Breaking News
Home / کالم / یسی انوکھی چیزیں جن پر دنیا بھر میں پابندی عائد

یسی انوکھی چیزیں جن پر دنیا بھر میں پابندی عائد

WITH SPECIAL THANKS TO DAWN NEWS سعدیہ امین اور فیصل ظفر
انتخاب، عمران جونانی
پاکستان میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کا معاملہ ہو تو حکومت کے پاس پابندیوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا یعنی موٹرسائیکل کی ڈبل سواری اور موبائل فون تو چھوڑیں کچھ علاقوں میں تو موٹرسائیکل چلانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی، پھر یوٹیوب، فیس بک، ٹوئیٹر غرض متعدد ویب سائٹس بھی پابندی کی زد میں آئیں مگر جناب یہ تو کچھ بھی نہیں دنیا کے دیگر ممالک میں تو ایسی ایسی چیزوں پر پابندی عائد ہوجاتی ہیں جو حیران کن نہیں بلکہ ہوش اڑا دینے والی ہوتی ہیں۔

یقین نہیں آتا چلیں یہ فہرست آپ کو شرطیہ حیران کرکے رکھ دے گی اور ان ممالک میں جانے کا موقع ملے تو ان اشیاء سے گریز ہی آپ کے حق میں بہتر ثابت ہوگا۔

یقین نہیں آتا چلیں یہ فہرست آپ کو شرطیہ حیران کرکے رکھ دے گی اور ان ممالک میں جانے کا موقع ملے تو ان اشیاء سے گریز ہی آپ کے حق میں بہتر ثابت ہوگا۔

فرانس

پیرس کو شہر محبت قرار دیا جاتا ہے اور اس کی جان ایفل ٹاور ہے جہاں کی تصاویر اتارنا سیاحوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے خاص طور پر رات کے وقت اس کی فوٹوگرافی کمال کی ہوتی ہے مگر اب اگر آپ نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو آپ کو جرمانے کی سزا کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ اب پیرس انتظامیہ نے دنیا کے اس مقبول ترین مقام پر رات کو جگمگانے والی روشنیوں کو کاپی رائٹس کے تحت قرار دے دیا ہے جن کی تصاویر اتارنا قابل تعزیر جرم ہے۔

جاپان

جاپان دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سے ایک ہے مگروہاں کے کلبز میں رقص پر پابندی عائد ہے اور یہ 1948 میں منظور ہونے والے ایک قانون کے تحت عائد ہوئی تھی جس کا مقصد عوامی اخلاق کا تحفظ ہے اور عوامی مقامات پر ناچنے کو دل کرے تو ایسا خصوصی اجازت نامے کے تحت ہی ممکن ہے ورنہ اس کی خلاف ورزی کافی بھاری پڑسکتی ہے۔

سنگاپور

چیونگم چبانا بیشتر افراد کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے مگر سنگاپور میں ایسا کرنا کافی مہنگا ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ وہاں اس کے چبانے تو کیا فروخت تک پر پابندی عائد ہے اور وہاں رہنے والوں کے لیے تو اسے خریدنا ناممکن ہے، اس کا مقصد اس چھوٹے سے ملک کو صاف ستھرا رکھنا ہے۔

جنوبی کوریا

آج کی دنیا میں آن لائن ویڈیو گیمز بہت عام ہیں اور اکثر ممالک میں تو لوگ دن رات اس میں مگن رہتے ہیں مگر جنوبی کوریا میں نصف شب کے بعد ایسا کرنے کی اجازت نہیں خاص طور پر سولہ سال سے کم عمر بچے رات بارہ بجے سے صبح چھ بجے تک کسی صورت آن لائن گیمز کا مزہ نہیں سکتے جس کا مقصد ان کی تدریسی سرگرمیوں کو متاثر ہونے سے بچانا ہے۔

ایران

ایران میں کافی چیزوں پر کہا جاتا ہے پابندی عائد ہے تاہم مردوں کے لیے 2010 میں ایسا پابندی نامہ سامنے آیا جس نے ان کے ہوش اڑا دیئے یعنی اپنے بالوں کے انداز یا ہیئراسٹائل کو ریاستی احکامات کے مطابق ڈھالنا اور اس کے تحت ان پر پونی ٹیل اور اسپائک اسٹائل پر پابندی عائد ہے۔

ملائیشیاء

پیلا یا زرد رنگ کافی لوگوں کا پسندیدہ ہوتا ہے مگر ملائیشیاء میں اگر کسی کو اس رنگ کا لباس تو چھوڑیں جرابیں، بنیان یہاں تک کہ جوتوں کے تسمے بھی پہننے کا جوش چڑھے تو اسے جیل کی ہوا بھی کھانی پڑسکتی ہے کیونکہ 2011 میں ملائیشین حکومت نے اس رنگ کے ملبوسات سمیت ہیٹس، رسٹ بینڈز اور بیلٹ غرض کہ ہر چیز پر پابندی عائد کردی تھی جس کی وجہ یہ اپوزیشن گروپ کے کارکنوں کا رنگ ہونا تھا۔

فرانس

ایک بار پھر فرانس کا ذکر ہے مگر اب کی بار یہ ایفل ٹاور کی وجہ سے نہیں بلکہ دنیا بھر میں مقبول انرجی ڈرنک ریڈ بل پر پابندی کی وجہ سے ہے، 2008 میں اس ملک میں اس مشروب میں پائے جانے والے کیمیکل کے صحت پر ممکنہ مضر اثرات کی بناء پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

شمالی کوریا

شمالی کوریا ایسا ملک ہے جس کے اندرونی حالات کے بارے میں دنیا کو بہت کم معلوم ہوتا ہے جس کی وجہ وہاں میڈیا پر سخت حکومتی کنٹرول ہے مگر ایک بات ضرور بتائی جاسکتی ہے کہ وہاں نیلے رنگ کی جینز کی پتلون پہننے پر پابندی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کی حکومت کے خیال میں یہ رنگ امریکی ثقافت کی علامت ہے تو اس کے استعمال کی اجازت کسی صورت نہیں دی جاسکتی۔

چین

چین ویسے تو ہر میدان میں دنیا کو پیچھے چھوڑتا چلا آرہا ہے مگر وہاں جس دلچسپ چیز پر پابندی ہے وہ ٹائم ٹریول ہے، جناب یہ وقت کا سفر نہیں بلکہ اس موضوع کے حوالے سے بننے والی فلموں اور ٹی وی شوز پر، چینی حکام کے خیال میں اس طرح کی فلموں میں دکھائے جانے والے ٹائم ٹریول میں تاریخ کو ردوبدل کرکے دکھایا جاتا ہے تو اس پر پابندی ہی بہتر ہے۔

بولیویا

بولیویا میں میکڈونلڈ پر ہی پابندی عائد کردی گئی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کوئی قانون نہیں بلکہ عوام کا فیصلہ ہے، درحقیقت وہاں کے رہائشی مانتے ہیں کہ ان کے پکوان تاریخ، محبت، نگہداشت اور عوامی نمائندگی کرتے ہیں اور وہاں کے لوگ اپنے آبائی قوانین کے تحت رہنا پسند کرتے ہیں اور فاسٹ فوڈ ان کے عقائد کے خلاف ہے اسی لیے میکڈونلڈ پر پابندی عائد ہے۔

برونڈی

اس ملک کے صدر نے ملک میں جاگنگ پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور ان کا دعویٰ ہے لوگ اس عادت کو تخریبی سرگرمیوں کے منصوبوں کے لیے بطور کور یا آڑ استعمال کرتے ہیں، درحقیقت وہاں تو اپوزیشن گروپس کے متعدد ارکان کو گروپ جاگنگ ایونٹس میں شرکت کرنے پر جیل کی ہوا کھانا پڑی ہے۔

کینیڈا

بے بی واکرز دنیا بھر میں بچوں کے چلنے کے لیے کافی مقبول ہیں مگر کینیڈا میں اس کے استعمال پر پابندی عائد ہے کیونکہ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ واکرز پر چل پھر کر بڑے ہونے والے بچوں کی ذہنی نشوونما کافی متاثر ہوتی ہے جس کے پیش نظر حکومت نے بے بی واکرز پر پابندی عائد کررکھی ہے۔

Check Also

ایک معاشرتی عنصر، میرے پاس تم ہو!

(شیخ خالد زاہد) یوں تو بارہا بھارتی میڈیا کی پاکستان میں روک تھام کےلئے اقدامات ...

5 comments

  1. Thanks a lot 🙂

  2. wah Imran sahab saadia or faisal tak ho sakai to meri dad pohncha dain. Mozoo to bohot zbardast hai magar france ki pabandi wali bat hazam nhi hoi k mai whan pichlai baras hi ja chuki hoon site k ser o syahat k safhai par si ka safrnama bhi hai .Ifel Towr ki tsavir mai nai bhi bnai thin .Char roz whan rhi or kai progras attend kiyai adbi or mazhabi magar ” Ifel Tower pai pabandi wali bat merai ilm mai nhi . Na hi kisi nai btay ameri dost rehti hai whan boot mashoor writer hain onhon nai bhi aisi koi bat nhi khi.is ski wzahat zroori hai.yai informations khan sey ikathi ki hai.
    Article ka dilchasp hona ek alag bat hai or maaloomat ka mustanad hona doosri bat hai .
    Shukriya

  3. Imran Junani
    10. des. (for 5 dager siden)

    til meg
    Rahnumaee ke lye shukrya,,,,,,,,,,,,,,,,,, mumkin hai ye info theek na ho,,,,,,,,
    Aap apni kitaab ka barha zikar karti hein lekin hum to ab tak sarwarq ke deedar tak se mehroom hein 🙂

  4. السلام و علئیکم عمران
    بہر حال موضوع تو بہت ہی اچھا ہے ایک مضمون میں جس طرح مختلف ممالک کی معلومات کو یکجاء کیا گیا ہے ۔دوسری بات مجھے یہ پسند آئی کہ اسے دو افراد سعدیہ اور نے مل کر لکھا ہے۔یعنی ٹیم ورک کیا ہے۔یہ ایک نیا آئیڈیا ے جس پر مغربی ممالک میں بہت کام ہوتا ہے مگر پاکستان میں اتنا عام نہیں ہے۔اس طرح بہت اچھی تخلیقات ہو سکتی ہیں۔
    باقی رہ گئی بات کتاب کی تو جناب وہ آپ سائٹ پہ پڑھ سکتے ہیں اس کے اقتسابات اور تبصرے بھی ۔میں لنک بھیج دیتی ہوں۔
    لگتا ہے آپ اردو فل پر صھیح طرح گھومے پھرے نہیں ورنہ آپ کو یہ کتاب مل جاتی۔مگر میں آپ کو لنک بھیج دیتی ہوں پسند آئے توضرور بتائیں کہ کیا پوری پڑھنا چاہیں گے؟؟؟
    یہ لنک ہے ادب کی آپشن میں کتاب کہانی پر جا کر آپ پڑھ بھی سکتے ہیں اور اپنا تبصرہ بھی بھیج سکتے ہیں۔
    http://www.urdufalak.net/urdu/2012/10/17/37645
    آپ کی نئی نظمیں بھی بہت اچھی لگیں وہ میں ایک دوروز میں لگا دوں گی
    شکریہ شازیہ

  5. OK G Thanks a lot mien dekhta hun ye link…………………

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: