Home / فیملی کارنر / پھول اور کلیاں / نزلے اور فلو کی شکائیت

نزلے اور فلو کی شکائیت

تحریر عمیر احمد
سردیوں میں دھوپ کی شدت کمزور پڑ جاتی ہے۔چنانچہ جراثیم اور وائرس کا زور بڑھ جاتا ہے۔حرارت میں کمی کے باعث مختلف امراض کے ساتھ فلو کے وائرس بھی ہم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔جس سے جسم کا دفاعی نظام متاثر ہو جاتا ہے۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ فلو کا مریض اپنے ارد گرد کے صحت مند لوگوں کو بھی مریض بنا سکتا ہے۔کیونکہ مریض کی چھینک کے ذریعے وائرس زدہ نم قطرے ہو امیں تیرتے رہتے ہیں اور دیر تک اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں۔ان جراثیموں سے سب سے ذیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ماں باپ بہن بھائیوں سے ذیادہ نزدیک رہتے ہیں۔آئیے دیکھتے ہیں کہ موسم سرماء میں آپ خود کو اور بچوں کو کیسے فلو سے محفوظ رکھ سکتے ہیںیا بیمار ہو جانے کی صورت میں کیسے دیکھ بھال کر سکتے ہیں؟؟
نزلہ انفلوئینزا یا فلو ایسی بیماریاں ہیںجنہیں عام طور سے معمولی تکلیف سمجھ کر شروع میں توجہ نہیں دی جاتی لیکن جب حرارت تیز ہو جائے ناک اور حلق پر سوجن آ جائیاور کوئی کام کاج نہ سوجھے تو پریشانی ہوتی ہے۔نزلے اور فلو کی پیش بندی کے لیے تو شائید یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ ان دونوں میں کیا فرق ہے۔لیکن اس فرق کو جان لینا ہی عقلمندی ہے۔فلو کے چند ہی وائرس پائے جاتے ہیں جب کہ نزلے کے
وائرس کی دو سوسے ذائد اقسام دریافت کی جا چکی ہیں۔نزلے سے سانس کا معمولی سا انفکشن ہوتا ہے اور یہ سال میںکسی بھی وقت کسی بھی موسم میں ہو سکتا ہے۔اس کے برعکس فلو سردیوں کا خاص تحفہ ہے۔اس کا حملہ بھی شدید ہوتا ہے۔جسم میں درد ،حرارت کمزوری کے ساتھ ناک بہنااور گلے کی سوزش اس کی خاص علامات ہیں۔نزلے کی علامات تین سے پانچ روز تک برقرار رہتی ہیں اور بعض اوقات ایک ہفتہ تک بھی برقرار رہ سکتی ہیں۔جبکہ فلو کے خلاف جنگ بعض اوقات دو ہفتے بھی لڑنا پڑ سکتی ہے۔نزلے کے بارے میں عام کہاوت یہ ہے کہ اگر اس کا علاج کرایا جائے تو یہ سات روز میں ٹھیک ہو جاتا ہے ورنہ ایک ہفتہ لیتا ہے۔بچوں کو فلو اور نزلے سے بالکل محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انہیں اسکول نہ جانے دیا جائے اور انہیں گھر پہ رکھا جائے۔ظاہر ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے اگر آپ کے بچے کی صحت ٹھیک ہے اور اسے زکام نزلے کے سوا کوئی اور بیماری نہیں ہے تو اس کے نزلے فلو کو ایسے ہی برداشت کر لیں جیسے سے کھیل کے دوران کوئی چوٹ آجائے۔پھر اسے سوائے برداشت کے آپ کچھ نہیں کر سکتے۔کیونکہ یہ ہر بچے کا فطری تقاضہ ہوتا ہے کہ وہ جی بھر کے کھیلے کودے۔ننھے بچے جو ابھی گود میں ہوتے ہیں انہیں نزلہ زکام اپنے بہن بھائیوں سے لگتا ہے۔جو اسکول سے آتے جاتے انجانے میں وائرس کو گھر لے آتے ہیں۔اپنے بچوں کو یہ تربیت دیں کہ وہ کھانستے وقت اپنے منہ پر کوئی رومال یا ہاتھ رکھ لیا کریں تاکہ جراثیم دور تک نہ جا سکیں۔