Home / ادب / شعرو ادب / شاعری / چاۓ کا کپ

چاۓ کا کپ

 
کچھ غزلیں کہیں، چند نظمیں اور اشعار ہوئے 
دیکھ تیری فرقت میں جاناں ہم کیسے فنکار ہوئے 
____________________________
 
ایک نظم 
 
 
بدلتے رنگ، بدلتے لوگ
 
بدلتے صبح و شام دیکھے 
 
تیرے شہر میں اب کے 
 
کئی چہرے نظر آئے
 
کوئی جذبہ نہیں دیکھا 
 
آنکھوں کے سمندر میں 
 
کوئی سپنا نہیں دیکھا 
 
کہاں ہیں دوست وہ سارے 
 
کوئی اپنا نہیں دیکھا
 
کبھی مل بیٹھیں گے جاناں
 
دیکھو وقت نکال کر
 
آنسو، موتی، باتیں، یادیں
 
چاۓ کا کپ
 
میں نے بھی
 
 رکھے ہیں سنبھال کر
________

Check Also

کارٹون بھی بڑھتی عمر کے اثرات سے متاثر

پبلک حیران۔۔۔۔۔۔کارٹون پریشان مرتبہ فوزیہ وحید اوسلو   Related

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: