Home / ادب / شعرو ادب / شاعری / اترا ہے ایک حسن قیامت کا شہر میں

اترا ہے ایک حسن قیامت کا شہر میں


ڈاکٹر جاوید جمیل
 
طوفاں ہر ایک دل میں ہے حسرت کا شہر میں
اترا ہے ایک حسن قیامت کا شہر میں

وعدوں کے انہدام کی تاریخ ہے طویل
تعمیر کیا محل ہو محبت کا شہر میں

ناراض ہوکے ہاتھ جھٹک کر چلے گئے
فالودہ خوب نکلا ہے عزت کا شہر میں

اندیشہ۶_ فساد سے ہر گھر میں خوف ہے
اک جن پھر رہا ہے شرارت کا شہر میں

(جن کے ن پر تشدید ہے)

ہر لب پہ یہ دعا ہے ہر اک دل میں یہ امید
آئے کوئی فرشتہ محبّت کا شہر میں

دولت کا گہرا ربط سیاست سے ہو گیا
فقدان ہر طرف ہوا برکت کا شہر میں

کر دوں اسے بھی تیرے تصور کے نام میں
مل جائے ایک لمحہ ہی فرصت کا شہر میں

جاوید تو نے کیسے کیا فتح اس کا دل
چرچا ہے خوب تیری ذہانت کا شہر میں

 
 

 

— 

Check Also

نظم پردیسیوں کے دکھ‎

وہ جو پردیس رہتے ہیں کبھی سوچا ہے کیسے دن بِتاتے ہیں جو چہروں سے ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: