہا تها- آنسو ابلنے کو بےتاب تهے- سمجھ نہیں آ رہا تها وہ کیسے اس غم کو قابو کرے، کیسے- کیسے مسلمان ہو کر وہ یہ سب کہہ سکتی تهیں؟ اسے ابهی تک یقین نہیں آ رہا تها-

دل بہت بهر آیا تو آنسو بہہ نکلے- وہ چہرہ پهیرے کهڑکی سے باہر دیکهنے لگی- سڑک کے ایک طرف درخت پیچهے کو بهاگ رہے تهے- گاڑی ڈرائیور چلا رہا تها جسے وہ ساتھ لے کر آئی تهی – تائی مہتاب کی بہو بننے پر اسے یہ اعزاز تو ملنا ہی تها- اور روک ٹوک بهی قدرے کم ہو گئی تهی- مگر ابهی وہ ان باتوں کو نہیں سوچ رہی تهی- اس کا دل تو ان عورتوں کے رویے پہ اٹک سا گیا تها- اسے لگا، وہ سو سال بهی ان کی منت کرتی رہے، تب بهی وہ قرآن سننے پر راضی نہ ہوں گی-
ایک دم گاڑی جهٹکے سے رکی- وہ چونک کر اگے دیکهنے لگی-
” کیا ہوا؟”
” بی بی گاڑی گرم ہو گئی ہے، شاید ریڈی ایٹر میں پانی کم ہے، میں دیکهنا بهول گیا تها-” ڈرائیور پریشانئ سے کہتا باہر نکلا- وہ گہری سانس لے کر رہ گئی-سڑک قدرے سنسان تهی گو کہ وقفے وقفے سے گاڑیاں گزرتی دکهائی دے رہی تهیں مگر ارد گرد آبادی کم تهی- وہ کوئی انڈسٹریل ایریا تها بہت دور اونچی عمارتیں دکهائی دیتی تهیں- ڈرائیور بونٹ کهول کر چیک کرنے لگا تو وہ سر سیٹ سے ٹکائے، آنکهیں موندے انتظار کرنے لگی-
” بی بی” تهوڑی دیر بعد اس کی کهڑکی کا شیشہ بجا – اس نے چونک کر آنکهیں کهولیں- باہر ڈرائیور کهڑا تها-
” کیا ہو؟” اس نے شیشہ نیچے کیا-
” انجن گرم ہو گیا ہے، میں کہیں سے پانی لے کر آتا ہوں، آپ اندر سے سارے دروازے لاک کر لیں، مجهے شاید تهوڑی دیر لگ جائے-”
” ہوں، ٹهیک ہے جاؤ-” اس نے شیشہ چڑهایا، سارے لاک بند کیے اور چہرے پہ حجاب کا ایک پلو گرا کر پهر سے آنکهیں موند لیں- ادهیڑ عمر ڈرائیور چھ سات برس سے ان کی ملازمت کر رہا تها، اور خاصا شریف النفس انسان تها سو وہ مطمئن تهی-
وہ گرمیوں کی دوپہر تهی- تهوڑی ہی دیر مین گاڑی حبس زدہ ہو گئی- گهٹن اور حبس اتنا شدید تها کہ اس نے شیشہ کهول دیا- ذرا سی ہوا اندر آئی- مگر گاڑی کے ساکن ہونے کے باعث ماحول پہلے سے زیادہ گرم ہو گیا- تهوڑی ہی دیر میں وہ پسینہ پسینہ ہو گئی- بےاختیار سیٹ پہ تہہ کر کے رکها دوپٹے کو اٹهایا اور اس سے ہوا جهلنے لگی- گرمی اتنی شدید تهی کہ اسے لگا کہ وہ بهٹی میں جل رہی ہے-
کافی دیر گزر گئی مگر ڈرائیور کا کوئی نام و نشان نہیں تها- بےاختیار وہ سورہ طلاق کی تیسری آیت آخر سے پڑهنے لگی-
” جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستہ بنا ہی دیتا ہے-”
ڈیڑھ گهنٹے سے اوپر ہونے کو آیا تها- وہ گرمی سے نڈهال، پسینے میں شرابور کتمی ہی دیر سے دعا کر رہی تهی مگر جانے کیوں آج کوئی راستہ ہی نہیں کهل رہا تها- پهر جب سورج سوا نیزے پہ پہنچ گیا اور باہر سے آتی دهوپ و گرمی میں اضافہ ہوتا چلا گیا تو اس نے گهبرا کر شیشے بند کر دیے-
اور پهر سے وہی ہوا، گهٹن زدہ اور حبس زدہ بند گاڑی جیسے بند ڈبہ ہو یا بند قبر- یا سمندر کی تہہ میں تیرتی کسی مچهلی کا پیٹ!
” مچهلی کا پیٹ-” اس نے حیرت سے دہرایا-” یہ میرے دل میں کیسے خیال آیا کہ یہ مچهلی کا پیٹ ہے؟” وہ الجهی، اور پهر اسے وہ کلب کی عورتیں یاد آئیں- اور ان کا گهمنڈی رویہ! اس کے خیال کی رو بهٹکنے لگی- پتا نہیں وہ کیوں اس رب کی بات نہیں سننا چاہتی تهیں جس کے ہاتھ میں ان کی سانسیں ہیں- اگر وہ چاہے تو ان کی سانسیں روک دے، مگر وہ ایسا نہیں کرتا-
” کیوں؟” اس نے خود سے سوال کیا- اس کی آواز بس شیشوں سے ٹکرا کر پلٹ آئی-
باہر فضا صاف دکهائی دے رہی تهی- دور سے جهلکتی اونچی عمارتیں، ان کے اوپر آسمان جہاں سے پرندے اڑتے ہویے گزرتے تهے- یہ عمارتیں، یہ آسمان، یہ اڑتے پرندے، یہ زمین کو روندتے ہوئے چلتے متکبر لوگ، وہ سب زندہ تهے ان کی سانسیں اپنے ” انکار” کے باوجود نہیں رکتی تهیں-کیوں؟
کیونکہ ان کی سانس ان کو ملی مہلت کی علامت ہے محمل بی بی! کسی کے گناه کتنے ہی شدید ہوں، اگر سانس باقی ہے تو امیدہے، شاید کہ وہ لوٹ آئیں- وہ رب تو ان نافرمانوں سے مایوس نہیں ہوا، پهر تم کیوں ہوئیں؟” کوئی اس کے اندر بولا تها-
وہ جیسے سناٹے میں آ گئی-
کتنی جلدی وہ نہ ماننے والوں سے مایوس ہو گئی؟” ان پہ کڑهنے لگی؟ پهر کیوں وہ کسی کی ہٹ دهرمی دیکھ کر یہ فرض کر بیٹهی کہ وہ کبهی نہیں بدل سکتیں کیوں اس نے مایوس ہو کر بستی چهوڑ دی-
اس کی آنکهوں سے آنسو ابل پڑے- بے اختیار اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹهاۓ-
” نہیں کوئی اللہ تیرے سوا، پاک ہے تو، بےشک میں ہی ظالموں میں سے ہوں-”
ندامت کے آنسو اس کے گالوں پہ لڑهک رہے تهے- اسے بستی نہیں چهوڑنی چاہئے تهی- اگر کچھ لوگ قرآن سننا نہیں چاہتے تو کوئی تو ہو گا جو اسے سننا چاہے گا- خود وہ کیا تهی؟ قرآن کو اس روز چهت پہ کهولتے ہی بدک کر اٹهنے والی ، آج کدهر تهی! صرف اس سیاہ فام لڑکی کی ذرا سی کوشش، ذرا سے تجسس کو بهڑکانے والے عمل سے وہ کسی نہ کسی طرح آج ادهر پہنچ ہی گئی تهی کہ اللہ اس سے بات کرتا تها، پهر اپنی پارسائی پہ غرور اور دوسرے کی تحقیر کیسی؟
اس کے آنسو ابهی بہہ ہی رہے تهے کہ ڈرائیور سامنے سے آتا دکهائی دیا- اس کے دونوں ہاتهوں کیں پانی کی بوتلیں تهیں-
” اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستہ نکال ہی دیتا ہے-”
بےاختیار اس کے لبوں سے نکلا تها- اسے لگا اسی توبہ شاید قبول ہو گئی تهی- کبهی کبهی اسے لگتا تها، ایمان اور تقوی بهی سانپ سیڑهی کے کهیل کی طرح ہوتا ہے، ایک صحیح قدم کسی معراج پر پہنچا دیتا ہے- تو دوسرا غلط قدم گہری کهائی میں، اس نے بے ساختہ سوچا تها-
گاڑی گهر کے سامنے رکی، اور ڈرائیور نے ہارن بجایا- چوکیدار گیٹ کهول ہی رہا تها جب اس کی نگاہ ساتھ والے بنگلے پہ پڑی-
” تم جاؤ میں آتی ہوں-” وہ سبک رفتاری سے باہر نکلی-
بریگیڈئیر صاحب کا چوکیدار گیٹ پہ کهڑا تها- اس نے فورا بیگ کهنگالا-
” سنو، یہ اپنے صاحب کو دے دینا-” اور چند پمفلٹس نکال کر اس کی طرف بڑهائے- ” ان سے کہنا یہ امانت ہے، چاہے تو پڑھ لیں، کوئی دباؤ نہین، مگر واپس ضرور لینے آؤنگی- پکڑ لو نا- ” متذبذب کهڑے چوکیدار کو پمفلٹس زبردستی تهمائے اور واپس گهر کی جانب ہو لی-
کوئی تو ہو گا جو اسے سننا چاہے گا- آج نہیں ،کل نہیں، مگر کبهی تو وہ ان پمفلٹس کو کهولیں گے-

جاری ہے……!

Check Also

جگت کیسے شروع ہوئی۔

شہزاد بسرہ ملک خداداد میں ہر کوئی جگت بازی کا ماہر ہے۔۔۔لیکن عرصہ دراز سے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: