swedish research alcohal

سویڈن میں الکوحل کے مشروبات پر تحقیق

سٹاک ہوم(رپورٹ : عارف کسانہ) سویڈن کے معروف طبی ماہرین نے واضع کیا ہے کہ الکوحل والے مشروبات سے تمام قسم کے کینسر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ان مشربات کے استعمال کو کم کرنے کے لیے اس پر ٹیکس میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیا میں اس کے اشتہارات پر پابندی عائد کی جائے۔ یہ انتباہ سویڈن کی سب سے بڑی میڈیکل یونیورسٹی کارولنسکا انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر ڈاکٹرسوین اندرشون ، پروفیسر ڈاکٹر پیٹر آلے بیک اور شالگرین اکیڈمی گوتھن برگ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر پیٹر فری برگ نے کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ گذشتہ پانچ سال میں سویڈن میں الکوحل والے مشروبات کی اشتہاری مہم میں تین سو فی صد اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی شراب نوشی کی اس قدر زیادہ نقصانات ہیں کہ اس اشتہاری مہم کو بند ہونا چاہیے۔ طبی ماہرین نے حکومت یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ عام جگہوں پر شراب نوشی پر پابندی ہونی چاہیے اور شراب کی درآمد کے قوانین کو سخت بنایا جائے۔ میڈیا کو یہ اجاگر کرنا چاہیے کہ شراب نوشی کی وجہ سے بڑی آنت اور چھاتی کے سرطان کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ میڈیکل ریسرچ کے مطابق تمباکو کے بعد شراب سرطان پیدا کرنے والا دوسرا فیکٹر ہے۔ ورلڈ کینسر رپورٹ 2014 کے مطابق شراب نوشی کی وجہ سے تمام قسم کے کینسرکے امکانات پانچ فی صد بڑھ جاتے ہیں۔ طبی ماہرین نے کہا کہ یہ اکثر کہا جاتا ہے کہ الکوحل والے مشروبات دل اور دوران خون کے لیے بہتر ہیں مگر شراب نوشی کا کینسر سے جو گہرا تعلق ہے میڈیا کو اس کو بھی اجاگرکرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں