yai bhi pakistan

وہ بھی پاکستان تھا، یہ بھی پاکستان ہے

گورنر جنرل ہاوس میں قائداعظم محمد علی جناح کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس جاری تھا۔ اے ڈی سی نے پوچھا: سر اجلاس میں چائے پیش کی جائے یا کافی؟ چونک کر سر اٹھایا اور سخت لہجے میں فرمایا: یہ لوگ گھروں سے چائے کافی پی کر نہیں آئے کیا؟ اے ڈی سی گھبراگیا۔ آپ نے بات جاری رکھی: جس وزیر نے چائے، کافی پینی ہو وہ گھر سے پی کر آئے یا پھر واپس گھر جاکر پیے، قوم کا پیسہ قوم کے لیے ہے، وزیروں کے لیے نہیں۔اس حکم کے بعد کابینہ کے اجلاسوں میں سادے پانی کے سوا کچھ نہ پیش کیا گیا۔

گورنر جنرل ہاوس کے لیے ساڑھے38 روپے کا سامان خریدا گیا۔ آپ نے حساب منگوالیا۔ کچھ چیزیں محترمہ فاطمہ جناح نے منگوائی تھیں، حکم دیا: یہ پیسے ان کے اکاونٹ سے کاٹے جائیں۔ دو تین چیزیں ان کے ذاتی استعمال کے لیے تھیں، فرمایا: یہ پیسے میرے اکاونٹ سے لے لیے جائیں۔ باقی چیزیں گورنر جنرل ہاوس کے لیے تھیں، فرمایا: ٹھیک ہے یہ رقم سرکاری خزانے سے ادا کردی جائے لیکن آئندہ احتیاط کی جائے۔
برطانوی شاہ کا بھائی ڈیوک آف گلوسٹر پاکستان کے دورے پر آرہا تھا۔ برطانوی سفیر نے درخواست کی کہ آپ اسے ایئر پورٹ پر خوش آمدید کہہ دیں۔ ہنس کر کہا: میں تیار ہوں، لیکن جب میرا بھائی لندن جائے گا تو پھر برٹش کنگ کو بھی اس کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ آنا پڑے گا۔
ایک روز اے ڈی سی نے ایک وزیٹنگ کارڈ سامنے رکھا۔ آپ نے کارڈ پھاڑ کر پھینک دیا اور فرمایا: اس سے کہو آئندہ مجھے شکل نہ دکھائے۔ یہ شخص آپ کا رشتے کا بھائی تھا اور اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنے کارڈ پر نام کے نیچے برادر آف قائداعظم محمد علی جناح گورنر جنرل پاکستان لکھوا دیا تھا۔
زیارت میں سردی پڑ رہی تھی، کرنل الہی بخش نے نئے موزے پیش کردیے۔ دیکھے تو بہت پسند فرمائے۔ ریٹ پوچھا، بتایا: دو روپے۔ گھبراکر بولے: کرنل یہ تو بہت مہنگے ہیں۔ عرض کیا: سر یہ آپ کے اکاونٹ سے خریدے گئے ہیں۔ فرمایا: میرا اکاونٹ بھی قوم کی امانت ہے، ایک غریب ملک کے سربراہ کو اتنا عیاش نہیں ہونا چاہیے۔ موزے لپیٹے اور کرنل الہی بخش کو واپس کرنے کا حکم دے دیا۔
زیارت ہی میں ایک نرس کی خدمت سے متاثر ہوئے اور اس سے پوچھا: بیٹی میں تمھارے لیے کیا کرسکتا ہوں؟ نرس نے عرض کیا: سر میں پنجاب سے ہوں، میرا سارا خاندان پنجاب میں ہے، میں اکیلی کوئٹہ میں نوکری کررہی ہوں، آپ میری تبدیلی پنجاب کرادیں۔ اداس لہجے میں جواب دیا: سوری بیٹی یہ محکمہ صحت کا کام ہے، گورنر جنرل کا نہیں۔
اپنے طیارے میں رائٹنگ ٹیبل لگوانے کا آرڈر دے دیا۔ فائل وزارت خزانہ پہنچی تو وزیر خزانہ نے اجازت تو دے دی لیکن یہ نوٹ لکھ دیا گورنر جنرل اس قسم کے احکامات سے پہلے وزارتِ خزانہ سے اجازت کے پابند ہیں۔ آپ کو معلوم ہوا تو وزارتِ خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کردیا۔
جب قائداعظم گورنر جنرل ہاوس سے نکلتے تھے تو ان کے ساتھ پولیس کی صرف ایک گاڑی ہوتی تھی۔ اس گاڑی میں صرف ایک انسپکٹر ہوتا تھا اور وہ بھی غیر مسلم تھا۔ اور یہ وہ وقت تھا جب گاندھی قتل ہوچکے تھے اور قائداعظم کی جان کو سخت خطرہ تھا۔ قائداعظم اس خطرے کے باوجود سیکورٹی کے بغیر روز کھلی ہوا میں سیر کرتے تھے۔
پھاٹک والا قصہ تو کون نہیں جانتا! گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لیے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا تھا۔ آپ کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا، پھاٹک بند کرانے کا حکم دیا اور فرمایا اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا! یہ آج سے 66 برس پہلے کا پاکستان تھا۔ وہ پاکستان جس کے سربراہ قائداعظم محمد علی جناح تھے۔
آج کا پاکستان
ایٹمی قوت لیکن بجلی، پانی اور گیس سے محروم اور مفلس عوام
آج ہم ترقی کرتے کرتے اس پاکستان میں آگئے جس میں پھاٹک تو ایک طرف رہے سربراہِ مملکت کے آنے سے کئی گھنٹہ پہلے راستے کی سڑکیں بند کردی جاتی ہیں، دونوں طرف کی ٹریفک روک دی جاتی ہے، اور جب تک بلٹ پروف شاہی سواری کا قافلہ مع مسلح حفاظتی گاڑیوں کے نہیں گزرجاتا، ٹریفک نہ ہی کھلتا ہے اور نہ ہی اشارے۔
اللہ کے سوا عوام کا کوئی محافظ نہیں۔ آج روزانہ دسیوں بے گناہ افراد پیشہ ور قاتلوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ ان کو پکڑنے والے اور عوام کو حفظ و امان مہیا کرنے والے ادارے صرف اعلی حکام کی حفاظت کرتے ہیں۔ حفاظت تو دور کی بات ہے، مجرموں کے خلاف ایف آئی آر تک نہیں کاٹتے۔
سربراہِ مملکت وزارتِ خزانہ کی اجازت کے بغیر جلسوں میں کروڑوں روپے کا اعلان کردیتے ہیں۔کروڑوں کی گاڑیاں اور پورے پورے جہاز خرید لیے جاتے ہیں۔ صدور اور وزرائے اعظم کے احکامات پر سینکڑوں لوگ بھرتی کیے جاتے ہیں، اتنے ہی لوگوں کے تبادلے کیے جاتے ہیں۔ پچھلی حکومتوں کے بھرتی شدہ بے شمار لوگ نوکریوں سے نکالے جاتے ہیں۔ لاتعداد من پسند لوگوں کو غیرقانونی طور پر ترقی دی جاتی ہے۔
سرکاری خزانے سے موزے تو رہے ایک طرف، بچوں کے پوتڑے تک خریدے جاتے ہیں۔ آج ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاوس کا بجٹ اربوں میں ہے۔ ایوانِ اقتدار میں عملا بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں، بہنوں، اور خاوند کا راج رہتا ہے۔ دسیوں گاڑیاں وزیراعظم اور صدر کے رشتہ داروں اور احباب کے زیر استعمال رہتی ہیں۔
چائے اور کافی تو رہی دور کابینہ کے اجلاسوں میں انتہائی پرتعیش دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں ہر سال کروڑوں روپے کا صوابدیدی فنڈ دھواں بناکر اڑا دیا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کی وہ ترقی یافتہ شکل ہے جس میں اس وقت کروڑوں مفلس لوگ غربت کی لکیر سے نیچے محروم زندگی بسر کررہے ہیں اور حکمراں طبقے عیاشی کررہے ہیں۔
آج کے پاکستان میں سربراہِ مملکت، وزیراعظم اور دیگر وزرا ماڈرن بلٹ پروف گاڑیوں، ماہر سیکورٹی گارڈز اور انتہائی تربیت یافتہ کمانڈوز کے بغیر دس کلومیٹر کا فاصلہ طے نہیں کرسکتے۔ ہم اس ملک میں مساوات رائج نہیں کرسکے۔ ہم اسے ایک خوددار، باوقار اور ایمان دار قیادت بھی نہیں دے سکے۔
ہم اسے
جدید ترقی یافتہ اور پرامن ملک نہیں بناسکے لیکن ہم اسے واپس 1948 تک تو لے جا سکتے ہیں!
ہم اسے 66 برس پرانا دیانت دار اور کفایت شعار پاکستان تو بنا سکتے ہیں۔
کوئی ہے جو ہم سے یہ ترقی، یہ خوشحالی اور یہ عروج لے لے اور ہمیں ہمارا پسماندہ، غریب اور غیر ترقی یافتہ پاکستان واپس کردے! ہمیں قائداعظم کا پاکستان واپس کردے کہ اس ملک کے 18کروڑ عوام کو 2014 کے بجائے 1948 کا پاکستان چاہیے۔
ارشادِ ربانی
ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعے سے خبردار کردیا کہ اللہ عز و جل کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔ اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ عز و جل نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلط ہوگئی۔ پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔
(سورہ النحل)

محمود عالم صدیق

اپنا تبصرہ بھیجیں