Home / ادب / شعرو ادب / سرگوشیاں ابا جی کی حصہ اول

سرگوشیاں ابا جی کی حصہ اول


تحر یر شازیہ عندلیب

رئیس اعظم اپنے ابا جی کاذکر کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہمارے ابا جی کی آواز اتنی بلند تھی کہ اگر سرگوشی بھی کرتے تو انکی آواز محلے کے چالیس گھروں تک جاتی ۔گویا سرگوشیاں نہ ہوئیں سیاستدانوں کے مذاکرات ہو گئے۔ جن کی بازگشت پورے ملک میں سنی جا سکتی ہے۔پاس بیٹھی ہوئے گوری چٹی رئیسانی شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں، ہاں مجھے یاد ہے جب وہ میرا رشتہ مانگنے آئے تھے تو خوشی کے مارے اتنی زور سے بول رہے تھے کہ سارا محلہ اکٹھا ہو گیا۔ محلے والوں نے سمجھا کہ ہمارے گھر میں حملہ ہو گیا ہے اس لیے وہ مدد کے لیے دوڑے آئے۔مگریہ دیکھ کر سب کھسیانے ہو گئے کہ یہاں تو رئیس اعظم کے ابا جی تشریف لائے ہیں۔ بڑی رعب دار شخصیت تھی ابا جی کی بھی۔پورے گائوں میں ٹیکا تھا انکا۔بالکل زرمینہ کے تایا ابا کی طرح۔ وہ بھی جب بولتے تو پڑوسی ڈر جاتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ جھگڑا ہو گیا ہے۔ کبھی کبھی تو وہ عام حالات میں بھی بولتے تو لگتا کہ کوئی لیڈر تقریر کر رہا ہے۔غصہ میں تو بالکل پنجابی فلموں کے ہیرو لگتے ہیں۔ کبھی کبھی موڈ میں ہوتے تو نقلیںبھی اتارا کرتے۔اتنی اچھی اور مزاحیہ ایکٹنگ کرتے کہ چارلی چپلن اور عمر شریف بھی دیکھے تو شرما جائے۔شریف اتنے کہ نواز شریف بھی کیا ہونگے۔اپنے نام کی طرح شریف اور خوبصورت۔انکا نام شرافت علی تھا۔ قد نکلتا ہوا عینک کے پیچھے سے جھانکتی موٹی موٹی آنکھوں پر سرخ و سپید رنگت اور ستواں ناک نے انکی شخصیت کو بہت جاذب نظر بنا دیا تھا۔اس پر انکی داڑھی نے انکو بالکل کسی بزرگ کا روپ دے دیا تھا۔ ہیر اسٹائل ایسا تھا کہ سر درمیان سے ہوائی اڈے کی طرح صاف ستھرا سائیڈوں پر بالوں کی جھالر۔ اپنے ہیر اسٹائل سے نالاں رہتے تھے۔مگر بچت کی عادت کی وجہ سے بال اگانے والی کریموں پر کبھی پیسہ ذائع نہیں کیا۔
صاحب جائداد ہونے کی وجہ سے روپئے پیسے کی کمی تو نہ تھی لیکن پیسہ خرچ کرنے کی عادت بالکل نہ تھی۔شہر کے بیچوں بیچ گھر تھا۔ گھر کے نیچے مارکیٹ تھی۔ اس کی دوکانوں سے کافی کرایہ آ جاتا تھا۔ اسکے علاوہ نوکری بھی کرتے تھے۔ بجلی کے محکمے میں افسر تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ انکی باتوں میں بجلی کی کڑک بھی تھی اور کرنٹ بھی۔ جا ئدا دتو ترکہ میں ملی تھی لیکن والد کی وفات کے بعد بیگم کے نام اس ڈر سے کر دی کہ کہیں چھوٹے بہن بھائیوں کو حصہ نہ دینا پڑ جائے۔ حالا نکہ بیگم سے بھی نہ بنتی تھی۔ جائداد انکے نام کرنے کے بعد بھی نہ بنی۔ الٹا تایا جی کے سسرالیے بیگم اور انکے بچوں سمیت انکی جائداد لے کر چمپت ہو گئے۔چونکہ بیگم سے کم بنتی تھی اس لیے صرف سات اولادوں پر ہی اکتفا کیا ، ورنہ ملک میں مزید آبادی کا اضافہ کر کے فیملی پلاننگ والوں کی کوششوں پر پانی پھیر دیتے۔ بیگم سے بے شک لگائو نہ ہو سکا مگر بچوں سے بہت لاڈ پیار کرتے۔ ایک مرتبہ انکے لاڈلے بیٹے کو انگلی پہ چوٹ لگ گئی بہت سا خون بہ نکلا ۔ یہ دیکھ کر تایا جی کی موٹی موٹی خوبصورت آنکھوں سے آنسو بہ نکلے ۔ تایا جی کو روتا دیکھ کر بچے ہنسنے لگ پڑے۔اس کے علاوہ خاندان بھر کے گورے چٹے اور ہنس مکھ بچوں کو خصوصی پیار کرتے ۔ جو بچہ خوش شکل ہوتا وہ اسے اپنا مرید بنا لیتے۔ اسے اپنے ساتھ لیے لیے پھرتے۔ پھر اسے کھانے پکانے کے نسخے، حکیمی نسخے اور وظیفے تک مفت عنائیت کر دیتے۔خھانا بنانے میں ماہر ہو گئے تھے۔ اگر بیگم غصہ میں کھانا نہ بناتیں تو خود ہی بنا لیتے۔اگر مزے کا بنتا تو تھوڑا سا ہمسائیوں کو بھی چکھاتے۔ اور خود تو کئی کئی روز تک کھاتے رہتے۔جب کئی روز تک ایک ہی کھانا کھانے سے کمر میں چک پڑ جاتی یا بدن میں اینٹھن سی رہنے لگتی تو بڑے حیران ہوتے۔اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے کہتے کہ کھانا تو میں بیگم سے بھی مزے کا بناتا ہوں مگر کھانے کے بعد بدن میں نہ جانے درد کیوں ہو جاتا ہے۔
بھانجے بھتیجوں میں سے انہیں اپنی بھتیجی زرمینہ بہت پیاری تھی۔ اسلیے کہ وہ انکا بہت خیال رکھتی تھی۔ایک روز وہ کالج سے آئی۔ گرمی کے دن تھے۔ اس روز کالج کے ڈرامے میں حصہ لینے کی وجہ سے وہ بہت تھک گئی تھی۔کالج سے تھک کر وہ نڈھال سی بستر پہ آ کے لیٹی ہی تھی کہ اس کے تابا نے اسے بڑے لاڈ سے پکارا۔ اور اس سے ٹھنڈا ٹھار شربت بنانے کی فرمائش کر دی کوئی اور ہوتا تو وہ فوراً انکار کر دیتی لیکن یہ تو ایک تایاکی اپنی لاڈلی بھتیجی سے فرمائش تھی چنانچہ انکار کی گنجائش نہ تھی۔ بڑی مشکل سے فٹافٹ ایک گلاس شربت بنا کے دیا۔تایا جی گلاس دیکھ کر ہنسے اور گلاس غٹاغٹ ایک ہی گھونٹ میں چڑھا کر بولے لو ایک گلاس سے کیا بنتا ہے میرا جائو جگ بھر کر شربت بنالائو۔ زرمینہ پھر جگ بھر کرمشروب بنا لائی۔ پھر وہیں بیٹھ گئی کہ انہیں کوئی اور چیز نہ چاہیے ہو۔تایا جی جب شربت پی پی کر تھک گئے تو پھر بھی جگ میں ایک گلاس باقی تھا ۔ پیتے کیسے پیٹ میں جگہ ہوتی تو پھر ہی نا۔ اس خیال سے کہ شربت ذائع نہ ہو جائے انہوں نے کمال فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زرمینہ سے بڑے پیار سے کہا لوبیٹا اب یہ شربت تم بھی پی لو۔اسکی امی تنک کر بولیں ، رہنے دیں آپ ہی پیئں یہ تو پیتی رہتی ہے۔ تب زرمینہ نے اورنج اسکویش کا جگ اٹھاتے ہوئے کہا ، رہنے دیں امی میں پی لیتی ہوں تایا جی نے آج پہلی بار تو مجھے کچھ دیا ہے۔ زرمینہ کے بال بڑے اچھے تھے، خوب گھنے اور چمکدار۔تایا جی اپنی تعریف سن کر بہت خوش ہوئے اور اپنے گنج پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔ زرمینہ بیٹی مجھے بھی کوئی گنج پہ بال اگانے والا نسخہ تو بتائو۔ زرمینہ اسے سنہری موقعہ سمجھتے ہوئے جھٹ بولی۔ جی نسخہ تو میں بتائوں گی لیکن آپ یہ بتائیں کہ جب آپ کے گنج پہ بال اگ آئیں گے تو آپ مجھے کیا انعام دیں گے۔ تایا جی پریشا ن ہو کر بولے میرے سے کیا مانگتی ہو جو مانگنا ہے اللہ سے مانگو۔ تب زرمینہ بولی تو پھر تایا جی آپ بھی بال اللہ سے ہی مانگیں۔ یہ کہ کر وہ اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔
زرمینہ اپنے کالج کی سہیلیوں کو روز اپنے تایا جی کے قصے فری ٹائم میں سناتی۔ تایا جی تو اسکی سہیلیوں میں چارلی چپلن سے بھی زیادہ مشہور ہو گئے۔تایا شرافت علی کی آواز میں ایسی گھن گرج تھی کہ جب غصے میں بولتے لوگ سمجھتے جنگ چھڑ گئی ہے۔جبکہ سمجھدار لوگ انکا لال چہرہ اور انگارہ آنکھیں دیکھ کر ہی سمجھ جاتے کہ جنگ کا بگل بجنے والا ہے، چنانچہ جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں ہی اپنی عافیت جانتے۔غصہ کی حالت میں آپکا گورا چہرہ ٹماٹر کی طرح لال، آنکھیں انگاروں کی طرح دہکتی ہوئی اور پیشانی کے ساتھ ملحقہ علاقہ تانبے جیسا سرخ ہو جاتا۔

Check Also

………….میری بات بیچ میں‌رہ گئی

انتخاب عبدہ رحمانی شکاگو تیرے ارد گررد وہ شور تھا ، مری بات بیچ میں ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *



Enable Google Transliteration.(To type in English, press Ctrl+g)

Copy Protected by Chetan's WP-Copyprotect.
%d bloggers like this: