Home / انٹرویوز / سونیا خان فلمسٹار اور شاعرہ سے ایک گفتگو

سونیا خان فلمسٹار اور شاعرہ سے ایک گفتگو





سونیا خان فلمسٹار اور شاعرہ سے ایک گفتگو
انٹر ویو شازیہ عندلیب
حصہ دوم

فلمی دنیا چھوڑنے کے بعد میں ٹی وی میں آگئی۔ٹی وی کا ماحول مجھے اچھا لگا۔یہاں ریکارڈنگ ایسے ہوتی تھی جیسے کالج یا یونیورسٹی میںکلاسز ہوتی ہیں۔فلم میں شارٹس مختلف اوقات میں بنائے جاتے تھے جن کی وجہ سے موڈ ایک جیسا نہیں رہتا تھا۔سین کا کٹ ٹو کٹ ہونے کی وجہ سے ان میں نیچرل ٹچ نہیں ہوتا تھا۔یہ سلطان راہی کا زمانہ تھا۔ایک گھنٹہ یہاں شوٹنگ ہے تو اگلے گھنٹے میںوہاں ہے ایک سیٹ پہ جا کر بڑک ماردی تو دوسرے پہ چیخ مار دی۔پھر سلطان راہی کی موت کے بعد یہی کام شان سے بھی لینے کی کوشش کی گئی۔مگر ہماری فلم انڈسٹری میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے اندسٹری زوال کا شکار ہو گئی۔ان پڑھ دائیریکٹرز ،ایکٹر ارو پروڈیوسرز کی وجہ سے اچھی فلمیں بننا بند ہو گئیں۔کہانی رائٹر صرف ایک ہی تھا جسکی کہانیوں میں یکسانیت کی وجہ سے اچھی اور معیاری فلمیں ہی نہیں بنتی تھیں۔اب فلمیںفیملی کلاس کے لیے نہیں بلکہ ایک خاص ٹھیلا پبلک کے لیے بن رہی تھیں۔اس لیے ماحول بہت خراب تھا ۔مگر فلم انڈسٹری میں سب میرا اتنا احترام کرتے تھے۔میں نے انڈسٹری میں ہی شادی بھی کی پھر فلم دائیریکٹرز نے مجھے اپنے سامنے بڑے ہوتے بھی دیکھا۔میری فلموں میں گانے بہت کم ہوتے تھے۔ایک فلم میں ولن نے میرا دوپٹہ کھینچنا تھافلم ڈائیریکٹر ہمایوں قریشی نے یہ سین کسی اور پر فلمبند کروایااور اس وقت خود سیٹ پر سے اٹھ کر باہر لے گئے غیرت کے مارے ۔رنگیلا کی سالی ہونے کی وجہ سے سب بہت احترام کرتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ یہ تو ہماری بیٹی اور بہن ہے اس کی شکل اتنی معصوم ہے۔وہ مجھے اکثر ایسی گائوں والی فلموں میں نہیں لیتے تھے جس میں غنڈے ہوتے تھے۔یہ میرا اور منی کے ڈانسز کا دور تھا۔
پھر میںنے باقائدہ کلاسیکل ڈانس سیکھا۔لیکن کسی نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ایک پروڈیوسر باہر کے ملک سے آئے تھے۔انہوں نے ایک فل بنائی تھی۔فرام ایشیا اس میں انہوںنے اپنے بیٹے کو لیا تھا۔اس مین میں نے کلاسیکل ڈانس کیا تھا۔میرا ڈانس انڈین کلاسیکل دھن پر دیکھ کر لوگ ہکا بکا رہ گئے۔اس طرح مجھے کلاسیکل ڈانسز کی فلمیں ملنا شروع ہو گئیں کچھ فلمیں پنجابی ٹھمکا والی بھی تھیں مگر پنجابی ٹھمکاڈانس مجھ سے ہوا نہیں۔ایک پنجابی فلم سنسر بورڈ میں گئی اور پاس نہ ہوئی۔ریحانہ مشہدی اس وقت ایم پی اے تھیں۔انہوں نے وہ گانے سنسر کر دیے۔یہ وہ زمانہ تھا جب شاہدہ منی عریاں لباسوں میںڈانس کیا کرتی تھیں میرے ڈانس میں ایسا کچھ بھی نہ تھا ۔میرے فلم پروڈیوسر پریشان ہو گئے۔میں ایم پی اے خاتون کے گھر گئی۔انکا گھر لاہور میں تھا۔ان کے ملازم نے ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔تھوڑی دیر بعد ریحانہ نماز پڑھ کر آئیں ۔انہوں نے دوپٹہ اپنے سر پہ لیا ہوا تھا۔نماز کیا نداز میں۔مجھ سے بہت محبت اور شفقت سے ملیں میں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے میری فلم کیوں پاس نہیں کی میرے ڈانس میں ایسا کیا تھا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے ایک بات ہے کہ تم اتنی پیاری اور معصوم ہو میری پسندیدہ ایکٹریس ہو۔اس ڈانس کی وجہ سے میرا تمہارے بارے میں ا میج خراب ہو گیا۔جو میں توقع نہیں کر رہی تھی۔ اس لیے میں نے فلم پاس نہیں کی۔یعنی اب مجھے سنسر بورڈ بھی قبول نہیں کر رہا تھا میرا میٹیریل فلم اندسٹری کے لیے نہیں تھا۔میں جہاں جاتی بڑی عمر کی عورتیں مجھے چومتی اور پیار کرتی تھیں۔وہ میرے بارے میں ایک معصوم اور پیاری سی بچی سے آگے نہیں سوچ سکتی تھیں۔مجھے چوبیس سال کی عمر میں ہی سمجھ آ گئی کہ میرا ٹھکانہ فلم انڈسٹری نہیں بلکہ گھر ہے۔اتنی سی عمر میں میں نے بہت دنیا گھوم لی۔چودہ پندرہ سال کی عمر سے پیسہ گاڑیاں سب کچھ تھا اب مجھے کوئی حسرت نہیں تھی ۔پھر ٹی وی پر بھی دو تین سال کام کیا تو دل اکتا گیا۔ہر ایکٹر کے ساتھ کام کیا دل میں کوئی حسرت نہیں تھی۔
اندسٹری چھوڑنے سے پہلے آخری فلم ایک آرٹ فلم تھی۔یہ فلم جرمن کے گورے اور پاکستانی مل کر بنا رہے تھے۔جو کہ جرمن زبان میں ڈب کر کے جرمن فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے رکھنا تھی۔اس میں میرا مرکزی کردار تھا۔میں نے ایک ہیروئن کا نشہ کرنے والی بچی کا کردار ادا کرنا تھا۔ اس کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے میں نے ایک ماہ تک کنگی نہیں کی تھی۔مجھے اصل زندگی میں سگریٹ سے نفرت ہے لیکن اس کردار کی خاطر مجھے سگریٹ بھی پینا پڑا۔میں پاگل خانوں اور ہیروئن کے نشہ کی لت والے مریضوں کے اسپتالوں میں گئی۔ہیروئن کی لت چھوڑنے کے لیے کی جانے والی کلاسز اٹینڈ کیں۔وہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ علاج سے صحتیاب ہونے والے بچے معاشرے میں ٹھیک طرح سے ایڈجسٹ نہیں ہو پاتے۔اس لیے کہ لوگ ایسے بچوں سے اپنے بچوں کو ملنے نہیں دیتے کہ کہیں وہ ان کے بچوں کو بھی اس لت میں مبتلاء نہ کر دے۔معاشرتی رویے اسے پھر غلط راستے پہ لگا دیتے ہیں یہاں مجھے بہت چیزیں سیکھنے کو ملیں۔اسکا آخری سین فلمبند کروانے کے بعد میری شادی ہو گئی۔اس کے بعد اس فلم کو فیسٹیول میں نمائش کے لیے بھیجنا تھا۔مگر اسکا پرنٹ معیاری نہ ہونے کی وجہ سے فیسٹول میں شامل نہ ہو سکی۔اس فلم کے پروڈیوسر خلیل رانا میرے پاس آئے کہ میں دوبارہ اسکی شوٹنگ کروائوں لیکن میں اپنی فیملی میں تھی میری واپسی ممکن نہ تھی۔وہ فلم فیسٹیول میں تو نہ جا سکی لیکن امریکہ کے اردو چینل پر چلائی گئی۔اسکا بہت اچھا رسپانس ملا۔

ناروے میں آمد
میں نے انڈسٹری چھوڑنے کے ارادے کے ساتھ ہی شادی کا ارادہ کیا۔ان دنوں میں ایک ڈرامہ کی ریکارڈنگ میں حصہ لے رہی تھی جب میرے دو چار جگہوں سے رشتے آئے۔ایک ڈرامہ میں میرے شوہر طارق میر بھی میرے ساتھ کام کر رہے تھے۔یہ پہلے اور آخری ڈرامہ ہیرو ہیں جو ناروے سے پاکستان ڈرامہ میں کام کرنے گئے۔وہاں انہوں نے ایک ڈرامہ اور ایک فلم کائنات میں کام کیا تھا جو کہ ایس ٹی این ٹی وی چینل سے ٹیلی کاسٹ ہوا تھا۔وہیں میری ان سے ملاقات ہوئی ۔ان دنوں میں تمام ڈراموں اور فلموں میں آخری کام کی ریکارڈنگ کروا رہی تھی۔اس وقت میرے پاس سترہ فلمیں تھیں۔جو میں نے سائن کی تھیں مگر وہ چھوڑ دیں۔ٹی وی پروڈیوسر اور فلم پروڈیوسرز بھی میرے پاس آئے کہ آپ کام نہ چھوڑیں۔مگر میں نے شو بز چھوڑنے کا پکا ارادہ کر لیا تھا۔مجھے ایک شوٹنگ ماہ دسمبر میں دریائے راوی پہ کرنا پڑی۔ میں ٹھنڈ سے بیمار پڑ گئی۔میری بیماری کے بارے میں طارق میر کی فیملی نے پڑھا تو طارق میر اپنے بھائی اور والدہ کے ساتھ میری بیمار پرسی کے لیے آئے۔میں اپنے گھر پر شو بز کے لوگوں سے نہیں ملتی تھی۔مگر یہ اپنی فیملی کے ساتھ آئے تو میں نے انہیں جازت دے دی ملنے کی۔انہوں نے میرا کمرہ دیکھا تو اس کی سجاوٹ دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔میں نے وہاں اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی انٹیریر ڈیکوریشن کی چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔جس میں میرے ہاتھ کا بنا ہوا ایک لیمپ بھی تھا جو میں نے صراحی سے بنایا تھا۔میں نے ایسی بہت سی چیزیں سجا رکھی تھیں۔میں مختلف چیزوں سے فالتو وقت میں انٹیریئر ڈیکوریشن کی چیزیں بنانے کا شوق رکھتی تھی۔طارق اور ان کے بھائی نے یہ سب دیکھا تو بہت متاثر ہوئے۔انکی بڑی بہن بھی ساتھ تھیں۔پھر انکی باقی فیملی سے بھی دوستی ہو گئی۔جب طارق کی امی نے بتایا کہ میری ان لوگوں سے دوستی ہو گئی ہے تو طارق نے انہیں کہا کہ آپکی کیسے دوستی و گئی یہ تو بڑی نک چڑی ہے۔بعد میں ان کے چھوٹے بھائی نے بتایا کہ گھر میں آپ کے رشتے کی بات چلی ہے بڑے بھائی کے لیے۔مگر یہ اتنا آسان نہیں تھا میری ایک بیٹی بھی تھی۔میرے لیے رشتے اور بھی تھے۔لیکن میں نے انہی کو قبول کیا ۔اس لیے کہ انکی شخصیت بہت بیلنس تھی ۔یہ ایک روائیتی مرد نہ تھے وہ روائیتی باتوں کو اہمیت نہیں دیتے تھے مثلاً یہ کہ عورت کو طلاق ہے یا یہ کہ اسکا تعلق فلم انڈسٹری سے ہے۔میں نے ان کے ظاہری رویے اور ذاتی کردار میں کوئی چینج نہیں دیکھا۔میں اپنا ملک نہیں چھوڑنا چاہتی تھی مگر مجھے اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔جب میں یہاں آئی میں ہر روز خواب میں پاکستان دیکھتی تھی۔خواب میں سب کو ملتی تھی۔جب خواب توٹتا تو دوبارہ جوڑتی۔جب کسی کو ایئر پورٹ پرچھوڑنے جاتی تو یہ میرے لیے انتہائی مشکل ہوتا تھا۔مگر یہ سب میری قسمت میں تھا۔یہ حقیقت ہے۔حضرت علی کا قول ہے ٫ میں نے اپنے رب کو پنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں کبھی بھی اپنا وطن نہ چھوڑتی۔میں وہاں رہ کر اپنے وطن کی کسی طرح بھی خدمت کرتی۔