اسکول سے آتے ہی ہاتھ اچھی طرح سے دھو لیں۔اگر کسی کو نزلہ یا فلو ہو جائے تو دوسرے بہن بھائیوں کے برتن یا خاص طور سے گلاس استعمال نہ کرے۔دوائی کا شربت پلا کر چمچ یا ڈراپر اچھی طرح سے دھو کر ر کھیں۔نزلے اور فلو کی وباء پھیلی ہو تو یہ لازم ہے کہ بچے کو دھوئیں اور گر د و غبار سے بچائیں۔خاص طور پر سگریٹ کے دھوئیں سے۔اگر آپ کے گھر میں کوئی سگریٹ پیتا ہے تو اسے خاص تاکید کریں کے بچوں کے پاس سگریٹ ہر گز نہ پیئں۔سگریٹ کا دھواں ویسے بھی بچوں کے لیے نقصان دہ ہے۔کسی کمرے میں جہاں بچہ موجود ہو وہاں سگریٹ کے دھوئیں کی موجودگی سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔اور وہ نزلے یا فلو کا شکار آسانی سے ہو سکتا ہے۔
نزلے یا فلو کے وائرس کے ظاہر ہونے یا اس سے متاثر ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے اس لیے ممکن ہے آپ کے بچے میں ابھی بیماری کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہو اور وہ انجانے میں اپنے جراثیموں کو بہن بھائیوں تک پہنچارہا ہو۔اسی لیے صحتیاب ہونے کے بعد بھی وہ چند روز تک اپنی بیماری کے جراثیم اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے۔اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ کب اسے خطرہ سے پاک قرار دیا جائے۔بہر حال جب نزلہ اور فلو کی ظاہری علامات ختم ہو چکی ہوں اور بچے کی نہ تو ناک بہ رہی ہو اور نہ ہی بخار ہو آپ اسے اسکول بھیج سکتی ہیں۔
اگر آپ کا بچہ مسلسل نزلے کا شکار رہتا ہو یا اسے باقائدگی سے وقفے وقفے سے نزلے کی شکائیت رہتی ہو تو ممکن ہے کہ یہ محض الرجی ہو اور وائرس کا حملہ نہ ہو۔الرجی میں بچہ بیمار نہیں ہوتا مگر ظاہری علامات فلو یا نزلے کی ہی ہو سکتی ہیں۔مسلسل چھینکوں کا دورہ الرجی کی علامت ہے۔کیونکہ فلو یا نزلے میں اکا دکا چھینک آتی ہے۔الرجی میں ناک سے بہنے والی رطوبت عموماً پتلی یا شفاف ہوتی ہے۔جبکہ بیماری میں یہ رطوبت اکثر گاڑھی ہوتی ہے۔ جبکہ بعض وائرس پتلی رطوبت بھی پیدا کر سکتے ہیں۔الرجی کی صورت میں ڈاکٹر آپ کے بچے کو الرجی کی مخصوص دوائیں دے گا۔
یہ ضروری نہیں کہ سردی کی وجہ سے ہی نزلہ زکام یا فلو ہو جائے لیکن سردی کی شدت سے بعض بچوں میں دفاعی قوت کم ہو سکتی ہے۔
اگر بچہ بیماری کی وجہ کمزور ی محسوس کر رہا ہو تو وہ خود ہی بستر میں لیٹے رہنا پسند کرے گا۔لیکن اگر وہ کھیلنا چاہتا ہے تو اسے بستر یا کمرے میں مقید کرنا کوئی دانشمندی نہیں۔اگر وہ خود کو نڈھال محسوس کر رہا ہو تو فوری ڈاکٹر سے مشورہ کیجئے۔
نیم گرم پانی میں ایک چائے کا چمچ شہد اور چند قطرے لیمو کا عرق نیم گرم پانی میں ملا کربچے کو پلائیں۔یہ ایک مفید گھریلو نسخہ ہے۔جب کہ ملیٹھی کا جو شاندہ بھی مفید ہے۔

Check Also

کتاب سے موبائل ایپ تک

عارف محمود کسانہ اس حقیقت سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا کہ انسانی ترقی اس ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: