عصمت چغتائی کا تبصرہ منٹو پر

 

عصمت چغتائی کا تبصرہ منٹو پر

انتخابب طاہر نقوی

میں اور منٹو اگر پانچ منٹ کے ارادے سے بھی ملتے تو پانچ گھنٹے کا پروگرام ہو جاتا۔ منٹو سے بحث کرکے ایسا معلوم ہوتا جیسے ذہنی قوتوں پر دھار رکھی جا رہی ہو۔ جالا صاف ہو رہا ہے۔ دماغ میں جھاڑو سی دی جارہی ہے۔ اور بعض وقت بحثیں اتنی طویل اور گھمن دار ہوجاتیں کہ ایسامعلوم ہوتا  بہت سے کچے سوت کی پونیاں الجھ گئی ہیں اور واقعی سوچنے سمجھنے کی قوت پر جھاڑو پھر گئی ہے ۔مگر دونوں بحثے جاتے الجھتے جاتے۔ بد مزگی پیدا ہونے لگتی۔ مجھے تو اپنی شکست چھپانے کا ملکہ تھا مگر منٹو بالکل روہانسا ہوجاتا۔ آنکھیں مور پنکھیوں کی طرح تن کر پھیل جاتیں۔ نتھنے پھڑکنے لگتے۔ منہ کڑوا کسیلا ہو جاتا اور جھنجھلا کر اپنی حمایت میں شاہد لطیف کو پکارتا اور جنگ  ادب یا فلسفہ سے پلٹ کر گھریلو صورت اختیار کر لیتی۔ منٹو بھنا کر چلا جاتا۔ شاہد مجھ سے لڑتے کہ تم میرے دوستوں سے اتنی بد تمیزی سے کیوں باتیں کرتی ہو۔ منٹو آج خفا ہو کر گیا ہے۔ اب وہ ہمارے ہاں نہیں آئیگا اور نہ میری ہمت ہے کہ میں اسکے ہاں جاں۔ وہ بد تمیز آدمی ہے۔ کچھ کہہ بیٹھے گا تو میری اسکی پرانی دوستی ختم ہو جائیگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن صبح لڑائی ہوتی اور اتفاق سے شام کو پھرملاقات ہو جاتی تو وہ اس قدر جوش سے ملتا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، ویسے ہی گھل مل کر باتیں ہوتیں۔                                                                                                            عصمت چغتائی __._,_.___

اپنا تبصرہ بھیجیں