اردو اب
اردو ادب میں بہت سے لکھاری ہیں جن سے عشق ہے مگر انڈیا کے شاعر گلزار کی شاعری بہت پسند ہے۔
انکا یہ شعر بہت پسند ہے
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے ہیں ہم تصور جاناں کیے ہوئے
جہاں تک ادب سے لگائو کے آغاذ کا سوال ہے تو اس شوق کی کوئی عمر کوئی تاریخ یا مقرر نہیں۔انسان اس کے ساتھ ہی پیدا ہوتا ہے۔بچپن سے ہی چھوٹی چھوٹی کہانیاں اپنی ماں سے سنتی اور پھر اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو سناتی تھی۔میں اپنی ساری پاکٹ منی کہانیوں کی کتابوں پر لگا دیتی تھی۔اخبار جنگ میں بچوں کاصفحہ پڑھا کرتی تھی۔پھر بچپن میں کہانیاں لکھ کر اخباروں کو بھی بھیجتی رہتی تھی جو کبھی نہیں چھپتی تھیں۔
جہاں تک شاعری میں اصلاح کی بات ہے تو وہ میں نے کسی سے بھی نہیں کروائی۔مجھے پاکستان کی شاعرہ سارہ شگفتہ پسند ہیں بہت بولڈ شاعرہ ہیں۔
ریڈیو
ریڈیو پر جس طرح کا پروگرام میں کرنا چاہ رہی تھی وہ ریڈیو کو سوٹ نہیں کرتا تھا۔ وہ گانے نشر کرنا چاہتے تھے اور میں انٹر ویو کرنا چاہتی تھی۔
میں نے دہشت گردی کے نتیجے میں فیملی سے بچھڑے ہوئے بچوں کی ایڈورٹائزمنٹ کی۔میں نے ہیلتھ کے پروگرام کیے۔اس سلسلے میں ڈاکٹرز سے انٹر ویو کیے۔اس کے علاوہ میں بچوں کی کہانیاں سنا کر ان سے مشکل الفاظ کے معانی پوچھتی۔اور انہیں انعام دیتی۔پھر یہ پروگرام اتنا مقبول ہوا کہ مائوں نے بچوں کو ریڈیو سنوانا شروع کر دیا۔مگر ریڈیو آرگنائیزیشن کو اس بات سے اختلاف تھا۔انکا موقف تھا کہ میں اس چینل کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہوں۔کہ میں چیرٹی کے لیے یہ شوز کر رہی ہوں جبکہ وہ خود بھی اپنی آرگنائیزیشن کے لیے چیرٹی مانگتے تھے۔یہ دو سال پہلے کی بات ہے۔میں لاوارث بچوں کے لیے اپیل کرتی تھی اور کئی فیملیز ان بچوں کا خرچہ اٹھاتی تھیں۔پھر وہ فیملیز رابطہ کرتی تھیں ۔مگر پروگرام بند کروا دیاگیا۔اگر مجھے دوبارہ چانس ملے تو میں یہ کام انٹر ویوز اور دیگر کام ضرور کروں گی۔
پیغام
یہاں برادری سسٹم بہت ہے۔یہاں تک کہ مسجدو ں میں،ادب میں،ایک ہی فیملی کی اجارہ داری ہوتی ہے۔گروہ بندیاں برادری اور اداروں کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔صرف اوسلو میں ہی نہیں بلکہ پورے یورپ میں یہی ہے۔یہاں ہماری کمیونٹی میں دھکا دینے کی بہت روائیت ہے۔ذات پات اور برادری سسٹم دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔جبکہ پروموشن انسانیت اور قابلیت کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔نہ کہ تعلقات اور رشتوں کی بنیاد پر۔جو نمائندگی کا حق رکھتا ہے نمائندگی اسے ہی ملنی چاہیے۔اس کے بجائے رشتہ داری یا تعلقات کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔جو اس قابل ہو اسے ہی سب کچھ ملنا چاہیے۔دنیا اسی طرح خوبصورت ہو سکتی ہے۔
جہاں تک ناروے میں اردو ادب کے مستقبل کا سول ہے تو یہ اسی طرح ہے جیسے تالاب کا پانی ٹھہرا ہوا ،اور بدبو دار ہو۔جبکہ پانی میں روانی ہو تو سوچ بھی بڑھتی ہے اور جمود بھی ٹوٹتا ہے۔ہمیں ذیادہ سے ذیادہ نئے لوگوں کو آگے لانے کی ضرورت ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ یورپ میں موجو د ٹیلنٹ کو متعارف کرایا جائے۔انہیں سیکھنے کے مواقع دیے جائیں۔میں کوشش کر رہی ہوں اس سلسلے میںڈاکٹر ستیہ پال کے ساتھ مل کرکچھ کرنے کا پروگرام ہے۔اس کے علاوہ سعودی عرب کے شاعر سلمان باسط ہیں ان سے بھی بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ناروے میں جواد شاہین نئی سوچ کے مالک شاعر ہیں۔ادبی تنظیم دریچہ اس سلسلے میں کافی کام کر رہی ہے۔ناروے میں سینیئر لکھاری فیصل نواز ادب کے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ ایک عرصہ سے ادبی سنگت کی تنظیم چلا رہے ہیں۔ا گر سب مل کر بیٹھیںاور کوشش کریں تو ادب کو بھی تازہ ہوا ملنی شروع ہو جائے۔کسی نہ کسی کو تو پہلا پتھر پھینکنا ہے۔
میںذاتی طور پر ایک خاتون کی حیثیت سے ادب کی خدمت کی کوشش کر رہی ہوں۔ اس کے علاوہ لکھاری خواتین میں آپ ہیں سیماب ہیں ۔اگر ہم بھی مل کر خواتین کا حوصلہ بڑھائیں انہیں آگے لائیں تو اس کام کے لیے دو تین بھی کافی ہیں۔
کچھ مرد حضرات بھی ہیں جو جرآت رکھتے ہیں۔آپ اور میں شادی شدہ ہیں۔اگر گھر کا مرد ساتھ دے گھر سے باہر نکلنے دے آپ کے ساتھ کھڑا ہو تو پھر باہر کا مرد بھی ساتھ دیتا ہے۔اس طر ح خاص قسم کے مسائل ختم ہو جاتے ہیں۔پھر انسان جدو جہد کر سکتا ہے اور اسی طرح فاطمہ حسن اور ہماء بخاری جیسی عورتیںآگے آتی ہیں۔وہ وومن فورم میں آئیں اور بولیں جبکہ ذیادہ مرد حضرات آئے۔نناوے فیصد عورتوں میں آگہی کی کمی ہے۔اکثر عورتیں اپنا حق نہیں لینا چاہتیں یہ ایک نفسیاتی مسئلہ بھی ہے۔جو مرد یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عورت کو گھر بٹھا کر تحفظ دیتے ہیں اور عورتوں پر ذمہ داری نہیں ڈالتے وہ الٹا عورت کو بوجھ بنا دیتے ہیں۔عورت بھی گھر بیٹھ جاتی ہے کوشش ہی نہیں کرتی کہ میرا مرد ہی سب کچھ کرے عورت اگر یہ سوچے کہ عورت ہونا کمی نہیں ہے۔یہ ایک طاقت ہے۔عورت جب ماں بنتی ہے تو اللہ اسے صبر اور برداشت بھی دیتا ہے جو عورت ذیادہ سے ذیادہ معاشرے کو دے سکتی ہے۔اگر اسکی برداشت کو دیکھ لیں و وہ بہت ذیاد کام کرتی ہے اور کر سکتی ہے۔

Check Also

ایک کروڑ پتی شخص سے انٹرویو።።።سب سے زیادہ خوشی

ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں ریڈیو اناؤنسر نے اپنے مہمان سے جو ایک کروڑ پتی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: