نمازی شہید سے پہلے جنت میں۔۔

نمازی شہید سے پہلے جنت میں۔۔
سید نا ابو ہریرہ روائیت کرتے ہپیں کہ ایک قبیلے کے دو شخص ایک ساتھ مسلمان ہوئے ان میں سے ایک جہاد فی سبیل اللہ میں شہید ہو گیا جبکہ دوسرے صاحب ایک سال بعد فوت ہوئے۔سید نا طلحہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ صاحب جن کا یاک سال کے بعد انتقال ہوا اس شہید سے پہلے جنت میں داخل ہو گئے۔سید نا طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھے بہت تعجب ہوا کہ شہید کا رتبہ تو بہت بلند ہے۔اس لیے جنت میں پہلے اسے داخل ہونا چاہیے تھا۔میں نے صبح خود ہی رسول اللہ سے اس تقدیم و تاخیر کی وجہ پوچھی۔تو آپ صلعم نے فرمایا کیا تم اسکی نیکیاں نہیں دیکھتے کس قدر ذیادہ ہو گئیں؟؟کیا اس نے رمضان کے روزے نہیں رکھے؟اور سال بھر کی فرض نمازوں کی چھ ہزار یا اتنی اتنی رکعتیں ذیادہ نہیں پڑہیں؟
یہ دونوں صحابی مہاجرین میں سے تھیاور انہوں نے اکٹھے ہجرت کی تھی۔جہاد وغیرہ اور دیگر اعمال صلحہ میں یہ دونوں یکساں شریک تھے۔ان میں سے ایک میدان جہاد میں شہید ہو گیا اور دوسرا اعمال صالح اور جہاد کی تیاری میں مصروف رہا۔چونکہ حدیث میں آیا ہے کہ مراتب کا عمل جاری رہتا ہیلہٰذا یہ اپن بھائی سے بڑھ گیا جو پہلے شہی دہو اتھا۔
صحی البخاری الجھاد

اپنا تبصرہ بھیجیں