Home / ادب / شعرو ادب / شاعری / وہ چاندنی میں کچھ ایسا تھا تربتر تنہا از ڈاکٹر جاوید جمیل

وہ چاندنی میں کچھ ایسا تھا تربتر تنہا از ڈاکٹر جاوید جمیل

وہ چاندنی میں کچھ ایسا تھا تربتر تنہا
از ڈاکٹر جاوید جمیل

وہ چاندنی میں کچھ ایسا تھا تربتر تنہا
میں دیکھتا رہا منظر یہ رات بھر تنہا

ہوئی ہے جیسے ابھی تک گزر بسر تنہا
گزار ڈالیں گے باقی کا بھی سفر تنہا

پکارتا ہوں ترا نام جیسے صحرا میں
ہمیشہ آتی ہے آواز لوٹ کر تنہا

عقاب اڑتا ہے جس طرح آسمانوں میں
بلندیوں میں کیا کرتا ہوں سفر تنہا

ہمیشہ رہتا ہے ہمراہ قافلہ اسکے
مصیبت آتی نہیں ہے کسی کے گھر تنہا

وہ منتظر ہے کوئی اس کے سائے میں آئے
کھڑا ہے دور رہ_ حق پہ اک شجر تنہا

شریک_ قافلہ ہوتا تو جشن ہو جاتا
ملے تھے آج سفر میں مجھے خضر تنہا

Check Also

بہت مصروف رہتے تھے

بہت مصروف رہتے تھے ہواؤں پر حکومت تھی تکبر تھا کہ طاقت تھی بلا کی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: